ڈیجیٹل انڈیا :بھارت میں موبائل فون کے صارفین کی تعداد کم ہورہی ہے

بھارت کی بڑی کمپنیوں ایرٹیل اور ووڈافون آئیڈیا کا محصولات میں اضافے کا فیصلہ ہندوستان کے ڈیجیٹل روڈ میپ کے مستقبل کے لئے بری خبر ہے۔ دونوں آپریٹرز مل کر بھارت کے موبائل صارفین کے تقریبا 60 فیصد حصے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ محصولات میں اضافے سے نہ صرف لاکھوں موجودہ صارفین متاثر ہوں گے بلکہ نئے صارفین کے اضافے کا عمل بھی سست ہو جائے گا۔

بھارت کی تقریبا 55 فیصد آبادی کو ابھی تک ڈیٹا سروسز کا تجربہ نہیں ہے۔ ان صارفین میں سے بیشتر دیہی یا معاشی طور پر پسماندہ علاقوں میں ہیں ۔
ایک نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق ٹیرف میں اضافے کا اثر 2 جی طبقہ میں پہلے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ جو صرف وائس سروسز استعمال کر تے ہیں۔پچھلے چھ ماہ کے دوران دیہی علاقوں میں موبائل استعمال کرنے والوں کی تعداد میں مستقل کمی واقع ہوئی ہے۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹرائی)کے پاس دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ، دو کروڑ موبائل فون صارفین نے دسمبر 2018 سے جون 2019 کے درمیان اپنے کنکشن ختم کروائے ہیں۔

بڑھتے ہوئے نقصانات اور قرضوں کے بھاری بوجھ کا سامنا کرتے ہوئے ، موبائل آپریٹرز پر دباؤ پڑا ہے کہ وہ اپنی کمائی میں بہتری لائیں یا سروس بند کریں۔ بہت سے موجودہ آپریٹرز نے کم قیمت والے ری چارج کوپنز واپس لے لئے ہیں۔ کچھ معاملات میں ، کم از کم ریچارج کی ضرورت تین گنا بڑھ چکی ہے۔

ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق تقریبا 1.3 لاکھ کروڑ ڈالر کے لائسنس فیس واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد آپریٹرز ڈیٹا ٹیرف میں بھی اضافہ کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے براڈبینڈ سروس اکثربھارتیوں کی پہنچ سے بالاتر ہو جائے گی۔

آپریٹرز کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے بھارتی حکومت کو جلد قدم اٹھانا ہوگا۔ ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق آپریٹرز اپنی سالانہ آمدنی کا تقریبا 30 فیصد حکومت کو محصول اور ٹیکس کی شکل میں ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لیویزغیر ضروری ہیں ، کیوں کہ وہ اس پالیسی کا تسلسل ہیں جس میں صارفین کو معیار ی اسپیکٹرم دیا گیا تھا۔

بھارتی صارفین ہمیشہ میں سب سے سستے نرخوں کا لطف اٹھاتے رہے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر پر مالی دباؤ کو دور کرنے کے لئے بھارتی حکومت امدادی پیکیج فراہم کرے۔ بصورت دیگر ، صارفین سب سے زیادہ خسارے میں ہوں گے۔