مظفرآباد میںپیپلز نیشنل الائنس کے پرامن احتجاج پر پولیس تشدد اور گرفتاریوںکے خلاف راولاکوٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی اور جلسہ منعقد کیا گیا. مظاہرین نے ایک گھنٹہ مین شاہراہ بند کر کے پر امن مظاہرین پر پولیس تشدد اور گرفتاریوںکے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا. جبکہ 23 اکتوبر کو دن دو بجے ہل ٹاپ ہوٹل میںآل پارٹیز اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں پولیس گردی کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا. اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوںکے علاوہ ٹریڈ یونینز کے عہدیداران بھی شرکت کریں گے.
راولاکوٹ میں احتجاجی مظاہرہ سے جے کے پی پی کے ضلعی صدر سردار سیاب شریف، پی وائی او کے سیکرٹری جنرل سردار ببرک خان، این ایس ایف کے سابق صدر بشارت علی خان،جے کے پی وائی سی کے چیئرمین رضوان خادم، لبریشن فرنٹ کے رہنما خواجہ خلیل کشمیری، سردار خلیل خان، پی ایس ایف کے رہنما سردار ثاقب فاروق، قوم پرست رہنما سردار قدیر، نیپ کے رہنما آفتاب حمید ایڈووکیٹ ، این ایس ایف کے رہنما احتشام خان اور دیگر مقررین نے خطاب کیا.
مظاہرین نے مظفرآباد میںپر امن مظاہرین پر تشدد کرنے والے پولیس ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ ریاست دہشت گردی ہے، سرینگر اور مظفرآباد کو ایک جیسا بنا دیا گیا ہے. حکومت نے اگر فوری طور پر گرفتار شدگان کو رہا نہ کیا اور تشدد کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو حالات کی ذمہ داری حکومت وقت پر ہوگی. مقررین کا کہنا تھا کہ پر امن سیاسی احتجاج کرنا ہر کسی کا حق ہے، پیپلز نیشنل الائنس کے کارکنان پر امن احتجاج کر رہے تھے جنہیں پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا، وحشت اور بربریت کی گئی جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے.












21 تبصرے “پی این اے کے مظاہرین پر تشدد کے خلاف راولاکوٹ میںاحتجاج، 23 اکتوبر کو اے پی سی طلب”