بھارتی وزیر خارجہ کا مسئلہ کشمیر اٹھانے والی بھارتی نژاد امریکی رکن کانگریس سے ملنے سے انکار

بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر سبرامنیم جے شنکر نے بھارتی نژاد امریکی رکن کانگریس پرمیلا جے پال سے اپنی مقررہ ملاقات منسوخ کردی۔ پرمیلا جے پال نے ایوان نمائندگان میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک قرار داد پیش کی ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹرسبرامنیم جے شنکر ان دنوں بھارت امریکا ‘ٹو پلس ٹو فورم‘ کی سالانہ میٹنگ میں شرکت کے لیے واشنگٹن میں موجود ہیں۔ جہاں امریکی کانگریس کے ایک وفد کے ساتھ ان کی ملاقات طے تھی۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے ‘اچانک‘ یہ ملاقات اس لیے منسوخ کردی کیونکہ بھارتی نژاد رکن کانگریس پرمیلا جے پال بھی اس وفد میں شامل تھیں، جنہوں نے کشمیر میں بھارتی حکومت کے اقدامات کی نکتہ چینی کی ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارہ اے این آئی کے مطابق وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا ”مجھے ان(پرمیلا جے پال) سے ملاقات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ان کی رپورٹ میں جموں و کشمیر کی صورت حال کو مناسب طریقے سے سمجھا گیا ہے یا اس میں بھارت سرکار کے اقدامات کو درست طریقے سے بتایا گیا۔ مجھے صرف ایسے لوگوں سے بات کرنے میں دلچسپی ہے جو معروضی انداز میں سوچتے ہیں اور کھلے ذہن سے بات چیت کرتے ہیں لیکن ایسے لوگوں سے بات چیت نہیں کرنا چاہتا جنہوں نے پہلے سے اپنا ایک ذہن بنارکھا ہے۔”

پرمیلا جے پال نے بھارتی وزیر خارجہ کے اس اقدام پر سخت افسوس اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹوئیٹ کیا ”اس میٹنگ کی منسوخی انتہائی افسوس ناک ہے۔ اس فیصلے سے اس یقین کو ہی مزید تقویت ملتی ہے کہ بھارتی حکومت کسی بھی طرح کے اختلاف رائے کو سننے کی متحمل نہیں ہے۔”

خیا ل رہے کہ پرمیلا جے پال نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کردینے کے بعد کشمیر میں گذشتہ پانچ اگست سے جاری پابندیوں کو ہٹانے کے لیے امریکی کانگریس میں ایک قرار داد پیش کر رکھی ہے۔ جے پال نے اپنی اس قرارداد میں مطالبہ کیا ہے کہ بھارت سرکار جتنا جلد ممکن ہو گرفتار کئے گئے لوگوں کو رہا کرے اور کشمیر میں مواصلات کو بحال کرے۔

بھارتی نژاد امریکی رکن کانگریس نے اپنی قرار داد میں کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے لوگوں کو رہا کرنے کے لیے بھارت سرکارکو سخت شرائط نہیں رکھنی چاہیے۔ انہیں رہا کرنے کے لیے جس طرح ضمانتی بانڈز پر دستخط کرائے جارہے ہیں، ان میں تقاریر اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کی شرط شامل نہیں کی جانی چاہیے۔ علاوہ ازیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لوگوں کو متعدد شرائط ماننے کے بعد ہی رہا کیا جارہا ہے۔ جس میں رہائی کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لینے کی بات بھی شامل ہے۔

بھارت کے سابق نائب وزیر خارجہ اور کانگریس کے رکن پارلیمان ششی تھرور نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی امریکی رکن کانگریس پرمیلا جے پال سے ملاقات کی منسوخی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایک ٹوئیٹ میں کہا ”یہ بھارت جیسی عظیم جمہوریت کے لیے بالکل نامناسب بات ہے۔ مجھے یقین نہیں ہورہا ہے کہ سفارتی تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر ایس جے شنکرکسی ناقد کے ساتھ بات چیت کرنے سے انکار کرسکتے ہیں۔ خواہ آپ ان سے اتفاق کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ کسی کے ساتھ بھی بحث و مباحثہ کرسکتے ہیں۔ اختلاف کو برداشت نہیں کرنا دراصل بی جے پی کاسیاسی نظریہ ہے۔”

دریں اثناء بھارتی وزارت خارجہ کے افسران نے کہا ہے کہ پانچ اگست 2019ء کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کیے جانے کے بعد سے ہی بھارت مسلسل امریکا کے رابطہ میں ہے۔ امریکاچاہتا ہے کہ بھارت کشمیر میں جلد سے جلد سیاسی عمل شروع کرے اور وہاں نظر بند اور قید سیاسی رہنماؤں کو رہا کرے۔

جب کشمیر کے حوالے سے امریکی وزارت خارجہ کی تشویش کے بارے میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار سے پوچھا گیا توان کا کہنا تھا ”ٹوپلس ٹو مذاکرات میں یہ معاملہ نہیں اٹھایا گیا تھا۔‘‘