پاکستان نے ترکی کی شام میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کردی

پاکستان نے ترکی کی جانب سے شام میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائیوں‌کی حمایت کر دی ہے.

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا ہے کہ ہم ترکی کے ملکی سلامتی کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کو سمجھتے ہیں۔ ترکی بھی پاکستان کی طرح دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ممالک کی صف میں شامل ہے۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ ترکی کی شام میں سیاسی حل کے حوالے سے کوششوں اور اقدامات کی پاکستان بھر پور حمایت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ”35 لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کی احسن طریقے سے میزبانی کرنے والے ترکی کی انسانی کاروائیاں باعث ِ ستائش ہیں اور ہم خطے میں ترکی کے سلامتی خدشات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ترکی بھی پاکستان کی طرح سالہا سال سے دہشت گردی کا نشانہ بننے والا ایک ملک ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان ، شامی سر زمین کی سالمیت اور قلیل ترین مدت میں تمام تر طرفین اور خطے کے ممالک کے ساتھ یکجا ہوتے ہوئے اس مسئلے کو حل سے ہمکنار کیے جانے پر پُر امید ہے۔

معروف صحافی اور ترقی پسند دانشور فاروق سلہریا نے اپنے مضمون میں‌لکھا ہے کہ
”یہاں ضروری ہے کہ تھوڑی سی وضاحت روجاوا (عربی میں:روج آفا) بارے بھی کر دی جائے۔ شمالی شام میں یہ وہ علاقہ ہے جہاں کردوں کی اکثریت ہے۔ شام میں جس المئے نے جنم لیا اس کی ہولناکیاں انسانیت کو شرما دیتی ہیں مگر اس المئے کے دوران اگر کہیں کوئی اچھی پیش رفت تھی تو وہ تھا روجاوا کا خطہ۔ کردوں نے نہ صرف یہاں سے حافظ الاسد کی افواج کو مار بھگایا بلکہ داعش کو بھی شکست دی اور اس آزاد خطے میں ایک انتہائی ترقی پسندانہ نظام ِ حکومت و معاشرت متعارف کرایا۔

اس نظام حکومت کے‘گراس روٹ جمہوریت، فیمن ازم (یاد رہے کرد فوج یعنی پیش مرگہ کا ایک اہم حصہ کرد خواتین پر مشتمل ہے) اور ماحولیات بنیادی اصول ہیں۔ پورے مشرق وسطیٰ میں اس قدر ترقی پسندانہ سیاسی نظام پچھلی کئی دہائیوں سے دیکھنے میں نہیں آیا۔ اسلام کے چیمپیئن نے صرف کرد مسلمانوں پر حملہ نہیں کیا۔ ترکی کے مذہبی جنونی صدر نے ایک ترقی پسند نظام پر بھی حملہ کیا ہے۔”

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: