وزارت داخلہ کے ماتحت اداروں‌کی بغیر اجازت میڈیا سے بات کرنے پر پابندی عائد

پاکستان کی وزارت داخلہ نے ماتحت اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ نہ صرف میڈیا سے بات چیت نہیں کریں گے بلکہ کسی بھی سرکاری سرگرمی سے متعلق کوئی بھی معلومات یا مؤقف سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ نہیں کریں گے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی پولیس اسلام آباد، چیئرمین سی ڈی اے، چیئرمین نادرا، میئراسلام آباد اور ڈی جی ایف آئی اے سمیت 22 اداروں کے سربراہان کو یہ ہدایت نامہ بھیجا گیا ہے۔

ہدایت نامے میں لکھا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کی جانب سے ہدایت کی جاتی ہے کہ کوئی افسر یا حکام پرنٹ یا الیکٹرونک میڈیا یا کسی بھی ذرائع ابلاغ سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کریں گے۔ حکام سرکاری معلومات، مؤقف یا تبصرہ سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں کریں گے۔

اگر میڈیا میں کوئی چیز دینا لازم ہو تو اس کے لیے وزارت داخلہ یا متعلقہ ادارے کے سربراہ سے تحریری اجازت لینا ہوگی۔

اردو نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر متحرک ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقت سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انھیں سرکاری طور پر اس نوٹیفکیشن بارے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

حمزہ شفقت نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے آج جمعہ کے دن صرف ایک ٹویٹ کیا جس میں کسی صارف کے سوال کا جواب دیا گیا ہے۔

حمزہ شفقت سوشل میڈیا پر اپنی سرکاری مصروفیات اور غیر معمولی دنوں میں عوام کو آگاہی دینے کے لیے معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں۔

گذشتہ دنوں اسلامی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ہونے والے واقعہ کے حوالے سے بھی ڈی سی اسلام آباد نے تمام صورت حال سے آگاہ رکھا تھا۔

اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام ف کے دھرنے کے دنوں میں ڈی سی اسلام آباد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے شہریوں کو ٹریفک پلان سے مسلسل آگاہ رکھا جسے جڑواں شہروں کے عوام نے سراہا تھا۔

انھیں دیکھ کر نہ صرف وفاقی دارالحکومت بلکہ راولپنڈی پولیس کے افسران نے بھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹس بنا لیے تھے اور وہ عوام کو وقتاً فوقتاً آگاہی دیتے رہتے تھے۔

ذرائع کے مطابق اعلیٰ افسران کو ہر ٹویٹ سے پہلے اپنے سینئر سے منظوری لینا ہو گی۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: