چوری کے الزام میں‌معطل شدہ صادق علی کھوکھر کوٹھیوں، پلاٹوں اور گاڑیوں کا مالک

محکمہ برقیات راولاکوٹ سرکل سے بجلی کی تاروں کے ڈرم چوری کرنے کے الزام میں‌معطل ہونے والا سترہویں‌گریڈ کا افسر صادق علی کھوکھر حویلی کا رہائشی ہے. جبکہ ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ تاروں‌کے نو ڈرم (ایل ٹی / ایچ ٹی کنڈکٹر) کے علاوہ بھی دیگر قیمتی سامان بیرون ریاست سمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، تاہم محکمہ کے ذمہ داران نے مذکورہ سامان کو شمار نہ کر کے مذکورہ افسر اور اسکے ساتھ اہلکار کو بچانے کی پہلی ہی کوشش کر لی ہے.

محکمہ برقیات کی انکوائری ٹیم تیس اکتوبر کو راولاکوٹ دفتر میں‌لاؤ لشکر کے ساتھ موجود رہی، اس دوران محکمہ برقیات کے راولاکوٹ دفتر کے چاروں‌اطراف کا معائنہ کیا گیا، سامان کی جانچ پڑتال کی گئی، اس کے علاوہ اہلکاران اور ذمہ داران سے انکوائری بھی کی گئی.

دوسری طرف صادق علی کھوکھر کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ گزشتہ لمبے عرصہ سے اس طرح‌کے اقدامات میں ملوث ہے اور اس طرح‌اس نے کروڑوں روپے کی جائیداد بنا رکھی ہے. محکمہ برقیات کے سرکاری سامان بجلی کو نجی ٹھیکیداروں کے ہاتھوں‌فروخت کئے جاتے ہیں. اور مذکورہ سامان بھی بیرون ریاست کسی ٹھیکیدار کو فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی. اس سے قبل بھی بھاری مالیت کا سامان فروخت کیا جا چکا ہے. ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ ایک لمبے عرصے سے جاری ہے اور محکمہ کے اعلیٰ حکام اس عمل میں‌ملوث ہیں.

حویلی کے رہائشی سترہویں‌گریڈ کے برقیات افسر صادق علی کھوکھر کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ چھانجھل میں‌ ضلع حویلی کی سب سے بڑی کوٹھی مذکورہ افسر کی ہے. ستر لاکھ مالیت سے زائد کا ایک مکان راولاکوٹ میں‌بھی ہے. بحریہ ٹاؤن میں‌تین عدد پلاٹ، دو عدد کار ٹوڈی، ایک عدد گاڑی ڈبل ڈور کے علاوہ بھاری بینک بیلنس اور خفیہ جائیدادوں‌کا مالک ہے.

مذکورہ افسر ایک سابق سیکرٹری کی جائیداد کی دکھ بھال کے فرائض بھی انجام دے رہا ہے. اس کے علاوہ محکمہ کے دیگر افسران کے اخراجات پورے کرنے سمیت سیاستدانوں کےلئے بھی خدمات سرانجام دیتا آیا ہے.

محکمہ برقیات کی انکوائری ٹیم اس سلسلہ میں‌انکوائری کر رہی ہے، تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اس بار یہ کیس ماضی کی طرح ایک بار پھر دبا لیا جائے گا یا اس بڑی کرپشن کی کہانی کی بنیادی کڑی کو استعمال کرتے ہوئے ماضی کے تمام تر سکینڈل بھی بے نقاب کئے جائیں گے.