مظفرآباد: پی این اے مظاہرین پر لاٹھی چارج و شیلنگ، ایک ہلاک، متعدد زخمی و گرفتار

پی این اے کے مظاہرین پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور شیلنگ کے نتیجے میں‌ایک شخص ہلاک، جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں.جبکہ اطلاعات کے مطابق نیشنل عوامی پارٹی کے صدر سردار لیاقت حیات خان سمیت متعدد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے.

شیخ زید ہسپتال مظفرآبادسے صحافی امجد حسین امجد کے مطابق قاضی محمد اسلم سکنہ بلگراں مظفرآباد کی موت واقع ہو گئی ہے، انہیں‌مبینہ طو رپر آنسو گیس کا شیل لگا ہے. جبکہ عدنان سکنہ راولاکوٹ، مشتاق ایڈووکیٹ سکنہ قلعاں، ذیشان سکنہ دھیرکوٹ، ذوہیب سکنہ راولاکوٹ، امجد سلیم سکنہ ہجیرہ زخمی ہیں اور شیخ زید ہسپتال مظفرآباد میں‌زیر علاج ہیں. کچھ زخمیوں‌کی یونیورسٹی طلبہ مرہم پٹی کر رہے ہیں.

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق چیف آرگنائزراین ایس ایف تیمور سلیم سمیت دیگر کارکنان اور رہنما لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کے باعث زخمی ہوئے ہیں. جے کے این ایس ایف کے حسام خالق، روبان طاہر سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید گرفتاریوں کےلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پیپلز نیشنل الائنس کی کال پر یہ کارکنان اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف مارچ کرنا چاہتے تھے، پولیس نے انہیں‌روکنے کےلئے لاٹھی چارج شروع کر دیا، جس سے پہلے مظاہرین منتشر ہوئے لیکن پولیس نے سڑکیں خالی کروانے کےلئے آنسو گیس کی شیلنگ شروع کر دی ہے. جس کے باعث متعدد کارکنان کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں.

مقامی میڈیا نمائندگان کے مطابق آنسو گیس کی شیلنگ سے متعدد کارکنان کی حالت غیر ہو گئی، کئی مظاہرین سڑک پر بے ہوش ہو چکے ہیں۔ جبکہ زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے لاٹھی چارج کے باعث نجی ٹی وی چینل کا ایک صحافی بھی زخمی ہو گیا ہے۔

مارچ میں‌سیکڑوں افراد شریک ہیں جو آزادی، خودمختاری اور سماجی انصاف ، آئینی، سیاسی، معاشی حقوق کے مطالبات سے مزئین نعرے بازی کر رہے ہیں.

شرکاء مارچ کے قافلے گزشتہ شب دارالحکومت مظفرآباد پہنچے تھے، یونیورسٹی گراؤنڈ مظفرآباد این ایس ایف کے سرخ پرچم اور لبریشن فرنٹ اور کے این پی کے سہ رنگے پرچم لہرا رہے ہیں. یہ احتجاجی مارچ پی این اے کی جموں‌کشمیر چھوڑ دو تحریک کے ابتدائی مرحلے کا آخری پروگرام ہے. جس کے بعد تحریک کےلئے نئے شیڈول کا اعلان کیا جائیگا.

پاکستان مزدور کسان پارٹی کے رہنما پروفیسر تیمور الرحمان کی قیادت میں‌لال بینڈ کا گروپ انقلابی ترانے اورکلچرل پروگرام پیش کرنے کےلئے یونیورسٹی گراؤنڈ میں‌پہلے سے موجود تھا، رات بارہ بجے قافلوں کی مظفرآباد آمد کے فوری بعد شرکاء کو کھانا کھلایا گیاجس کے بعد کلچرل پروگرام کا آغاز کیا گیا، شرکاء مارچ نے رات یونیورسٹی گراؤنڈ مظفرآباد میں ہی گزاری.

https://twitter.com/TheFarhanAKhan/status/1186578545600061440?s=08

مظفرآباد میں مرکزی ترجمان افضال سلہریا، سابق صدور این ایس ایف راشد شیخ اور کامران بیگ کی قیادت میں جے کے این ایس ایف اور کے این پی کے کارکنان نے شرکاءمارچ کا انعقاد کیا. اور شرکاء مارچ کی مہمان نوازی کے فرائض سر انجام دیئے.

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے مختلف اضلاع اور راولپنڈی اسلام آباد سے چیئرمین پیپلز نیشنل الائنس راجہ ذوالفقار احمد، چیئرمین جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ، جنرل سکرٹری پی این اے سردار لیاقت حیات خان، سپریم ہیڈ لبریشن فرنٹ رؤف کشمیری، مرکزی صدر این ایس ایف ابرار لطیف، سینئر وائس چیئرمین لبریشن فرنٹ راجہ مظہر اقبال ایڈووکیٹ، صدر این ایس ایف (آزاد) یاسر یونس، سیکرٹری جنرل این ایس ایف یاسر حنیف، سابق مرکزی صدر این ایس ایف توصیف خالق، سابق سینئر نائب صدر این ایس ایف خلیل بابر، سابق چیئرمین ایس ایل ایف احسان اللہ خان، سیکرٹری جنرل ایس ایل ایف دانش گلفراز، سابق چیف آرگنائزر این ایس ایف تنویر انور، سینئر نائب صدر این ایس ایف عزیر شفقت، ایڈیٹر عزم این ایس ایف التمش تصدق، شفقت رحیم داد، فاران مشتاق اور دیگر کی قیادت میں‌ قافلے مظفرآباد پہنچے ہیں.

جاری کردہ شیڈول کے مطابق آج بائیس اکتوبر کو صبح گیارہ بجے یونیورسٹی گراؤنڈ سے احتجاجی مارچ کا آغاز کیا جائیگا. یہ احتجاجی مارچ اسملبی سیکرٹریٹ تک ہوگا، جبکہ اسمبلی سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی جلسہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جلسہ کے بعد یہ مارچ اختتام پذیر ہوجائے گا.

جاری کردہ شیڈول کے مطابق اس مارچ کا مقصد جہاں‌بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌جاری کرفیو، لاک ڈاؤن اور بھارتی فوجی جبر کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانا ہے. وہاں اس احتجاجی مارچ کے ذریعے پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں‌کو آئینی ، مالیاتی اور سیاسی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا جائے گا، ہر دو اطراف گرفتار سیاسی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا جائے گا، جبکہ ایکٹ 74، معاہدہ کراچی سمیت دیگر تمام سامراجی معاہدہ جات کو منسوخ‌کرنے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا، اس احتجاجی مارچ کے ذریعے اس خطے کے لوگوں کو روزگار، تعلیم، علاج اور انفراسٹرکچر کی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا جائے گا، جبکہ اس مارچ کے ذریعے تقسیم کشمیر کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کشمیریوں‌کو مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیئے جانے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا.

پیپلز نیشنل الائنس کی قیادت نے اعلان کر رکھا ہے کہ اس احتجاجی مارچ کے ذریعے پاکستان، بھارت اور بالعموم دنیا بھر کے محنت کشوں، نوجوانوں‌اورترقی پسند رہنماؤں سے کشمیریوں‌کی جدوجہد آزادی کی حمایت کی اپیل بھی کی جائے گی، طبقاتی بنیادوں‌پر جدوجہد کو دیگر مظلوم قومیتوں کی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ جوڑتے ہوئے مشترکہ جدوجہد کو منظم کرنے کی اپیل بھی کی جائے گی.

دوسری طرف حکومت نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے ہیں، پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، حکومتی وفد نے چیئرمین پی این اے سے مذاکرات کرنے کے دوران پر امن مارچ کو مکمل سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا رکھی ہے، جبکہ احتجاجی مارچ کے شرکاء کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی گئی ہے.

جبکہ مظفرآباد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ نے پی این اے کے ڈویژنل عہدیداران کو ایک مراسلہ کے ذریعے پیغام پہنچایا ہے کہ شرکاء‌مارچ کو اسمبلی کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ وہ اپر اڈہ میں‌احتجاجی جلسہ منعقد کر سکتے ہیں.