مظفرآباد پریس کلب پر پولیس کا حملہ، صحافیوں‌نے کشمیر بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے مرکزی ایوان صحافت (پریس کلب) نے پاکستان کی طرف سے متعین دو لینٹ افسران چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا اور انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین خان کی خدمت حکومت پاکستان کو واپس کرنے اور پریس کلب پر پولیس حملے کی جوڈیشل انکوائری کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے.

مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد پر ڈی ایس پی ریاض مغل کی قیادت میں پولیس کے حملے، آنسوگیس کے استعمال اور صحافیوں پر لاٹھی چارج کے خلاف تئیس اکتوبر کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر بھر میں بھرپور احتجاج کا اعلان بھی کیا گیا ہے.

مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد کے صحافی تئیس اکتوبر کو آزادی چوک مظفرآباد میں پولیس گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کریں گے.

اس بات کا فیصلہ پریس کلب کے صدر طارق نقاش کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا اور انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین ناکام ہوچکے ہیں، انکی خدمات حکومت پاکستان کو واپس کی جائیں.

اجلاس میں پریس کلب پر حملے کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر کے علاوہ کسی سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے.

دوسری طرف پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے تمام ضلعی پریس کلب ہا کی طرف سے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے. صحافیوں‌کی بڑی تنظیم سنٹرل یونین آف جرنلسٹس نے بھی پورے پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌احتجاج کا اعلان کر دیا ہے.

گلگت بلتستان کے صحافیوں‌نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ایوان صحافت پر پولیس گردی کو آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے.

نیشنل پریس کلب اسلام آباد، لاہور پریس کلب کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں‌بھی صحافتی تنظیموں‌نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے. کشمیر جرنلسٹس فورم کے عہدیداران نے بھی واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے.