نیزہ پیر سیکٹر پر فائرنگ کا تبادلہ، بچی سمیت تین کی موت، تین زخمی

پاک بھارت فوجوں‌کے مابین کنٹرول لائن کے نیزہ پیر سیکٹر پر فائرنگ کے تبادلہ کے باعث ایک بچی سمیت تین افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں. تاہم بھارتی زیر انتظام کشمیر میں‌ہونے والے نقصانات کی اطلاع نہیں‌مل سکی.

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے حویلی کہوٹہ کے گاوں کیرنی موہری سے غلام محمد ولد لعل دین ،عمر 54سال ،حیدر علی ولد محمد خلیل عمر 10سال ، مریم بی بی دختر غلام محمد عمر 12سال کی موت واقع ہو گئی ہے جبکہ آمنہ بی بی زوجہ محمد طارق ساکنہ مندہار ، سفینہ بی بی زوجہ محمد عارف ساکنہ مندھار اور نصیب جان زوجہ عبد السبحان سکنہ موہری زخمی ہوئے ہیں۔زخمیوں کو قریبی ہستپال منتقل کر دیا گیا۔

پریس ریلیز کے مطابق پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے کنٹرول لائن کے علاقے حویلی کے سیکٹر نیزہ پیر پر بھارتی فوج کی فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کنٹرول لائن پر بسنے والے افراد کی قربانیاں غیر معمولی ہیں۔انہوں نےموت کا شکار ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج سفاک فوج ہے جو نہتے شہریوں کو نشانہ بناتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن پر بسنے والے بہادر کشمیری بھارتی فوج کی فائرنگ سے قطعا مرعوب نہیں ہونگے۔انہوں نے کنٹرول لائن پر بسنے والے بہادر کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر آباد شہری پاک افواج کے شانہ بشانہ دفاع وطن کےلئے برسرپیکار ہیں ، وہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے ڈرنے والے نہیں۔ بھارتی فوج ہماری پاک فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتی اس لیے وہ لائن آ ف کنٹرول پر معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہے۔

وزیر اعظم نے اس موقع پر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی.

دوسری طرف بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیرمیں‌ہونے والے نقصانات کی بابت اطلاعات موصول نہیں‌ہو سکی ہیں.