پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے ساتھ پیپلز نیشنل الائنس کے چیئرمین راجہ ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ کی قیادت میں وفد کی ملاقات کے بعد مظفرآباد میںعوامی احتجاجی مارچ کے شرکاء اورپولیس کے درمیان تصادم کے بعد گرفتار ہونے والے پینتیس کارکنان کو رہا کر دیا گیا ہے.
پر امن مظاہرین پر پولیس گردی اور وحشیانہ تشدد و بربریت کے خلاف چوبیس اکتوبر کو پیپلز نیشنل الائنس کی کال پر ریاست گیر احتجاجی مظاہرے منعقد کئے جائیں گے. راولاکوٹ میں چوبیس اکتوبر کو دن گیارہ بجے کالج گراؤنڈ سے احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جائیگا.

وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے ساتے ملاقات میںپیپلز نیشنل الائنس کے چیئرمین راجہ ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ کے ہمراہ جنرل سیکرٹری سردار لیاقت حیات، ترجمان افضال سلہریا، سیکرٹری مالیات سجاد افضل، ڈویژنل صدر مظفرآباد کامران بیگ اورنثار شاہ ایڈووکیٹ شامل تھے.
پی این اے قائدین نے مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ فی الحال گرفتار شدگان کو غیر مشروط رہا کر دیا گیا ہے. تاہم تشدد اور پولیس گردی کے ذمہ داران کے تعین کےلئے ہائی کورٹ کے ججز کی سطح کا جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے، ڈی ایس پی ریاض مغل کی معطلی اور لینٹ افسران کی بے دخلی تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا.
دریں اثناء پاکستانی زیرانتظام جموںکشمیر کی بار کونسل نے بھی پولیس گردی اور ریاستی تشدد کے خلاف پچیس اکتوبر کو عدالتی بائیکاٹ کی کال دے دی ہے. پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی تمام عدالتوںمیںپچیس اکتوبر کو عدالتی بائیکاٹ کیا جائیگا. کوئی وکیل عدالت میںپیش نہیںہوگا. اس احتجاج کا مقصد بائیس اکتوبر کومظفرآباد میں پولیس گردی اور ریاستی تشدد کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانا ہوگا.
دوسری طرف صحافیوںکا احتجاج بھی بدستور جاری رہے گا. صحافیوںنے بدھ کے روز مظفرآباد میںاحتجاجی ریلی کرتے ہوئے لینٹ افسران کی خدمات فوری واپس کروانے اور ایوان صحافت پر حملہ کرنیوالے پولیس افسران و اہلکاران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے.
چوبیس اکتوبر کو بھی پریس کلب میںمختلف صحافتی تنظیموںکے اجلاس منعقد کئے گئے ہیں، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس، سنٹرل یونین آف جرنلسٹس سمیت دیگر تنظیموںکے ذمہ داران پریس کانفرنس کے ذریعے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے.












18 تبصرے “وزیراعظم سے مذاکرات کے بعد اسیران رہا، پولیس گردی کے خلاف 24 اکتوبر کو ریاست گیر احتجاج ہونگے”