چونیاں: ڈی این اے، ہیومن انٹیلیجنس اور جوتے کا نشان، پولیس نے ملزم کیسے پکڑا؟

چونیاں میں چار بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کی تحقیقات کے بعد پولیس نے ملزم سہیل شہزاد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس بارے میں تصدیق پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ایک پریس کانفرنس میں کی۔

پولیس نے ملزم کو چونیاں میں اسی علاقے سے گرفتار کیا جس علاقے سے یہ بچے لاپتہ ہوئے تھے۔

جہاں زینب کے قاتل علی عمران کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور تصویر موجود تھی وہیں سہیل شہزاد کے بارے میں پولیس کے پاس کسی قسم کے کوئی شواہد نہیں تھے سوائے ایک ڈی این اے کے جس سے یہ کیس اور بھی مشکل تھا۔

اس لحاظ سے پولیس کا اس ملزم کو تلاش کرنا اور بھی مشکل تھا اور اس مقصد کے لیے پولیس افسران روایتی تحقیقاتی عمل کے ذرائع بروئے کار لائے۔

یہاں بھی ایک ہی سوال ہر ایک کے ذہن میں تھا کہ آخر ایسا کیا ہوا جو پولیس کی نظر اس ملزم پر پڑی؟

اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسران میں سے ایک ضلع شیخوپورہ کے ریجنل پولیس آفیسر سہیل حبیب تاجک نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے روایتی تفتیشی ذرائع، ہیومن انٹیلیجنس اور اس کے بعد ڈی این اے کی مدد لی۔

اس کے بعد جائے وقوعہ پر ملزم کے جوتوں کے نشانات نے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ ملزم یہی ہےکیونکہ ملزم نے گرفتاری کے وقت بھی وہی جوتے پہن رکھے تھے۔

مگر پولیس اس ملزم تک پہنچی کیسے؟

پولیس کا چیلنج
چونیاں کی آبادی 60 ہزار افراد پر مشتمل ہے اور پولیس نے ان تحقیقات کے لیے مردم شماری کے ڈیٹا کو استعمال کیا جس کی بنیاد پر تفتیش اور تحقیق کا کام شروع کیا گیا۔

مردم شماری کے ڈیٹا میں سے پولیس نے پچیس ایسے بلاک منتخب کیے جو ان مقتول بچوں کی رہائش کے قریب تھے۔ ان بلاکس کی کل آبادی 26 ہزار افراد پر مشتمل تھی۔

یہ 26,000 افراد ساڑھے چار ہزار کے قریب مکانات میں رہتے تھے اور ان میں سے 18 سے 40 سال کے درمیان عمر کے مردوں کی تعداد 3500 بنتی ہے۔

ان 3500 افراد میں سے پولیس نے ایسے افراد کو علیحدہ کیا جن کے بارے میں پولیس کو اس سے قبل بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی یا تشدد کی رپورٹیں یا ایف آئی آر ملی تھیں، دوسرے نمبر پر پولیس نے رکشہ ڈرائیوروں کو علیحدہ کیا۔

جس کے بعد تفتیشی ٹیمیں نکلیں اور انھوں نے علاقے کے گھر گھر جا کر ان افراد کی حتمی فہرست بنائی جن کا ڈی این اے کیا گیا۔

اور ان سب افراد کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری میں ٹیسٹ کے لیے بھجوائے گئے۔

کل 41 رکشہ ڈرائیوروں جبکہ 17 سو سے زیادہ افراد کے ڈی این اے کے نمونے تحقیق کے لیے لیبارٹری ارسال کیے گئے۔

ان میں سے ملزم سہیل شہزادہ کا 1471واں نمبر تھا جس پر ڈی این اے کا نمونہ مکمل طور پر میچ ہوا۔

جوتے کا نشان
پولیس کو جائے وقوعہ پر جوتوں کا ایک نشان ملا جسے پولیس نے محفوظ کیا اور اسے مقدمے کا حصہ بنایا۔

جہاں زینب کا قاتل اپنے پہلے قتل کے بعد جوتے کا نمونہ چھوڑ گیا تھا جسے پولیس نے نظر انداز کیا اور یوں اس نے مزید چھ افراد کو قتل کیا وہیں اس ملزم کو اس کے جوتے کے نمونے کی بنیاد پر پولیس پکڑنے میں کامیاب رہی۔

پولیس بھوسے کے ڈھیر میں سے سوئی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی اور اس عمل میں آخری نشانی ملزم کے جوتے تھے جو اس نے گرفتاری کے وقت پہن رکھے تھے جن کے نچلے حصے کا نشان اس جگہ سے ملا جہاں پر بچوں کی لاشیں ملی تھیں۔

’ملزم بہت چالاک، پراعتماد اور ضدی ہے‘

سہیل تاجک نے بتایا کہ ملزم کو جب گرفتار کرنے کے لیے پولیس گئی تو ڈی این اے کا نمونہ آچکا تھا۔ مگر ملزم نے شروع میں تسلیم کرنے سے انکار کیا لیکن جب اس کے سامنے شواہد رکھے گئے تو ملزم نے اپنا جرم تسلیم کیا۔

مگر ملزم کے چہرے پر نہ تو کوئی پریشانی تھی نہ افسوس بلکہ اس نے بڑے اعتماد کے ساتھ سوالات کے جواب دیے۔

انھوں نے بتایا کہ ملزم رکشہ چلاتا تھا اور اس پر سواری اور دوسرے لالچ دے کر بچوں کو راغب کرتا تھا۔ پھر وہ انھیں چونیاں سے چند کلومیٹر دور ویرانے میں لے جا کر ریپ کے بعد قتل کر دیتا تھا۔

ملزم سہیل شہزاد اس سے قبل بھی ایک پانچ سالہ بچے کے ریپ کے جرم میں ڈیڑھ سال تک سزا کاٹ چکا ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس کا کہنا ہے ملزم نے جون 2019 میں بارہ سالہ علی عمران سے زیادتی کی اور اس کا گلا گھونٹ کر قتل کیا۔ اگست میں ملزم نے دو مزید بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا۔

انھوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ملزم سہیل شہزاد گرفتار ہوا اور اسے پانچ سال کی سزا ہوئی تھی اور ڈیڑھ سال کی سزا کاٹ کر ملزم جیل سے باہر آ گیا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: