جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک: بقاء کی جنگ ہر مظلوم کو لڑنی ہوگی

تحریر: التمش تصدق
ایڈیٹر عزم جے کے این ایس ایف

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیرکی آزادی پسند اور ترقی پسند طلبہ تنظیموں اور عوامی پارٹیوں کا استحصالی نظام کی پیداوار سامراجی قوتوں کے خلاف عوامی قومی اتحاد(پیپلز نیشنل الائنس) کا قیام قومی،معاشی اور سیاسی آزادی کی جدوجہد کو سائنسی بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے ایک انقلابی قدم ہے. جموں کشمیر پر پاکستان اور ہندوستان کے سامراجی قبضے کی لڑائی میں لقمہ اجل بنے والے مسئلہ کشمیر سے جڑے عوام کو انقلابی سائینسی نظریات کی روشنی میں مرتب کردہ پروگرام ہی اس جبر مسلسل سے نجات دلا سکتا ہے.اس وقت تک قابض ممالک ،عالمی سامراجی اداروں اور قابضین کی نمائندہ جموں کشمیر کے دونوں اطراف کی مقامی سیاسی اشرفیہ کے شور میں اس خطے کے کروڑوں محکوموں اور مجبوروں کی آہوں،سسکیوں اور امنگوں کو چھپایا اور دبایا جاتا رہا ہے.

ایک حقیقی انقلابی پارٹی ہی استحصالی قوتوں کے خلاف محکوم عوام کی خواہشات اور مفادات کی ترجمانی کر سکتی تھی اور ہے جو اپنے انقلابی پروگرام کے گرد تمام منقسم حصوں میں موجود عوام کو سامراجی قبضے کے خلاف اور دیگر جمہوری، سیاسی اور معاشی غصب شدہ حقوق کی بحالی کیلئے منظم کر سکے.بدقسمتی سے جموں کشمیر میں ایسی انقلابی پارٹی کا فقدان رہا ہے جو مسئلہ کشمیر سے جڑے لوگوں کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کر سکے اور یہاں کے عوام کے بنیادی حق، حق خودارادیت اور حق آزادی کی جدوجہد کو درست سمت میں آگے بڑھا سکے. یہی وجہ ہے کشمیری عوام کی بہتر سالہ طویل مذمتی جدوجہد کو سامراجی پراکسی وار میں بدلتے رہے اور کشمیری عوام کے لہو سے ہولی کھیلی جاتی رہی ہے.سامراجی مفادات کے لیے جاری اس خونی کھیل میں ایک لاکھ سے زائد افراد کو قتل کیا گیا. پاکستانی اور ہندوستانی ریاست کے فیصلہ سازوں نے مذہبی اور قومی فرقہ وارانہ دہشت گردوں کے ذریعے قتل عام اور فسادات کروا کر مذہب اور نسل کی بنیاد پر جموں کشمیر کے عوام کو تقسیم کرنے کی ہر وقت ہر ممکن کوشش کی ہے.لیکن حکمران طبقات محکوموں کو کچھ وقت کے لیے نفرت کی بنیاد پر تقسیم رکھ کر سکتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں محکوم اور مظلوم عوام کو مشترکہ مسائل مشترکہ جدوجہد پر مجبور کرتے ہیں.

یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کی ہندو بنیاد پرست حکومت نے جب آرٹیکل 370 کو ختم کیا تو جموں کشمیر اور لداخ کی عوام پر یہ خبر بجلی بن گری اور فوری طور حکمران طبقے کے پھلائے ہوئے مذہبی اور نسلی تعصب اور نفرت کو عوام نے مسترد کیا اور مشترکہ مفادات کے لئے منقسم ریاست کی تمام اکائیوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے ہیں.مودی سرکار کا آرٹیکل 370 کا خاتمہ نہ صرف جموں کشمیر کی عوام کے لئے بلکہ برصغیر کی سیاست میں کسی بھونچال سے کم نہیں ہے اس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے .اس فیصلے نے جہاں ہندوستان کی جمہوریت اور سیکولر آئین کا پول کھول کر دیا ہے ساتھ ہی سرمایہ دارانہ نظام پر قائم ہندوستانی فیڈریشن کے وجود پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے.اس وقت زوال پذیر بھارتی حکمران طبقے اپنی حاکمیت کو قائم رکھنے کے لیے ہندوتا اور اکھنڈ بھارت کے رجعتی تصورات کے ذریعے معاشی، قومی اور مذہبی بنیادوں پر جبر میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے. جس سے ہندوستانی فیڈریشن میں موجود قوموں، مذہبی اقلیتوں اور محنت کشوں میں خوف عدم اعتماد اور بے چینی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے.جس کا اظہار احتجاجی مظاہروں کی صورت میں ہو رہا ہے.

آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف اور جموں کشمیر کی عوام کے حق میں ہندوستان بهر میں بائیں بازو کی جماعتوں کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں جن میں بڑی تعداد میں محنت کشوں اور نوجوانوں نے شرکت کی ہے.اس فیصلہ نے پاکستان کے ستر سالہ قومی بیانیہ کی دھجیاں بکھیر دیں اور پاکستانی عوام کو کشمیر فتح کرنے کا ستر سال سے دیکھایا جانے والا خواب اچانک ٹوٹ گیا ہے جو خواب دیکھا کہ ملکی دفاع کے نام پر محنت کشوں کی پیدا کردہ دولت کو لوٹا جاتا رہا ہے.اب پاکستان کا حکمران طبقہ عوام سے ہوش میں آنے کی اپیل کر رہا ہے کیونکہ بتہر سال سے عوام کو ٹرک کی جس بتی کے پیچھے لگایا گیا تھا وہ ٹرک ہی غائب ہو گیا ہے.پاکستان وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام کسی خام خیالی میں نہ رہیں مسلم امہ نے بھارت میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور سکیورٹی کونسل میں ہمارا استقبال کرنے کو کوئی ہار لے کر نہیں کھڑا ہے. دوسرے لفظوں میں موصوف یہ فرما رہے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا ہے.اس صورتحال نے حکمران طبقات کے جھوٹ پر مبنی نظریات کی حقیقت کو دونوں ممالک کی عوام کے سامنے آشکار کیا ہے، مسلم امہ کردار سب کے سامنے ہے، جس سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ سرمائے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے اور حکمران طبقات کا مفادات کے سوا کوئی اصول نہیں ہوتے،سرمایہ دارانہ جمہوریت میں حاکمیت جمہور کی نہیں سرمائے کی ہوئی ہے، سیکولر آئین سے معاشرے سیکولر نہیں ہو سکتے جہاں نفرت اور مذہبی شدت پسندی حکمرانوں کی ضرورت ہو.اقوام متحدہ امریکی سامراج کی لونڈی ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے کام کرتی ہے وہ کسی قوم کو آزادی نہیں دلوا سکتی .

عوام کی اکثریت کتابوں سے نہیں سیکهتی بلکہ وہ روزمرہ زندگی کے حالات، تجربات اور واقعات سے سبق حاصل کرتی ہے. موجود عہد میں ہونے والے واقعات عوامی شعور کو جھنجھوڑ رہے ہیں اور انہیں انقلابی نتائج اخذ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں.آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں کہیں دنوں سے کرفیو نافذ ہے اور ٹیلیویژن انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند ہے.جس سے عوامی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے اور عوام میں بھارت کے قبضے کے خلاف غم و غصے میں اضافہ ہو رہا ہے. کرفیو اور فوجی جبر اس سارے علاقے میں بغاوت کے خدشے کے پیش نظر اسے کچلنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ اقدامات بغاوت کے شعلوں کو مزید بھڑکا سکتے ہیں.

