برطانیہ: بلغاریہ سے آنیوالے ٹرک سے انتالیس تارکین وطن کی لاشیں برآمد، ٹرک ڈرائیور گرفتار کر لیا گیا

برطانیہ میں‌ ایک ٹرک سے انتالیس لوگوں کی لاشیں‌برآمد ہونے کے بعد ٹرک ڈرائیور کو حراست میں‌لے لیا گیا ہے. یہ ٹرک برطانوی شمال مشرقی علاقہ ایسکس میں‌موجود تھا، جبکہ ممکنہ طور پر یورپی ملک بلغاریہ سے برطانیہ آیا تھا. جس میں‌غیر قانونی طور پر تارکین وطن کو برطانیہ داخل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی.

برطانوی پولیس نے آج بدھ کو بتایا ہے کہ یہ ٹرک ممکنہ طور پر بلغاریہ سے آیا تھا اور یہ مشرقی لندن کے واٹر گیٹ صنعتی علاقے میں کھڑا ہوا تھا۔ وہاں پر موجود ایمبولنس ورکرز نے اس ٹرک کی موجودگی کی اطلاع پولیس کو دی تھی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اس ٹرک کے پچیس سالہ ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کا تعلق شمالی آئرلینڈ سے ہے۔ ایسکس پولیس کے چیف سپریڈنڈنٹ اینڈریو میرینر نے بتایا،” اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا اپنی جانیں کھونے کا یہ بہت ہی افسوس ناک واقعہ ہے۔ہنگامی سروس فوری پہنچی تاہم جائے وقوعہ پر ہی انتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی تھی۔‘‘

پولیس نے اڑتیس بالغ افراد اور ایک نابالغ کے قتل کے جرم میں تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ میرینر نے مزید بتایا،” ہمیں شک ہے کہ یہ ٹرک بلغاریہ سے آیا تھا اور ہولی ہیڈ نامی علاقے سے انیس اکتوبر بروز ہفتہ برطانیہ میں داخل ہوا تھا۔ ہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ تفتیش جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

آئر لینڈ اور برطانیہ کے درمیان ہولی ہیڈ کا بندرگاہی قصبہ بہت اہمیت کا حامل ہے

بلغاریہ کی وزرات خارجہ نے ابھی تک یہ تصدیق نہیں کی ہے کہ اس ٹرک نے بلغاریہ کے کس علاقے سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا،” ہم ابھی تک برطانوی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی اطلاعات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہم حکام سے رابطے میں ہیں۔

اس دوران واٹر گیٹ صنعتی پارک کے علاقے کے گرد حصار باندھ گیا ہے اور کسی کو وہاں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ میرینر کے بقول،” مرنے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور ممکنہ طور پر اس کام میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔‘‘

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول وہ ایسکس پولیس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اسی طرح برطانوی وزیر داخلہ پریتی پاٹل نے بھی اس واقعے کو حیران کن اور افسوسناک قرار دیا ہے۔