فاروق حیدرنے سازش سے پردہ اٹھایا، معاہدہ کراچی کے خاتمے کا مطالبہ خوش آئند ہے، صابر کشمیری ایڈووکیٹ

چیئرمین جے کے ایل ایف (رؤف) اور ڈسٹرکٹ بار راولاکوٹ کے سابق صدر سردار صابر کشمیری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے آخری وزیراعظم ہونے کا بیان دے کر اس سازش سے پردہ اٹھایا ہے جس سے ہم بار بار قوم کو باخبر کر رہے تھے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ نام نہاد آزاد کشمیر کی روایتی تنظیمیں اور کچھ پردہ نشین ریاست جموں کشمیر کی مستقل تقسیم کے گھناؤنے منصوبے کا حصہ ہیں۔

ان حالات میں ماسوائے پیپلز نیشنل الائنس کوئی بھی ریاستی وحدت کی بحالی کی جدوجہد کرنے کو تیار نہیں۔ آزاد کشمیر بار کونسل اور تمام بار ایسوسی ایشنز کو ریاستی تقسیم کے منصوبوں کے خلاف تحریک کا اعلان کرنا چاہئے۔

راجہ فاروق حیدر کا معاہدہ کراچی کے خاتمے کا مطالبہ خو ش آئند ہے امید ہے فاروق حیدر اپنے بیان پر قائم رہتے ہوئے سازشی عناصر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ چوراسی ہزار چار سو اکہتر مربع میل پر مشتمل ریاست جموں کشمیر ناقابل تقسیم وحدت ہے جے کے ایل ایف ریاستی تقسیم کی سازشوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوگی۔ پاکستانی عوام اور سول سوسائٹی اپنی حکومت اور اداروں کو مجبور کریں کہ وہ گلگت بلتستان ٗ آزاد کشمیر پر مشتمل نمائندہ انقلابی حکومت کا اسلام آباد میں سفار تخانہ قائم کر کے ہندوستان کے توسیعی پسندانہ عزائم کو خاک میں ملا دے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے خبردار کیا کہ ریاستی تقسیم کے منصوبے علاقائی امن پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔ ریاست جموں کشمیرکی وحدت کی بحالی قومی آزادی کی تحریک میں لاکھوں شہداء کا مقدس لہو شامل ہے۔ یہ قربانیاں جدوجہد آزادی کی کامیابی کی ضامن ہیں کنٹرول لائن مستقل سرحد بنا کر تجارت کے خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آزادی پسند اتحاد پیپلز نیشنل الائنس کے علاوہ تقریباً سبھی جماعتیں ریاستی تقسیم کا حصہ بن چکی ہیں۔ ان حالات میں وکلاء پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے اپنا موثر اور تاریخی رول ادا کرے۔

صابر کشمیری نے کہا کہ پاکستان میں عمران نیازی کی حکومت اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے ریاست جموں کشمیر کی تاریخ گواہ ہے کہ صدیوں کی غلامی کے باوجود یہاں آزادی کی تحریک چلتی رہی اب پاکستانی حکومت کے انڈیا کا ہمنوا بننے کے باوجود قومی آزادی کی تحریک چلتی رہے گی لیکن اہل پاکستان کو موجودہ حکومت کی ہندوستاندوستی اور کشمیر دشمنی کی قیمت بنجر زمینوں کی صورت چکانی پڑے گی۔

اس موقع پر انہوں نے ریاست جموں کشمیر کے باسیوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہ و کر قابضین کی جانب سے ریاست جموں کشمیر کی تاریخی شناخت اور جغرافیہ مٹانے کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے بھرپور جدوجہد کا آغاز کریں۔ پی این اے بہت جلد ریاستی تقسیم کے منصوبوں کے خلاف جاندار تحریک کا اعلان کرے گا۔ جے کے ایل ایف قومی اتحاد کے لئے کوشاں ہے اور پی این اے کے پلیٹ فارم کو مضبوط کرتے ہوئے قومی آزادی کی منزل کی طرف پیش قدمی جاری رکھے گا۔