پرامن احتجاج پر ریاستی جبر: پاکستانی جموں کشمیر میں آزادی کی مانگ ایک جرم

تحریر : التمش تصدق (ایڈیٹر عزم این ایس ایف)

اس وقت بھارتی زیرانتظام جموں کشمیر ظلم کی انتہا ہے لیکن پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں حالات اس سے زیادہ مختلف نہیں ہیں. پاکستانی زیرانتظام جمو کشمیر میں آزادی کا یہ عالم ہے کہ پرامن احتجاج کرنے سمیت بولنے، لکھنے اور سوچنے پر بھی پابندی عائد ہے.

بھارتی ریاست نے پانچ اگست کو آرٹیکل 370 کے خاتمہ کے بعد بهارتی مقبوضہ جموں کشمیر اور لداخ کی عوام کو دستیاب معمولی جمہوری اور سیاسی حقوق کا مکمل خاتمہ کر کے ان کو کھلی جیل میں مقید کر رکھا ہے.کرفیو کی وجہ سے عوام کو خوراک،ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت کا سامنا ہے. روایتی اور مذمتی قیادت سمیت ہزاروں افراد گرفتار ہیں.اس جبر و تشدد کے خلاف نام نہاد عالمی برادری، مسلم امہ سمیت دیگر سامراجی ممالک اور ادارے بی، جے پی کی فاشسٹ حکومت کو کرفیو کے خاتمے کیلئے بھی مجبور نہیں کر سکے. جس سے ان اداروں کا کردار اور ان کی صلاحیت اور حقیقت سب کے سامنے عیاں ہوتی ہے کہ نظام رز میں حکمران طبقے کے لئے مفادات سے بڑھ کر کوئی رشتہ نہیں ہوتا.مظلوموں کی اگر کوئی حمایت کر سکتا ہے تو وہ پھر مظوم ہی ہے مزدور ہی ہے. بھارتی ریاست کے جبر کے خلاف سب سے زیادہ آوازیں محنت کشوں اور بائیں بازو کے انقلابی نوجوانوں کی طرف سے اٹھیں. بھارت سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جس میں کرفیو کے خاتمے اور قابض افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا. اس ریاستی دہشتگردی کے خلاف جہاں محکوموں اور محنت کشوں کے احتجاج نظر آتے ہیں وہیں حکمران طبقے کی بے ہسی اور منافقانہ پالیسی کھل کر سامنے آتی ہے بالخصوص پاکستانی حکمران طبقے کی.

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں فوجی جبر و تشدد اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف پاکستانی حکمران طبقہ اور فوجی اشرفیہ خوب واویلا کرتی ہے. ایسے مگرمچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت کا درد ان سے زیادہ کسی میں نہیں ہے.بظاہر عوامی سطح پر جموں کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت دینے کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے لیکن پاکستانی اشرفیہ کے لیے حق خودارادیت کا مطلب بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی قبضہ کے بجائے پاکستانی قبضہ ہے اور یہاں کی عوام کے حق آزادی کی آواز کو اتنے ہی جبر سے دبایا جاتا ہے جس جبر سے بھارتی فوج کشمیر میں دباتی ہے.جس کا واضح اظہار گزشتہ کچھ عرصے میں ہونے والے واقعات ہیں جس میں پاکستانی مقبوضہ علاقوں میں آزادی پسند اور انقلابی سیاسی کارکنوں پر ریاستی جبر و تشدد میں تیزی سے اضافہ ہے. انسان کے بنیادی جمہوری حقوق کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے.سچ لکھنے پر اخبار بند ہو جاتے ہیں اور سچ بولنے پر افراد بند ہو جاتے ہیں.بهارتی زیرانتظام جموں‌ کشمیر کے عوام کے لیے حق خودارادیت کی مانگ تو درست ہے لیکن پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے باسی اگر یہ مطالبہ کریں کہ ہمیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے ،ہمیں اپنے وسائل پر اختیار دیا جائے، تو انہیں ملک دشمن اور ایجینٹ قرار دیا جاتا ہے.

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے بھارتی ریاست کشمیر میں آزادی پسندوں پر بدترین تشدد کر رہی جس کی مذمت کرنا ہر باشعور انسان کی ذمہ داری ہے. لیکن پاکستانی حکمران طبقے کی مظلوم کشمیری عوام کی حمایت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نہیں بلکہ سامراجی مقصد کی وجہ سے ہے.اگر واقعی کشمیری عوام سے پاکستانی حکمران طبقے کی محبت حقیقی ہے تو وہ محبت پھر پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ بھی ہونی چاہیے.یہاں کے وسائل پر اس خطے کے عوام کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے، یہاں کے باشندوں کو تمام انسانی جمہوری حقوق ملنے چاہئیں. ان کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے لیکن بھارتی زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے ریاستی موقف کے برعکس پاکستانی زیر انتظام گلگت بلتستان اور جموں کشمیر میں وسائل پر عوامی اختیار مانگنے والوں کا انجام وہی ہوتا ہے جو بائیس اکتوبر کو پیپلز نیشنل آلائینس کے پرامن احتجاج میں شریک مظاہرین کے ساتھ کیا گیا.آزادی پسندوں اور ترقی پسندوں کے اتحاد کی کال پر مظفرآباد پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب جانے والے جلوس پر ننگی جارحیت کی گئی.نہتے کارکنوں کو ریاستی بربریت کا نشانہ بنایا گیا.ریاستی دہشگردی کے نتیجے میں سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور ایک شہید ہوا.

یہی صورتحال گلگت بلتستان کی ہے، گلگت بلتستان میں عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کے جرم میں افتخار کربلائی کو اسی سال، بابا جان اور ان کے ساتھیوں کو چالیس سال کی سزا سنائی گئی ہے. جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایسی مثال ہے جو ہمیں تاریخ میں کہیں نظر نہیں آتی.اس خطے کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے.جن علاقوں میں قیمتی معدنی ذخائر موجود ہیں، ان علاقوں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مقامی سرمایہ داروں کو لیز پر دیا گیا ہے.بہت سے علاقوں کو چالیس سال کے لئے چین کی کمپنیوں کے حوالے کردیا گیا ہے.اس لوٹ کھسوٹ کے خلاف آواز بلند کرنے پر مکمل پابندی عائد ہے.

کچھ عرصہ قبل جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں پر آزادی کے نعرے لگانے کے پر جھوٹے مقدمات درج کر کے ان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا. اسی طرح جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے سات ستمبر کو ہندوستانی ریاستی دہشتگردی اور بربریت کے خلاف، بهارتی مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ اور کنٹرول لائن کے دونوں اطراف فائرنگ سے متاثرہ افراد کے ساتھ یکجہتی کے لیے تیتری نوٹ کراسنگ پوائینٹ کی طرف آزادی مارچ اور یکجہتی دھرنا دینے کا فیصلہ کیا.آزادی مارچ کی حمایت جے کے این ایس ایف سمیت دیگر ترقی پسند اور آزادی پسند پارٹیوں نے کر رکھی تھی.آزادی مارچ کو ناکام بنانے کے لیے ریاست نے تمام تعلیمی اداروں میں چھٹیاں دے دی ، موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی.پولیس کی بڑی تعداد کو طلب کیا گیا اور عوام کو خوف زدہ کرنے کے لیے مختلف افواہیں پھیلائی گئی. اس سب کے باوجود آزادی مارچ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی آزادی کے نعروں کی گونج پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ہر طرف سنائی دے رہی تھی.بهارتی زیر انتظام کشمیر کے عوام سے یکجہتی کے لیے آزادی مارچ کے شرکاء پرامن طریقے سے ایل او سی کی جانب گامزن تھے ہر شہر میں استقبال کے لیے عوام کی بڑی تعداد موجود تھی.

پرامن اور منظم آزادی مارچ نے پاکستانی ریاست کے پالیسی سازوں کو خوف اور بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا.آزادی مارچ کے راستے میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی.کوٹلی کے جلوس کو شہر سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا پولیس نے عوام کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس میں بہت سے لوگ زخمی ہوئے.مرکزی جلوس کو بھی دوارندی کے مقام پر روک لیا گیا پچیس ہزار افراد کے اجتماع پر آنسوؤں گیس کی شلنگ کی گی جس کی وجہ سے بھگدڑ مچنے سے اور شیل لگنے سے سیکڑوں افراد زخمی ہوئے. بهارتی ریاستی جبر کے شکار عوام سے یکجہتی کے لیے جانے والے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو بدترین ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا گیا.ان لوگوں کا قصور یہ تھا کہ یہ اس آزادی مارچ میں شریک تھے جو پاکستانی حکمران طبقے کے آشیرباد کے بغیر کیا گیا تھا.جبکہ سرکاری سرپرستی میں ہونے والے ایل او سی کی طرف مارچ میں لوگوں کو ریاستی پروٹوکول میں لے جایا جاتا ہے.

یہ آزادی مارچ کنٹرول لائن پر خونی کھیل کو روکنے کے لیے، جبری تقسیم کے خلاف، دونوں افواج کے انخلا کے لیے کیا گیا تھا. یہ وہ حقیقی آواز تھی جموں کشمیر کے عوام کی جس کو دبانے اور چھپانے کی دونوں اطراف کا میڈیا اور حکمران طبقہ ہمیشہ کوشش کرتا ہے.

پیپلز نیشنل الائنس کے شرکاء کو اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ سرینگر کے بجائے مظفرآباد جا رہے تھے. پرامن احتجاج جو ہر شہری کا بنیادی حق ہے اس پر پابندی عائد کرنا اور جبر اور گرفتاریوں سے پاکستانی حکمران طبقے اور سٹبیلشمنٹ کی مسئلہ کشمیر پر منافقانہ پالیسی واضح ہوتی ہے. کس طرح پاکستانی فوجی اور سیاسی اشرفیہ نے دوستی اور یکجہتی کے نام پر گزشتہ بتر سالوں سے اس خطے کے وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے اور مسئلہ کشمیر کے نام پر پاکستانی محنت کشوں کے جذبات سے کھیل کر ہتھیاروں کی خریداری میں غریبوں کی دولت لٹائی جاتی ہے .انسانی تباہی کے آلات کی خریداری میں صرف ہونے والی دولت سے تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی با آسانی ممکن ہے لیکن حکمران طبقے کی ترجیحات عوام کے مسائل کا حل نہیں بلکہ بهوک، بیماری، بیروزگاری اور جہالت سے مرتے افراد کے دفاع کے نام پر ہتھیاروں کا منافع بخش کاروبار ہے.

یہی کردار ہندوستانی حکمران طبقے کا ہے.ہندوستانی زیر انتظام کشمیر میں اس وقت تقریباً آٹھ ہزار افراد گرفتار ہیں اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ہر گرتے دن کے ساتھ ریاستی تشدد جس رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے یوں محسوس ہوتا ہے برطانوی سامراج کی تخلیق کردہ دونوں ریاستوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آزادی کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کو طاقت کے ذریعے خاموش کر دیا جائے گا.اس وقت پاکستانی ریاست بھی ہندوستانی ریاست کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پرامن سیاسی جدوجہد پر مکمل پابندی عائد کر کے نوجوانوں کو پرتشدد ذرائع استعمال کرنے پر مجبور کر رہی ہے.مہنگائی ، بے روزگار،فائرنگ اور دریاؤں کا رخ موڑ کر کشمیر کو بنجر کرنے کی سازش کے خلاف احتجاج کرنے پرگرفتاریاں اور مقدمات درج کیے جا رہے ہیں.عبوری آئین ساز اسمبلی کی مانگ کو بھی جرم تصور کیا جاتا ہے.یہاں کی عوام کو زبردستی طاقت کے ذریعے وفادار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے. ایسے علاقے کے لوگوں کو قابض ریاست اپنی وفاداری کا پابند کیسے بنا سکتی ہے جس علاقے کو وہ ریاست خود متنازعہ علاقہ تسلیم کرتی ہو.اس ریاست کا آئین کیسے ایسے علاقے میں نافذ کیا جا سکتا ہے جو خود اس نظام کے عالمی قوانین کے مطابق غیر قانونی طور پر قبضہ کیے ہوئے ہے.اس ملک کے آئین کے مطابق کیسے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے عوام کو غداری کے الزامات میں گرفتار کیا جا سکتا ہے جس کی آئین ساز اسمبلی میں ایک بھی اس علاقے کا نمائندہ موجود نہیں ہے. عالمی سامراجیوں اور پانچ فیصد حکمران طبقے کی نمائندہ ریاست تعصبات اور نفرتوں کی بنیاد پر پاکستان کے محنت کشوں اور مظلوم قوموں کی وفاداری بھی زیادہ لمبے عرصے تک حاصل نہیں کر سکے گی. جس کا اظہار پاکستان میں موجود قوموں کی قومی تحریکیں اور محنت کش طبقے کی بغاوت کے امکانات سے ہو رہا ہے. یہی وجہ ہے کہ نفرتوں اور تعصبات کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کا گلہ دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے. جو حکمران طبقے کی خود عتمادی کے فقدان اور خوف کا اظہار ہے.

یہ بات پاکستانی فوجی اور سیاسی اشرفیہ جتنے جلدی سمجھ جائے اس کے لیے اتنا ہی بہتر ہے کہ مسئلہ کشمیر سے جڑے علاقوں کے وسائل پر وہاں کی عوام کا حق ہے اور اس مسئلہ کا فیصلہ کرنے کا اختیار بھی یہاں کے عوام کو ہونا چاہیے. جس کے لیے دونوں ریاستوں کو جموں کشمیر اور گلگت بلتستان سے افواج کا انخلا کر کے بغیر کسی دباؤ کے یہاں کے عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق دینا چاہیے ، نہ کہ کوئی قابض قوت ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرے،اور اس خطے کے محکموں پر غداری کے مقدمات درج کرکے ان کو ریاستی جبر کے ذریعے وفادار بنانے کی کوشش کریں.

بندوق کے زور پر کشمیری عوام کو وفادار بنانے کے نتائج بھارتی مقبوضہ کشمیر میں سب کے سامنے ہیں.وہی تجربہ پاکستانی سٹبیلشمنٹ گلگت بلتستان اور نام پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں بنیادی جمہوری آزادیوں پر قدغن لگا کر کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے نتائج بھی بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر سے مختلف نہیں ہوں گے اس حوالے سے اربابِ اختیار کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے. اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق مسئلہ کشمیر سے جڑی تمام اقوام کو ہے.اس خطے کا ایک بھی فرد اگر زند رہا وہ اپنے بنیادی جمہوری حق ،حق خودارادیت کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا. وہ حق خودارادیت پاکستانی حکمرانوں طبقے کے مطلب والا حق خودارادیت نہیں ہے بلکہ حق آزادی ہے. یہ جیلیں یہ جھوٹ پر مبنی مقدمات، تشدد نہ تاریخ میں پہلے آزادی پسندوں اور انقلابیوں کا راستہ روک سکے ہیں نہ مستقبل میں یہ ممکن ہے آزادی کی تڑپ کو جبر کے ذریعے ختم کر دیا جائے.آزادی کی مانگ اگر جرم ہے تو ہم یہ جرم بار بار کرتے رہیں گے. آزادی ہمارا حق ہے اسے چھین کے لیں گے ہم.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: