پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میںپیپلز نیشنل الائنس کی کال پر احتجاجی مارچ کے شرکاء کی گرفتاریوںاور تشدد کا سلسلہ رات گئے تک جاری ہے. پولیس مختلف ہوٹلوں، گلیوں اور سڑکوں سے کارکنوں کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے. درجنوںلوگ گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ پی این اے قیادت کا دعویٰہے کہ ڈیڑھ سو سے زائدگرفتاریاںہو چکی ہیں اور اتنے ہی لوگ لاپتہ ہیں، جبکہ پچاسی سے زائد کارکنان زخمی ہیں. آنسو گیس کی شیلنگ کے باعث ایک شخص دم گھٹنے سے ہلاک ہو چکا ہے.
پولیس کی جانب سے پریس کانفرنس کےلئے مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد میںجانے والے پی این اے قائدین کی گرفتاری کےلئے پریس کلب پر دھاوا بول دیا گیا، شیلنگ اور لاٹھی چارج و پتھراؤ کی وجہ سے پریس کلب کی عمارت اور کمپیوٹر سیکشن کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں.
پولیس کے تشدد اور لاٹھی چارج سے ڈپٹی کمشنر مظفرآباد بدر منیر اور دیگر ڈیوٹی مجسٹریٹ بھی محفوظ نہ رہ سکے. پولیس اہلکاران نے مجسٹریٹ صاحبان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے.
تاہم ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق چند شر پسند عناصر مظاہرین میں شامل تھے جنہوںنے مذاکراتی عمل کامیاب ہونے کے بعد پولیس پر پتھراؤ کیا جس کی وجہ سے ماحول خراب ہوا. دو مظاہرین اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں. جبکہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں یہ بھی دعویٰکیا گیا ہے کہ جس شخص کی موت واقع ہوئی ہے وہ شیخزید ہسپتال مظفرآباد میں زیر علاج تھا اور اسکی طبعی موت ہوئی ہے جسے مظاہرین اور پولیس تشدد سے جوڑ کر افراتفری پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے.
https://twitter.com/TheFarhanAKhan/status/1186620830475849728
پیپلز نیشنل الائنس کے چیئرمین راجہ ذوالفقار ایڈووکیٹ نے چیئرمین لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ، سیکرٹری جنرل پی این اے سردار لیاقت حیات اور دیگر رہنماؤںکے ہمراہ مرکزی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ ڈی ایس پی ریاض مغل ان دیکھی طاقتوںکے ہاتھوںمیںکھیل رہے تھے، اور ڈی ایس پی ہی کی ایماء پر پر امن احتجاجی مارچ کے شرکاء پر تشدد اور بدترین شیلنگ کی گئی ہے. چیئرمین پی این اے نے پریس کانفرنس میںدعویٰکیا کہ ضلعی انتظامیہ نے ہمارے ساتھ تعاون کیا. حکومت کے ساتھ بھی ہماری بات ہو چکی تھی. مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ڈی ایس پی ریاض مغل نے تشدد کو ہوا دی اور ایک سازش کے تحت ہمارے پر امن مارش میںشریک کارکنان کو تشدد کا نشانہ بنایا. انہوںنے دعویٰ کیا کہ ڈیڑھ سو سے زائد کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ اتنے ہی کارکنان تاحال لاپتہ ہیں. مظفرآباد شہر کو سرینگر بنا دیا گیا ہے. ہم انتظامیہ کو دو دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہیںاگر دو دن کے اندر تمام کارکنان کو رہا نہ کیا گیا اور ڈی ایس پی ریاض مغل سمیت دیگر ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو چوبیس اکتوبر سے بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی.
پریس کانفرنس کے دوران ہی پی این اے قائدین نے مظفرآباد میںاحتجاج ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا. لیکن پریس کانفرنس سے کچھ ہی دیر بعد پولیس کی جانب سے پریس کلب کا گھیراؤ کر دیا گیا اورپولیس پریس کلب کے اندر داخل ہو گئی. صحافیوںکی جانب سے پولیس کو روکنے کی کوشش میںہاتھا پائی اور لاٹھی چارج کی وجہ سے ایوان صحافت کے کمپیوٹر سیکشن میںتوڑ پھوڑ کی گئی. جبکہ پولیس نےپریس کلب کے اندر آنسو گیس کی شیلنگ اور پتھراؤکیا جس کی وجہ سے نہ صرف پریس کلب کی عمارت کو نقصان پہنچا بلکہ متعددصحافی بھی زخمی ہو گئے، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کی وجہ سے دلپذیر عباسی سمیت دیگر صحافی بے ہوش ہو گئے جنہیںفوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا.
https://twitter.com/TheFarhanAKhan/status/1186678928859111424
صحافیوںنے پولیس تشدد کے خلاف بینک روڈ کو ٹریفک کےلئے بند کر کے احتجاج کیا. جس کے بعد ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات اور دیگر افسران نے صحافیوں سے مذاکرات کئے.
بعد ازاں وزیر تعلیم کالجزبیرسٹر افتخار گیلانی اور پرنسپل سیکرٹری مسعود الرحمان نے پریس کلب میںپی این اے کی قیادت اور صحافیوں سے مذاکرات کی کوشش کی اور انکے مطالبات وزیراعظم تک پہنچانے سمیت انکے وزیراعظم فاروق حیدر سے مذاکرات کروانے کی کوشش شروع کر دی ہے. صحافی اور پی این اے قائدین اور وزیراعظم فاروق حیدرکے مابین رات گئے مذاکرات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے.
دوسری طرف پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل فیصل ممتاز راٹھور نے گرفتاریوںاور تشدد کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر دیا ہے.
صحافیوںکی تمام تنظیموں اور پریس کلب ہا کے عہدیداران نے بھی احتجاج کا اعلان کر دیا ہے. سنٹرل یونین آف جرنلسٹس کی طرف سے مرکزی ایوان صحافت پر حملہ کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے.
جبکہ راولاکوٹ میںبھی بدھ کے روز دن دو بجے تمام سیاسی جماعتوںاور ٹریڈ یونینز پر مشتمل اجلاس طلب کر لیا گیا ہے. جس کے بعد احتجاجی تحریک کا اعلان کیا جائیگا.












16 تبصرے “مظفرآباد: مظاہرین پر پولیس تشدد اور گرفتاریوںکا سلسلہ بدستور جاری، پریس کلب پر بھی پولیس کا حملہ”