چین کی مسلمان خواتین چینی افسران کےساتھ ایک ہی بستر پر سونے پر مجبور

چینی حکومت کے ’جڑ جاؤ ایک خاندان کی طرح‘ پروگرام کے تحت چینی اہلکار اویغور افراد کے گھروں میں کھاتے پیتے ہیں، حتیٰ کہ اپنے میزبانوں کے ساتھ ان کے بستر پر سوتے بھی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق چین میں اپنے شوہروں کی حراستی کیموں میں قید کے بعد مسلمان خواتین اپنے گھروں کی نگرانی پر مامور پولیس افسران کے ساتھ ایک ہی بستر پر سونے پر مجبور ہیں۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی میں ذرائع نے نشریاتی ادارے ’ریڈیو فری ایشیا‘ (آر ایف اے) کو بتایا کہ کمیونسٹ پارٹی کے کارکن اویغور کمیونٹی کے افراد کے ساتھ نگرانی کے دوروں کے دوران ایک ہی بستر پر سوتے ہیں۔ ایسے دورے ایک ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں۔

نگرانی کی یہ قسم جبر پر مبنی اس منظم مہم کا حصہ ہے جو چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں مسلمان اقلیت کے خلاف جاری ہے۔ ماہرین اور انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ اویغور، جن میں اکثریت مردوں کی ہے، ریاست کی جانب سے قائم کردہ حراستی مراکز میں بند ہیں جنہیں حکومت تربیتی کیمپ کہتی ہے۔

جن لوگوں کو ابھی تک حراست میں نہیں لیا گیا ان کو مختلف اقسام کے سخت مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جن میں مسلح چیک پوسٹوں پر تلاشی، شناختی کارڈ دکھانے اور گلیوں میں نصب چہروں سے شناحت کرنے والے کیمروں کے سامنے گزرنا شامل ہے۔

گذشتہ سال کے اوائل سے سنکیانگ میں موجود اویغور خاندانوں پر یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ سرکاری حکام کو اپنے گھر کے اندر آنے کی دعوت دیں اور انہیں اپنی زندگی اور سیاسی نظریات سے متعلق معلومات فراہم کریں اور ان اہکاروں کے دیے گئے سیاسی مشورے پر عمل کریں۔

چین نے صوبے میں اکثریتی ہان برادری سے تعلق رکھنے والے دس لاکھ جاسوس تعینات کیے ہیں کہ وہ ہر دو ماہ بعد ایغور افراد کے ساتھ ان کے گھر میں رہیں۔ اس پروگرام کو ’ایک خاندان کی طرح جڑ جاؤ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے ایک عہدیدار نے آر ایف اے کو بتایا کہ ان دوروں کے دوران یہ افسران جن کو حکومت کی جانب سے زیر نگرانی خاندانوں کا ’عزیز‘ قرار دیا جاتا ہے، اسی گھر میں کام کرتے ہیں، وہیں کھاتے پیتے ہیں، حتیٰ کہ اپنے ’میزبانوں‘ کے ساتھ ان کے بستر پر ہی سوتے ہیں۔

ینگیسار کے علاقے میں 70 سے 80 خاندانوں کی نگرانی پر مامور ان عہدے داروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا: ’یہ افراد اپنے ’رشتہ داروں‘ کے ساتھ دن رات رہتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا: ’عام طور پر ایک یا دو افراد ایک بستر پر سوتے ہیں لیکن اگر ٹھنڈ زیادہ ہو تو تین لوگ بھی ایک ساتھ سوتے ہیں۔‘

عہدیدار نے ان جاسوسوں کو اویغور خاندانوں کا ’معاون‘ قرار دیا جو ’ان کے نظریات، خیالات اور زندگی کے بارے میں ان کی مدد کرتا ہے‘ اور ’اسی دوران ان کے دل میں ایک دوسرے کے لیے احساس بھی پیدا ہو جاتا ہے۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے علم میں کبھی نہیں آیا کہ کسی معاون نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی زیر نگرانی فرد کا جنسی استحصال کیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین کے لیے یہ عام سی بات ہے کہ وہ کسی ایسے مرد رشتہ دار کے ساتھ ایک ہی بستر پر سو سکیں جو ان کے ساتھ رہ رہا ہو۔‘

حکومت اس پروگرام کو رضاکارانہ قرار دیتی ہے لیکن چینی مسلمان اچھی طرح جانتے ہیں کہ ریاست کے کسی ایسے اقدام کو ماننے سے انکار کرنے پر ان کو انتہا پسند قرار دیے جانے کا خطرہ ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ نئے ’رشتہ دار‘ اویغور برادری کی شادیوں، جنازوں اور دوسری تقریبات میں شریک ہیں جو اس سے قبل نجی اور مخصوص سمجھی جاتی تھیں۔

ینگیسار کی مقامی کمیٹی کے سربراہ نے آر ایف اے کو تصدیق کی کہ مرد نگران اپنے دوروں کے دوران اویغور خواتین کے ساتھ ہی سوتے ہیں۔ ان کے مطابق نگرانوں کے لیے رات کے دوران اپنے ’میزبانوں‘ سے ایک میٹر کا فاصلہ قابل قبول تسلیم کیا گیا تھا اور ابھی تک کسی نے اس حوالے سے شکایت نہیں کی۔

انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اویغور خاندانوں کو ان دوروں سے انکار کی گنجائش نہیں دی جاتی۔ ’یہ زبردستی مسلط کی جانے والی دخل اندازی کی ایک مثال ہے جو نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس علاقے کے لوگوں میں غصے کو بڑھاوا دے سکتی ہے۔‘

ادارے کی سینئیر چینی محقق مایا وانگ نے کہا: ’سنکیانگ میں مسلمان خاندان اپنے ہی گھروں کے اندر رہتے ہوئے حکومتی نگرانی میں کھا پی اور اور سو رہے ہیں۔‘

جلا وطن تنظیم ’ورلڈ اویغور کانگریس‘ کے ترجمان پیٹر اروین نے ’دی انڈپینڈنٹ‘ کو بتایا: ’یہ پروگرام چین میں مسلمانوں کے خلاف جبر کا تسلسل ہے۔ یہ نجی زندگی اور معاشرتی زندگی کے درمیان موجود فرق کو مٹا رہا ہے۔ چینی مرد افسروں کا گھروں کے اندر رہنا نئی بات نہیں لیکن یہ لوگوں پر ہر ممکن حد تک نظر رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہ اویغوروں افراد کی شناخت ختم کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ کھل کر اپنی رائے کا اظہار نہ کر سکیں۔‘

اروین کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ نگرانی کے دوروں کے دوران اہلکاروں کا اویغور خاندانوں کے ساتھ ایک ہی بستر پر سونا چینی حکومت کی حکمت عملی ہے لیکن ’ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے اور اس حوالے سے رپورٹیں ملتی رہی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’دنیا کے کسی اور ملک میں ہم اس کو پاگل پن سمجھتے لیکن چین میں یہ حکمتِ عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے جو دو تین سالوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ لوگوں کی نگرانی کرنا اہم ہو سکتا ہے لیکن ایک ہی بستر پر سونے کو بطور حکمت عملی استعمال کرنا اس سے ایک قدم آگے ہے جو ہم نے پہلے کہیں نہیں دیکھا۔‘

چین کا کہنا ہے کہ ان دوروں کا مقصد ’نسلی ہم آہنگی کو فروغ ‘ دینا ہے جس دوران ان خاندانوں کو چینی مینڈرن زبان اور کمیونسٹ پارٹی کے گیت سکھانے کے علاوہ دیگر سرگرمیوں میں شرکت کی تلقین کی جاتی ہے جبکہ گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹایا جاتا ہے۔

حکومت کی جانب سے سنکیانگ کے مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے کریک ڈاؤن کو ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا نام دیا جاتا ہے جو 2014 میں انتہا پسندوں کے حملوں کے بعد شروع کی گئی ہے۔ چینی حکومت کی جانب سے پہلے حراستی مراکز کی موجودگی سے انکار کے بعد اب ان مراکز کو رضاکارانہ ’تربیتی کیمپ‘ قرار دیا جاتا ہے۔

لیکن ان کیمپوں کے سابقہ قیدی الزام عائد کرتے ہیں کہ وہاں موجود زیر حراست افراد کو تشدد، سائنسی تجربات اور گینگ ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں برطانیہ سمیت 22 ممالک نے چین کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے جبر و ستم کی مذمت کی ہے اور چین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کا احترام کرے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: