آج سولہ اکتوبر کو دنیا بھر میںخوراک کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میںہر سال 80 کروڑ سے زائد افراد بھوکا پیٹ رہنے پرمجبور ہوتے ہیں. بھوکے رہنے والے افراد میںاکثریت ان لوگوں کی ہے جو خوراک پیدا کرتے ہیں اور زرعی صنعت سے وابستہ ہیں.
اقوام متحدہ کی کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیامیںدس ارب آبادی کےلئے ضروری خوراک دستیاب ہے لیکن ہر سال ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کی خوراک ضائع کر دی جاتی ہے. انسانی حقوق اور انسانیت کے دعویدار سرمایہ دارانہ جمہوری ادارے اس کی اصل وجہ بتانے سے قاصر ہیںکہ اتنی بھاری تعداد میںخوراک کو ضائع کیوں کیا جاتا ہے جبکہ آبادی کی ایک بڑی تعداد خوراک سے محروم ہوتی ہے. بالخصوص وہ لوگ جو خود خوراک پیدا کرنے کے عمل میںاپنی محنت فروخت کرتے ہیں. در اصل جو خوراک خود پیداکرتے ہیں انکی آمدن اتنی کم ہے کہ وہ خود اپنی پیدا کردہ خوراک خریدنے کی صلاحیت سے عاری ہیں. اور اسی خوراک کی فروخت کاری کے ذریعے سرمایہ دار اربوں ڈالر کما رہے ہیں. جبکہ خریدار نہ ملنے پر ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کی خوراک ہر سال سمندر کی نذر کر دیتے ہیں.
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میںاس وقت ایک تہائی ورک فورس زرعی مزدوروں پر مشتمل ہے. جبکہ ترقی پذیر ممالک کے کسان دنیا کی 80 فیصد خوراک پیدا کرتے ہیں، اور کم خوراکی کے مسائل کا شکار افراد میںاکثریت انہی زرعی مردوخواتین کی ہے. زراعت کے شعبہ سے منسلک خواتین کو دہرا استحصال کم تنخواہوںکی صورت میںکیا جارہا ہے.
ترقی پذیر ممالک میںآمدن کا پچاس فیصد سے زائد خوراک کے حصول پر خرچ کیا جا رہا ہے.
رپورٹ کے مطابق خوراک کی کمی کا سامنا صرف ترقی پذیر ممالک کے محنت کشوںکو ہی نہیںہے بلکہ ترقی یافتہ قرار دیئے جانے والے ملکوںمیںبھی صورتحال کچھ اچھی نہیںہے.گزشتہ سال صرف امریکہ میںتین کروڑ ستر لاکھ افراد اپنی ضروری خوراک خریدنے سے محروم رہے ہیں.
مذکورہ بالا اعداد و شمار سے یہ معلوم پڑتا ہے کہ دنیا میں بسنے والے انسانوںکےلئے دستیاب خوراک سے زائد خوراک کی پیداوار کے باوجود اتنی بڑی تعداد میںانسانوںکا بھوکا رہنا موجودہ نظام پر سوالیہ نشان ہے. سرمائے کی ہوس اور منافعوں اور شرح منافع کے حصول کی دوڑ میں سرمایہ دار اور ملٹی نیشنل کمپنیاں کسانوںاور زرعی مزدوروںکا استحصال کر رہی ہیں اور انہیں انکی پیدا کردہ خوراک سے محروم کرتے ہوئے اپنے لئے سرمائے میںبھاری اضافہ کرنے میںمصروف ہیں.
سرمایہ دارانہ ملکیتی رشتوںکو توڑے بغیر دنیا سے بھوک کا خاتمہ ممکن نہیںہے. محنت کش طبقہ ذرائع پیداوار کو اپنی اجتماعی ملکیت میںلیکر پیداوار کے مقصد کو منافع کے حصول سے انسانی ضروریات کی تکمیل سے تبدیل کرتے ہوئے اس کرہ ارض سے نہ صرف بھوک کا خاتمہ کر سکتا ہے بلکہ دنیا بھر میںموجود انسانوںکو ایک حقیقی انسانی زندگی تفویض کرنے میںکردار ادا کر سکتا ہے.
موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے انسانیت کو تاراج کرنے، بھوک، ننگ، جہالت اور فرسودگی کو انسانوں کی وسیع تر اکثریت پر مسلط کرنے کے علاوہ حکمران طبقات کے پاس اپنی دولت میںاضافے اور اقتدار کو جاری رکھنے کا کوئی اور راستہ موجود نہیںہے.












22 تبصرے “خوراک کا عالمی دن: اناج اگانے والے خود بھوکے سونے پر مجبور”