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں مودی سرکار کے اس فیصلے کے بعد کٹه پتلی حکومتوں سمیت روایتی سیاسی جماعتوں کی قیادت اور عوام سب حیران اور ششدر رہ گئے ہیں. کسی کے پاس بھی کسی بات کا جواب نہیں ہے. کیونکہ بھارت کے حکمران طبقے نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں جو اقدامات کئے ہیں پاکستانی حکمران طبقے نے یہ سب کہیں سال پہلے کر دیا تھا.پاکستانی مقبوضہ علاقوں میں عوام نے اس واقعے کا رد عمل ابتدائی طور پر احتجاجی مظاہرے کر کے دیا جن میں کچھ احتجاجی مظاہروں کو کسی حد تک سرکاری سرپرستی بھی حاصل رہی ہے.لیکن احتجاجی مظاہروں میں بھارتی زیر انتظآم کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے ساتھ عوام نے پاکستانی قبضے اور گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی کے خلاف بهی احتجاج درج کرایا.

پیپلز نیشنل الائنس کا قیام بھی بدلتے ہوئے ملکی اور عالمی معروضی حالات میں سامراجی جبر، جنگی جنون اور جموں کشمیر کی ازسر نو بندر بانٹ کے خلاف آزادی پسند اور انقلابی مذمتی قوتوں کو یکجا کر کے ان لاکھوں بے آوازوں کی آواز بننا ہے جن کی کوئی آواز نہیں ہے. پیپلز نیشنل الائنس کے قیام کا مقصد پاکستانی مقبوضہ علاقوں اور بھارتی مقبوضہ علاقوں کے لوگوں کو جمہوری اور انقلابی پروگرام کے گرد جمع کرنا ہے جو پروگرام ماضی میں موجود مذہبی بنیاد پرستی اور تنگ نظر قوم پرستی کی تنگ حدود سے وسیع ہے. جو مسئلہ کشمیر سے جڑی تمام اقوام کے لیے قابل قبول اور قابل عمل ہے . غیرملکی افواج کا انخلا کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے جڑی ہوئی تمام اقوام کے حقیقی نمائندوں پر مشتمل انقلابی حکومت اور آئین ساز اسمبلی کے قیام کیلئے جدوجہد کرنا جو پابند ہو گی تمام قوموں کو انکے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کی. تمام قوموں کے حق خودارادیت بشمول حق علیحدگی کو تسلیم کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر سے جڑے لوگوں (گلگت، بلتستان،لداخ،جموں،کشمیر اور پونچھ) کی رضاکارانہ فیڈریشن کا قیام جس میں تمام قوموں کو برابری کی حیثیت کو تسلیم کرنا اور ہر علاقے کے وسائل پر وہاں کے لوگوں کا اختیار اور کنٹرول کی جدوجہد کرنا. ہر قسم کے ظلم، خبر استحصال اور غلامی کے خلاف قومی، معاشی اور سیاسی آزادی کی جدوجہد کو اشتراکی سائینسی نظریات کی بنیاد پر منظم کرتے ہوئے طبقات سے پاک انسانی معاشرے کے قیام ہی اس کرہ ارض سے بھوک،جہالت، بیروزگاری، بیماری اور غلامی جیسی طبقاتی نظام کی پیدا کردہ غلاظتوں سے محنت کش طبقات اور محکوم قومیتوں کو ہمیشہ کے لیے نجات دلا سکتا ہے. آزادی کی جدوجہد میں سامراجی اداروں اور حکمران طبقات کے بجائے دنیا بهر کے محنت کش،طلبہ اور انقلابی نوجوان ہی ہمارے اتحادی اور غلامی اور استحصال کے خلاف جنگ میں ہمارے ساتھی ہیں. درست نظریات اور حکمت عملی پر کی جانے والی جدوجہد کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ہے ہم نے آج وہ بنیادیں رکھنی ہیں جو ظلم کی سیاہ رات میں مظلوموں اور محنت کش عوام کی انقلابی آدرشوں کی روشنی میں رہنمائی کرے .

پیپلز نیشنل الائنس نے جموں کشمیر چھوڑ دو تحریک کا آغاز کیا ہے جو غلامی کے خلاف اعلان جنگ ہے، یہ جنگ مظلوموں کی بقا کی جنگ ہے ،جو ہر مظلوم کو لڑنی ہو گی.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: