آسٹریلیا میں‌سنسرشپ کے خلاف احتجاج، اخبارات کے سرورق کالے شائع کئے گئے

آسٹریلیا کے تمام اخباروں نے میڈیا پر پابندیوں کی مخالفت میں پیر کو اپنے سر ورق کو خالی چھاپ‌کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ مخالفت نیشنل سکیورٹی قوانین اور پریس کی آزادی کی پامالی کے خلاف ہے۔ دی آسٹریلین، دی سڈنی مارننگ اور آسٹریلین فنانشیل ریویو سمیت قومی اور علاقائی اخباروں نے اپنے فرنٹ پیج کو کالا چھاپا ہے۔

اس بارے میں ملک بھر کے ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر یہ اشتہار نشر ہو رہے ہیں، جس میں ناظرین سے اس سوال پر غور کرنے کو کہا جا رہا ہے، ” جب حکومت آپ سے سچ دور رکھتی ہو، وہ کیا کور کریں‌گے؟ ” غور طلب ہے کہ جون میں آسٹریلیائی براڈکاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی) کے ہیڈ کوارٹر اور نیوز کارپ کے ایک صحافی کے گھر پر چھاپےمارے جانے کے بعد آسٹریلیا کے ‘ رائٹ ٹو نو کوئلیشن ‘ مہم کے تحت اخباروں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ یہ چھاپے شائع کئے گئے دو مضامین کے بعد مارے گئے، جن سے حکومت کا کافی مذاق بنا تھا۔

اس بارے میں پریس کے چھ مطالبات ہیں، جن میں سے ایک صحافیوں کو سخت نیشنل سکیورٹی قوانین سے چھوٹ دینا ہے کیونکہ ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ سخت قانون ان کو لوگوں تک معلومات پہنچانے سے روک رہا ہے۔ اخباروں کی مخالفت پر حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پریس کی آزادی کی حمایت کرتے ہیں لیکن کوئی بھی قانون سے اوپر نہیں ہے۔

دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، آسٹریلیائی پارلیمنٹ نے پچھلے 20 سالوں میں رازداری اور جاسوسی سے متعلق 60 سے زیادہ قانون پاس کئے ہیں۔ پچھلے دو سالوں میں 22 قانون منظور کئے گئے ہیں۔ نیوز کارپ آسٹریلیا کے ایگزیکٹو چیئر مین مائیکل ملر نے اخبار کا پہلا صفحہ خالی رکھے جانے کی تصویر ٹوئٹ کی ہے، جس میں دی آسٹریلین، دی ڈیلی ٹیلی گراف، دی ایڈورٹائزر اور آبزرور سمیت کئی اخباروں کی کاپیاں ہیں۔
https://twitter.com/michaelmillerau/status/1186043213011795968
انہوں نے عام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت سے پوچھیں کہ وہ ہم سے کیا چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اے بی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈیوڈ اینڈرسن نے کہا کہ آسٹریلیا سچ چھپانے والی جمہوریت بننے کی راہ پر ہے۔

غور طلب ہے کہ اتوار کو ہی آسٹریلیائی حکومت نے کہا کہ چھاپوں کے بعد تین صحافیوں پر مقدمہ چل سکتا ہے۔ اسی کے مدنظر میڈیا اداروں نے اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم اسکاٹ ماریسن نے کہا کہ پریس کی آزادی آسٹریلیا کی جمہوریت کے لئے اہم ہے، لیکن قانون کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