بھارتی زیر انتظام جموںکشمیر میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے عسکریت پسند رہنما و متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین اور دیگر رہنماؤں کے خلاف فنڈنگ کے معاملے میں منسلک سات املاک کو ضبط کر لیاہے۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق یہ املاک اننت ناگ، سوپور اور بانڈی پورہ میں واقع ہیں۔ اتھارٹی کے احکامات کی تصدیق کے بعد ای ڈی کے عہدیداروں نے ان علاقوں کا دورہ کیا اور نوٹس جاری کیے جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ ایجنسی نے املا ک کو ضبط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق قانون کے تحت ای ڈی نے ایک کشمیری تاجر محمد شفیع شاہ اورکے علاوہ چھ حریت پسندوں کی 13 املاک کو عارضی طور پر ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
یہ کارروائی این آئی اے کی جانب سے ان کے خلاف دائر چارج شیٹ کی بنیاد پر کی گئی۔
ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محمد شفیع شاہ اور دیگر ملزمان طالب لالی، مظفر احمد ڈار اور مشتاق احمد لون تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
جبکہ سید صلاح الدین عرف یوسف شاہ پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر سے ہوکر بھارتی زیر انتظام جموںکشمیرمیں عسکری کارروائیاںکرنیوالی تنظیموںکے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ ہیں اور خود جماعت اسلامی کے عسکری ونگ حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر بھی ہیں.
صلاح الدین عرف یوسف شاہ طویل عرصہ سے پاکستان میںہی مقیم ہیں، نوے کی دہائی میںبھارتی زیر انتظام جموںکشمیر میںاسمبلی انتخابات میںحصہ لینے اور بھارتی فوجی مداخلت کے ذریعے شکست کھانے کے بعد انہوںنے عسکریت کا راستہ اپنایا تھا. اورپاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر سے جماعت اسلامی کے عسکری ونگ حزب المجاہدین کی قیادت کرتے ہوئے بھارتی زیر انتظام جموںکشمیر میںنوجوانوںکو تربیت فراہم کرنے کے بعد بھارتی فوج سے لڑنے کےلئے بھیجنے والے صف اول کے رہنماؤں میں شامل رہے ہیں.












15 تبصرے “بھارت نے حزب کمانڈر سید صلاح الدین سمیت سات افراد کی جائیدادیں ضبط کر لیں”