لبریشن فرنٹ کا ”فریڈم مارچ“: ہزاروں شرکاء کا دھرنا جاری، قیادت کنٹرول لائن کراس کرنے پر بضد

کشمیری قوم پرست تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک گروپ کے زیر اہتمام بھمبر تا سرینگر ”فریڈم مارچ“ کے شرکاء چکوٹھی کنٹرول لائن سے چند کلومیٹر قبل انتظامیہ اور پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے روک دیئے ہیں۔ شرکاء مارچ نے پولیس رکاوٹوں سے کچھ فاصلے پر دھرنا دے دیا ہے، انتظامی افسران کے ساتھ ابتدائی مذاکرات ناکام ہو گئے،  مذاکرات کا اگلا دور صبح دس بجے ہوگا۔ سات ستمبر صبح دس بجے تک شرکاء فریڈم مارچ جسکول کے مقام پر کھلے آسمان تلے دھرنا دیئے بیٹھے رہیں گے، قائدین کنٹرول لائن کراس کرنے پر بضد ہیں۔ لبریشن فرنٹ نے کنٹرول لائن کو پاؤں تلے روندتے ہوئے سرینگر تک مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ شرکاء مارچ نے ہفتہ کے روز مظفرآباد سے گڑھی دوپٹہ تک تیس کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا، جبکہ شرکاء کی ایک بڑی تعداد گاڑیوں پر سوار ہو کر بھی گڑھی دوپٹہ پہنچی ہے، شرکاء مارچ گڑھی دوپٹہ ڈگری کالج کے گراؤنڈ میں رات گزارنے کے بعد چھ اکتوبر کو چکوٹھی کی طرف پیدل اور گاڑیوں پر سوار ہو کر روانہ ہوئے جبکہ مظفرآباد اور ضلع جہلم ویلی سے تازہ دم شرکاء بھی کثیر تعداد میں مارچ میں شامل ہوئے ہیں۔دھرنے کے مقام پر ایک طرف پہاڑی ہے جبکہ دوسری طرف دریا موجود ہے، سڑک پر ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین بیٹھے ہیں، سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے شرکاء مارچ اور پولیس اہلکاران کو شدید مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور انتظامیہ نے مارچ کے شرکاء کو روکنے کیلئے مظفرآباد سے قریباً اکیاون کلومیٹر دور چناری بازارسے ڈیڑھ کلومیٹر آگے جسکول نامی مقام پر کنٹینرز، مٹی اور پتھر وغیرہ رکھ کر مرکزی شاہراہ کو بلاک کر رکھا ہے، جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی ہے، اس کے علاوہ مرکزی شاہراہ اور نزدیکی علاقہ کو خاردار تاریں لگا کر بھی روکا گیا ہے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیرانتظام #فریڈم_مارچ کے شرکاء کے گڑھی دوپٹہ اور چناری کے درمیان سفر کے دوران مختلف مناظر

Posted by Daily Mujadala on Sunday, October 6, 2019

شرکاء مارچ نے ہزاروں کی تعداد میں آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے ابتدائی پڑاؤسہ پہر تین بجے چناری بازار میں ڈالا، جہاں شرکاء مارچ نے کھانا کھایا، مختصر جلسہ منعقد کیا گیا، جس کے بعد شرکاء مارچ نے آگے کی جانب سفر شروع کیا لیکن ڈیڑھ کلومیٹر مزیدچلنے کے بعد سڑک پر کھڑی رکاوٹوں کے سامنے رک گئے۔

شرکاء مارچ میں بچے، خواتین، بوڑھے اور جوان شامل ہیں، پچاس کلومیٹر سے زائد پیدل سفر طے کرنے کے بعد متعدد شرکاء مارچ کے پاؤں زخمی ہو چکے ہیں، بزرگ شرکاء مارچ کو خرابی صحت کا سامنا ہے۔ لبریشن فرنٹ کے سابق چیف آرگنائزر سردار محمد قدیر خان کو خرابی صحت کے باعث چناری سے مارچ کے شرکاء کو الوداع کر کے واپس آنا پڑا۔ ان کے علاوہ بھی متعدد ایسے شرکاء ہیں جو صحت کے مسائل اور پیدل سفر کے باعث انجریز کا شکار ہو کر واپس لوٹ چکے ہیں۔ تاہم ہزاروں کی تعداد میں شرکاء مارچ پر عزم ہیں اور کنٹرول لائن کراس کرنے کے عزم کے ساتھ شدید سرد موسم میں سڑک پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں.

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا فریڈم مارچ جسکول پولیس رکاوٹوں کے پاس پہنچ کر دھرنا کی شکل اختیار کر گیا، ہزاروں شرکاء مارچ ایل او سی چکوٹھی سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں، زونل صدر توقیر گیلانی کا چناری سے روانگی پر شرکاء سے خطاب ملاحظہ کریں

Posted by Daily Mujadala on Sunday, October 6, 2019

ڈاکٹر توقیر گیلانی کی میڈیا سے گفتگو
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبریشن فرنٹ کے کارکنان پر امن ہیں، انہیں پر امن رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، ہم اپنے جائز مقاصد میں کامیاب ہونگے، ہمارا مقصد بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے، کشمیریوں کو تقسیم کرنے والی خونی لکیر کو روندنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم پر امن انداز میں ہی ہر صورت کنٹرول لائن کراس کرنے کیلئے پر عزم ہیں۔ مذاکرات کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، انہوں نے شرکاء مارچ کوبھی کہا کہ ان میں سے جو واپس جانا چاہتا ہے جا سکتا ہے، قائدین ہرصورت کنٹرول لائن کراس کریں گے، آگے جان کا خطرہ ہے اور پہلی گولی میں خود کھانے کو تیارہوں، کسی صورت اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ مرکزی ترجمان رفیق ڈار نے صحافی نعیم چغتائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم ہر صورت اس پارجانے کیلئے پرعزم ہیں، انتظامیہ سے مذاکرات جاری ہیں، ہم پر امن طریقے سے کوئی نتیجہ نکلنے کیلئے پر امید ہیں، تاہم اگلے لائحہ عمل کا اعلان مذاکرات کے بعد باہمی مشاورت سے کیاجائے گا۔

فریڈم مارچ کے شرکاء نعرے لگاتے ہوئے

Posted by Daily Mujadala on Sunday, October 6, 2019

عمران خان فریڈم مارچ کو بھارتی بیانیے کے حق میں قرار دیا
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے فریڈم مارچ سے متعلق دو ٹویٹ اردو میں جبکہ ایک انگریزی زبان میں کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر میں دو ماہ سے جاری غیر انسانی کرفیو میں گھرے کشمیریوں کے حوالے سے ”آزادکشمیر“ کے لوگوں میں پایا جانے والا کرب سمجھ سکتے ہیں لیکن اہل کشمیر کی مدد یا جدوجہد میں انکی حمایت کی غرض سے جو بھی ”آزادکشمیر“ سے ایل او سی پار کرے گا وہ بھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلے گا۔ وہ بیانیہ جس کے ذریعے پاکستان پر ”اسلامی دہشت گردی“ کا الزام لگا کر ظالمانہ بھارتی قبضے کے خلاف اہل کشمیر کی جائز جدوجہد سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایل او سی پار کرنے سے بھارت کو مقبوضہ وادی میں محصور لوگوں پر تشدد بڑھانے اور جنگ بندی لکیر کے اس پار حملہ کرنے کا جواز ملے گا۔

وزیراعظم پاکستان کے بیانات کے بعد پاکستانی میڈیا سے فریڈم مارچ کی کوریج کو محدود کر دیا گیا، جبکہ دوسری جانب پاکستانی صحافتی حلقوں، ترقی پسند رہنماؤں کے علاوہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے مختلف ٹویٹر صارفین نے وزیراعظم پاکستان کے ٹویٹس پر انہیں سخت جواب دیئے ہیں اور وزیراعظم کے بیان کو اقوام متحدہ میں انکی تقریر سے متضاد قرار دیا ہے۔

Kashmiri aker kashmiri hi hain kawa kisi bi party sa ho ye hukumat ka jawab dehko new waly ki band baja di

Posted by Khan Ejaz Kashmiri on Sunday, October 6, 2019

وزیراطلاعات مشتاق منہاس کا عمران خان کے ٹویٹ پر سخت رد عمل
پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ٹویٹس کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک ذمہ دار حکومت ہیں، ہماری پولیس اور دیگر ادارے کام کر رہے ہیں، یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے دکھ درد اور تکالیف کو دیکھتے ہوئے ان سے یکجہتی کرنے نکلے ہیں، یہ کشمیریوں کی آزادی کیلئے مارچ کر رہے ہیں لیکن ہم انکی جان و مال کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ ہم کسی صورت انہیں بھارتی درندہ فورسز کے سامنے نہیں جانے دیں گے، ہم انکی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں گے، ان کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔ لیکن وزیراعظم پاکستان نے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔


پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی انتظامیہ کی حکمت عملی
کمشنر مظفرآباد ڈویژن چوہدری امتیاز نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر کسی بھی فرد کو ایل او سی کی جانب جانے کی اجازت دینا ممکن نہیں، اس لئے مارچ کے شرکاء کی جان و مال کی حفاظت کویقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے ایک سینئر پولیس افسر ارشد نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سکیورٹی تحفظات کے سبب کسی کو بھی کنٹرو ل لائن عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

مارچ کے شرکاء میں مسلح افراد کی شمولیت سے متعلق ایجنسیز کی رپورٹس
ضلع جہلم ویلی کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے کمشنر مظفرآباد ڈویژن کو دو اکتوبر کے روز ایک خط تحریر کیا گیا تھا جس میں فریڈم مارچ سے متعلق سکیورٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی روداد بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ایجنسیز کی رپورٹس کے مطابق مارچ کے شرکاء میں مسلح جہادی تنظیموں کے افراد بھی شامل ہونگے، جن کی وجہ سے شدید تصادم کا خطرہ ہے، لہٰذا شرکاء مارچ کو ضلع جہلم ویلی میں داخلے سے پہلے ہی روکنا مناسب ہے، خط میں ہوا کے مخالف سمت چلنے کی وجہ سے آنسو گیس کے کارآمد نہ ہونے سمیت دیگر خدشات کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

بھمبر سے شروع ہونے والا مارچ دو دن بعد گڑھی دوپٹہ پہنچا
واضح رہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیراہتمام فریڈم مارچ کا آغاز چار اکتوبر کو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع بھمبر سے ہوا تھا، شرکاء مارچ گاڑیوں کے قافلے کی صورت بھمبر سے میرپور، کوٹلی، تتہ پانی، ہجیرہ، راولاکوٹ، باغ سے ہوتے ہوئے چار اکتوبر ہی کی شب مظفرآباد پہنچے تھے۔ شرکاء مارچ کا جگہ جگہ والہانہ استقبال کیا گیا، راستوں سے قافلے مارچ میں شامل ہوتے رہے، مارچ سیکڑوں چھوٹی بڑی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور بسوں و کوسٹروں پرمشتمل تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکاء جلوس کا استقبال کیا اور تمام چھوٹے بڑے شہروں سے شرکاء جلوس کو بڑی ریلیوں کی شکل میں خوش آمدید کہا گیا اور پیدل مارچ کرتے ہوئے شہر وں اور بازاروں سے شرکاء مارچ کو الوداع کیا گیا۔

پانچ اکتوبر کی صبح دس بجے مارچ کے شرکاء نے مظفرآباد سے چکوٹھی کی جانب پیدل مارچ کا آغاز کیا اور تیس کلومیٹر تک کا راستہ طے کرتے ہوئے دن سارا چلنے کے بعد مارچ کے شرکاء گڑھی دوپٹہ تک پہنچے جہاں رات کے پڑاؤ کا فیصلہ کیا گیا۔ گڑھی دوپٹہ سے چھ اکتوبر کو چکوٹھی کی جانب سفر شروع کیا گیا تھا۔

شرکاء مارچ میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ایک بڑی تعداد بھی شریک ہے، مارچ کے شرکاء کی ایک بڑی اکثریت گاڑیوں میں سوار ہو کر پیدل شرکاء کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے گڑھی دوپٹہ تک پہنچی، چھ اکتوبر کی صبح پیدل مارچ چکوٹھی کی جانب روانہ ہوگا۔
گڑھی دوپٹہ سے چکوٹھی کا فاصلہ تقریباً چھبیس کلومیٹر ہے، جبکہ جس مقام پرشرکاء مارچ کو روکنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اس مقام تک پہنچنے کیلئے شرکاء مارچ کو سترہ سے اٹھارہ کلومیٹر مزید سفر طے کرنا پڑا۔

قومی و بین الاقوامی میڈیا پر فریڈم مارچ کی گونج
پاکستان کے قومی و بین الاقوامی میڈیا پر لبریشن فرنٹ کے فریڈم مارچ کو بھرپور کوریج دی گئی ہے جبکہ بھارتی میڈیا نے اس مارچ کو انڈیا کے خلاف سازش قرار دیا ہے، تاہم وزیراعظم کے بیان کے بعد پاکستان کے قومی میڈیا سے مارچ کی کوریج کو محدود کر دیاگیا لیکن بین الاقوامی نشریاتی اداروں نے مارچ کی بھرپور کوریج کی ہے۔ تاہم بھارتی میڈیا کاالزام ہے کہ مارچ کی آڑ میں پاکستانی فوج اور مسلح تنظیمیں بھارت کے ہاتھوں خون خرابہ کروانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ہی دوسرے گروپ(صغیرگروپ) کے زیر اہتمام سات ستمبر کو راولاکوٹ سے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی طرف لانگ مارچ کیا گیا تھا جس میں بھی ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں، سیاسی کارکنوں اور قوم پرست و ترقی پسند تنظیموں کے رہنماؤں و کارکنوں نے شرکت کی تھی، شرکاء مارچ ہجیرہ شہر سے پیدل تیتری نوٹ کی جانب روانہ ہوئے تھے، جن کو دوارندی کے مقام پر پولیس نے روک لیا تھا، جہاں کارکنوں اور پولیس کے مابین تصادم بھی ہوا تھا۔ جبکہ کوٹلی سے آنے والے ہزاروں کی تعداد پر مشتمل قافلے کو کوٹلی شہر کے نزدیک ہی روک دیا گیا تھا، لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام آزادی مارچ کے شرکاء نے تین روز تک تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر دھرنا بھی دیا تھا، جبکہ اڑتیس گرفتار رہنماؤں کی رہائی کیلئے بعد ازاں احتجاج کئے گئے تھے۔ پاکستان کے قومی میڈیا نے مذکورہ مارچ کا مکمل بلیک آؤٹ کیا تھا جبکہ بھارتی میڈیا نے مذکورہ مارچ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی بھرپورکوشش کی تھی، تاہم بین الاقوامی میڈیا نے مارچ کے شرکاء کے موقف کوبڑے پیمانے پر جگہ دی تھی۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی خونی لکیر کو روندنے کیلئے متعدد بار کوششیں کی جا چکی ہیں، ابتدائی اعلان پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے بانی قائدین میں شامل چوہدری غلام عباس نے یہ کوشش 1958ء میں کی تھی، بعد ازاں بائیں بازوکی طلبہ تنظیم جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں نے 1990ء میں عملاً کنٹرول لائن کو پاؤں تلے روندتے ہوئے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے حصے پر تنظیمی پرچم لہرائے تھے، اس عمل میں تین نوجوانوں کی جانیں افواج کی فائرنگ سے ضائع ہوئیں جبکہ متعدد زخمی ہوئے، بعد ازاں لبریشن فرنٹ نے 1992ء میں بھی چکوٹھی ہی کے مقام سے کنٹرول لائن کو روندنے کیلئے مارچ کیا جسے راستے میں روکا گیا، انتظامیہ، پولیس اور فوج کے اہلکاران کے ساتھ تصادم میں سات کارکنان کی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے تھے، اس کے علاوہ بھی متعدد مرتبہ اس طرح کے اعلانات اور مارچ کی کوششیں ہو چکی ہیں لیکن کنٹرول لائن کو روندنے میں کشمیریوں کو کامیابی نہیں مل سکی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: