حکومتی وفد سے مذاکرات ناکام: بارش اور سردی میں دھرنا جاری، اگلا فیصلہ صبح کیا جائیگا

قوم پرست جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (یاسین ملک گروپ) کے زیر اہتمام ”فریڈم مارچ“ کے قائدین اور حکومتی وفد کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ شرکاء مارچ ہر صورت کنٹرول لائن عبور کرنے پر بضد ہیں۔دوسری طرف بارش اور شدید سردی کی وجہ سے شرکاء مارچ کی مشکلات مزیدبڑھ گئی ہیں۔

انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم فاروق حیدر کے نامزد کردہ فوکل پرسن و وزیر اطلاعات مشتاق منہاس اور حکومتی وزیر سردار فاروق طاہر کی سربراہی میں حکومتی وفد نے شرکاء مارچ کی قیادت سے مذاکرات کرتے ہوئے انہیں دھرنا اور مارچ ختم کرنے پررضا مند کرنے کی کوشش کی۔

شرکاء مارچ کے قائدین جن میں زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی، مرکزی ترجمان رفیق ڈار، سلیم ہارون اور دیگر شامل تھے نے حکومتی وفد کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ قائدین نے حکومت سے رکاوٹیں ہٹانے کا کہا اور ہر صورت کنٹرول لائن کراس کرنے پر بضد رہے۔

#فریڈم_مارچ کے شرکاء شدید سردی اور بارش میں نغموں کے ذریعے ماحول کو گرماتے ہوئے۔۔۔ ویڈیو بشکریہ نعیم چغتائی

#فریڈم_مارچ کے شرکاء شدید سردی اور بارش میں نغموں کے ذریعے ماحول کو گرماتے ہوئے۔۔۔ ویڈیو بشکریہ نعیم چغتائی

Posted by Daily Mujadala on Sunday, October 6, 2019

حکومتی وفد سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد قائدین نے رات جسکول کے مقام پر ہی بشکل دھرنا گزارنے کا فیصلہ کیا، سات اکتوبرکی صبح قائدین کی جانب سے مشاورت کے بعد مارچ کے شرکاء کے آگے جانے کی حکمت عملی سے متعلق اعلان کیا جائے گا۔

مظفرآباد تا سرینگر شاہراہ پر جسکول کے مقام پر ہزاروں کی تعداد میں شرکاء مارچ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ جبکہ پندرہ سو کے لگ پولیس اہلکاران بھی رکاوٹیں کھڑی کر کے وہاں پر تعینات کئے گئے ہیں۔ پہاڑی علاقہ اور دریائے جہلم کے کنارے پرواقع شاہراہ پر بیٹھے شرکاء دھرنا کیلئے رات گئے ہونے والی تیز بارش نے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

اسی بارے میں‌مزید پڑھئے:
لبریشن فرنٹ کا ”فریڈم مارچ“: ہزاروں شرکاء کا دھرنا جاری، قیادت کنٹرول لائن کراس کرنے پر بضد
لبریشن فرنٹ کا ”فریڈم مارچ“ چھ اکتوبر صبح گڑھی دوپٹہ سے روانہ ہوگا، روکنے کی صورت دھرنا دینے کا اعلان
لبریشن فرنٹ کا ”فریڈم مارچ“ چھ اکتوبر صبح گڑھی دوپٹہ سے روانہ ہوگا، روکنے کی صورت دھرنا دینے کا اعلان
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا ”فریڈم مارچ“: قافلے بھمبر، میرپور، کوٹلی سے روانہ، جگہ جگہ والہانہ استقبال، لوگ سڑکوں پر

وہاں پر موجود نجی ٹی وی سے منسلک صحافی نعیم چغتائی نے روزنامہ مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرکاء دھرنا کے ساتھ شامل ہونے کیلئے نواحی علاقوں سے مزید قافلے بھی پہنچ رہے ہیں، جبکہ نزدیگی گاؤں کے مکینوں نے شرکاء فریڈم مارچ کو سردی سے بچانے کیلئے آگ جلانے کا بندوبست کر رکھا ہے۔ جبکہ ٹینٹ بھی نصب کئے جا رہے ہیں تاکہ شرکاء فریڈم مارچ کو بارش سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا سکے۔

سردار انور صاحب نوجوانوں کے لہو کو گرماتے ہوئے

Posted by Muhammad Fayyaz Abbasi on Sunday, October 6, 2019

نعیم چغتائی کے مطابق شرکاء مارچ پر عزم ہیں، انکے حوصلے بلند ہیں اور وہ ہر صورت آگے جانا چاہتے ہیں۔ شدید سردی اور بارش نے بھی شرکاء مارچ کے حوصلوں کو پست نہیں کیا ہے، بلکہ شرکاء مارچ ترانوں، ملی نغموں اور نعرے بازی کے ذریعے سے لہو گرما رہے ہیں۔

دوسری جانب پولیس اہلکاران کی بھی ایک بڑی تعداد شرکاء مارچ کو آگے جانے سے روکنے کیلئے تعینات کی گئی ہے، پولیس اہلکاران بھی سہولیات کے فقدان کے باعث شدید سرد موسم میں مشکلات کا شکار ہیں۔ تین دن سے پولیس اہلکاران مسلسل شاہراہ پر تعینات ہیں جس کی وجہ سے اہلکاران بیمار پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: