پنجاب یونیورسٹی کے طالبعلم عالمگیر وزیر لاپتہ، طلبہ تنظیموں کا فوری بازیابی کا مطالبہ

پنجاب یونیورسٹی میں‌زیر تعلیم سابقہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے طالبعلم عالمگیر وزیر گزشتہ روز اچانک لاپتہ ہوگئے، پنجاب یونیورسٹی کے باہر طلبہ نے انکے لاپتہ ہونے کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا اورانکی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے.

ملک بھر کی ترقی پسند طلبہ تنظیموں‌نے بھی عالمگیر وزیر کو لاپتہ کئے جانے کی شدید الفاظ میں‌مذمت کرتے ہوئے فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے.

طلبہ ایکشن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مزمل خان کے مطابق عالمگیر وزیر پنجاب یونیورسٹی میں‌ہفتہ کی سہ پہر تین بجے تک موجود رہے، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے ، انکا موبائل بھی بند ہے. پولیس اور سکیورٹی ادارے اس سے متعلق کوئی بات نہیں‌بتا رہے ہیں. انہو‌ں نے کہا کہ عالمگیر وزیر کی بازیابی تک احتجاج جاری رکھیں‌گے، اس طرح‌کے ہتھکنڈوں‌سے طلبہ حقوق کی جدوجہد سے پیچھے نہیں‌ہٹیں‌گے.

واضح رہے کہ عالمگیر وزیر کا تعلق فاٹا سے ہے اور وہ پنجاب یونیورسٹی میں‌زیر تعلیم ہیں، انتیس نومبر کو ملک بھر میں‌ہونے والے طلبہ یکجہتی مارچ میں‌وہ بھی شریک تھے، انہوں نے لاہور میں‌ احتجاجی ریلی کے شرکاء سے خطاب بھی کیا اور فاٹا میں‌سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں‌کی پشت پناہی ، قدرتی وسائل کی لوٹ مار اور سکیورٹی کے نام پر لوگوں‌کو لاپتہ کرنے جیسے مسائل کا ذکر کیا تھا، انہوں‌نے سکیورٹی فورسز کو شدید تنقید کانشانہ بنایا تھا، جس کی وجہ سے یہ تاثر لیا جا رہا ہے کہ عالمگیر وزیر کو سکیورٹی اداروں‌کی طرف سے اغواء کیا گیا ہے. تاہم سکیورٹی فورسز یا پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی معلومات شیئر نہیں‌کی گئی ہے.

دوسری طرف جموں‌کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر ابرار لطیف، سیکرٹری جنرل یاسر حنیف، ایڈیٹرعزم التمش تصدق اور دیگر رہنمائوں‌نے عالم گیروزیر کی گمشدگی کی شدید مذمت کرتے ہوئے انکو فی الفور بازیاب کروانے کا مطالبہ کیا ہے.

ایک تحریری بیان میں‌ان رہنماؤں نے کہا کہ طلبہ یکجہتی مارچ نے حکمرانوں کی نیندیں اڑا دی ہیں، ایسے اوچھے ہتھکنڈے طالب علموں اور نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے شعور سے خوف کا اظہارِ ہے.پشتون عوام اور نوجوانوں سے ناروا سلوک کیا جانا مظلوم پشتونوں کو نسل پرستی کی طرف دھکیلنے کی ریاستی سازش ہے. حکمران طبقہ ہمیشہ نوجوانوں اور محنت کشوں کی تحریک کو کچلنے کے لیے نسلی امتیاز اور مذہبی تعصب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے.

انہوں‌نے کہا کہ مفت تعلیم کی مانگ پر نوجوانوں کو لاپتہ کرنے والے آئین پاکستان کے تحت غدار ہیں کیونکہ ریاست آئینی طور پر ہر شہری کو مفت تعلیم اور روزگار فراہم کرنے کی پابند ہے.پھر بنیادی حقوق کی مانگ کو جرم کیوں تصور کیا جاتا ہے.جے کے این ایس ایف مطالبہ کرتی ہے عالمگیر وزیر کو فی الفور بازیاب کیا جائے اور دیگر طالب علموں جن کو طلبہ یکجہتی مارچ کی تیاریوں میں شرکت کی بنا پر تعلیمی اداروں سے بے دخل کیا گیا ان کو داخل کیا جائے.

بلوچستان میں یونیورسٹی طالبات سے جنسی زیادتی اور بلیک میلنگ میں شریک یونیورسٹی انتظامیہ کے افسران اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کو منظر عام پر لایا جائے اور سخت سزائیں دی جائیں. طلبہ و طالبات اب مزید ظلم ہرگز برداشت نہیں کریں گے. ریاست نے طالب علموں کی طرف اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو جلد جے کے این ایس ایف دیگر ترقی پسند طلبہ تنظیموں سے مل کر ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی. ہماری جدوجہد طبقاتی نظام تعلیم اور طبقاتی سماج کے خلاف ہے. جس نے مزور کے بچوں کو تعلیم سے محروم کر رکھا ہے اور خود مزدور کو زندگی اور زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا ہے.

AlamgeerWazir Speech On The Eve Of Students Solaridity March Lahore…..

Posted by Shoaib Mahsood on Friday, November 29, 2019

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: