’پاکستان میں انٹرنیٹ آزاد نہیں‘:‌مستقبل میں مزید سختیوں‌ کا امکان

‘دی فریڈم ہاؤس‘ کے مطابق پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں عوام کو انٹرنیٹ پابندیوں کا سامنا ہے۔ ڈیجیٹل رائٹس کے ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ حقوق سے متعلق پاکستانی صارفین کو مزید سختیوں کا سامنا رہے گا۔

‘فریڈم آن دی نیٹ‘ نامی اس رپورٹ میں سال 2019 میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق مختلف ممالک کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں حکومت انتخابات، احتجاجی مظاہروں اور مذہبی اور قومی تعتیلات کے دوران سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اکثر انٹرنیٹ کی سہولت بند کر دیتی ہیں۔ 2018ء کے انتخابات کے دوران بلوچستان کے کچھ حصوں اور قبائلی علاقہ جات میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند تھا۔ اسی سال جولائی میں مسلم لیگ ن کے رہنما نواز شریف کی لاہور آمد کے دوران بھی شہر میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اسی طرح کئی مواقعوں پر پاکستانی شہریوں کے لیے انٹرنیٹ بند رہا۔

پاکستان میں میڈیا حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ‘میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی‘ کی شریک بانی صدف بیگ کہتی ہیں کہ پاکستان میں آج ان خبروں اور تجزیوں کے لیے فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب کا استعمال بڑھ گیا ہے جنہیں ٹی وی چینلز پر دکھانے پر پابندی عائد ہے۔ صدف کا کہنا ہے،”صحافی اور عام شہری بھی سوشل میڈیا کو سیاسی رائے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور طاقت ور عناصر اسے پسند نہیں کرتے اور اسی لیے انٹرنیٹ کا کنٹرول بڑھ رہا ہے۔‘‘ گزشتہ حکومت نے سائبر کرائم بل کے ذریعے آن لائن آزادیء رائے کو محدود کر دیا تھا۔ صدف کے مطابق اب اس قانون کے محرکات واضح ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ” خدشہ ہے کہ انٹرنیٹ فریڈم انڈیکس میں پاکستان مزید گرے گا۔‘‘

فریڈم ہاؤس کی رپورٹ کے لیے پاکستان سے متعلق مواد فراہم کرنے والی تنظیم ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نامی تنظیم سے منسلک شائملہ خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،” آن لائن امتیازی سلوک، غلط معلومات کا فروغ، انٹرنیٹ کو بند کرنا اور سرویلنس ٹیکنالوجی میں بڑھتی سرمایہ کاری کے باعث ‘انٹرنیٹ فریڈیم انڈیکس‘ میں پاکستان کا مجوعی اسکور گر گیا ہے۔‘‘ شائملہ کا کہنا ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں انٹرنیٹ کی آزادی خطرے میں ہے۔

پاکستان: مبہم قوانین، عدم شفافیت ڈیجیٹل حقوق کے لیے بڑے خطرات

پاکستان میں انٹرنیٹ حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ‘بائٹس فار آل‘ کے کنٹری ڈائریکٹر شہزاد احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،” میں اس رپورٹ سے مجموعی طور پر اتفاق کرتا ہوں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ قبائلی اضلاع، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے کچھ حصے جہاں پہلے انٹرنیٹ میسر نہیں تھا اب وہاں انٹرنیٹ کی فراہمی ایک خوش آئند اقدام ہے ۔‘‘ تاہم شہزاد احمد سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں آزادیء اظہار پر پابندی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ‘سائبر آرمیوں‘ اور انتطامیہ کی جانب سے ان بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف وزری کی جارہی ہے۔

فریڈم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انتظامیہ متنازعہ سیاسی، مذہبی اور سماجی مواد خاص طور پر اسلام اور پاکستان کی فوج سے متعلق مواد اور فحش ویب سائٹس کو انٹرنیٹ پر بلاک کر دیتی ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 2018ء میں پاکستان نے آٹھ لاکھ سے زائد ویب سائٹس کو بلاک کیا تھا۔ ان میں سات لاکھ ستر ہزار فحش مواد والی ویب سائٹس تھیں، 34700 گستاخانہ مواد والی ویب سائٹس اور ایسی ساڑھے گیارہ ہزار ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا جو ریاست اور عدلیہ مخالف یا فرقہ وارانہ مواد پر مبنی تھیں۔ دسمبر 2018ء میں پاکستان نے وائس آف امریکا کی اردو اور پشتو ویب سائٹ کو ممکنہ طور پر پشتون تحفظ موومنٹ کی کوریج کرنے پر بند کیا تھا۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: