پاکستان کی قومی اسمبلی کے سیشن میںفاٹا سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن ،داوڑ کی تقاریر کو قومی ٹیلی ویژن پر سنسر کرتے ہوئے ریکارڈ شدہ پروگرام چلا دیا گیا.، محسن داوڑ کی تقریر انیس منٹ چلائی گئی جبکہ علی وزیر کی تقریر کو دو ہی منٹ چلایا جا سکا۔
علی وزیر اور محسن داوڑ گزشتہ چار ماہ تک قید رہے. ان پر دہشت گردی سمیت دیگر الزامات میںمقدمات دائر کئے گئے تھے، چند روز قبل عدالت نے انہیںضمانت پر رہا کیا ہے.
رہائی کے بعد پیر کے روز قومی اسمبلی کے سیشن میں رکن اسمبلی محسن داوڑ نے خڑ قمر چیک پوسٹ کے اس واقعہ کی تفصیلات ایوان کو بتائیں جس واقعہ کے گرد دونوںاراکین اسمبلی کے خلاف مقدمہ قائم کر کے انہیںگرفتار کیا گیا تھا.
رکن اسمبلی محسن داوڑ نے اپنے خطاب میںکہا کہ کوئی بھی شخص اگر علی وزیر اور انکے ہاتھوںایک فائر کئے جانے کا ثبوت پیش کر دے تو وہ اپنے آپ کو ڈی چوک میںپھانسی کےلئے پیش کر دیں گے.
انہوںنے کہا کہ چار مہینے تک ہمیںجیل میںدہشت گردوںکی طرحرکھا گیا، ہمیںجنگ مخالف موقف کی، تشدد اور دہشت گردی کے خلاف سیاسی آواز اٹھانے کی سزا دی گئی ہے.
انہوں نے دوران گرفتاری انکی حمایت میں بیانات اور احتجاج کرنے والے تمام رہنماؤں، سیاسی کارکنوںاور سماجی کارکنوںکا شکریہ بھی ادا کیا. انہوںنے خڑ قمر چیک پوسٹ واقعہ میں مارے جانے والے پندرہ پشتونوںکے قتل کے انصاف کا بھی مطالبہ کیا.
انہوںنے کہا کہ دہشت گردوںکی جانب سے دھماکے میںفوجی اہلکاروںکے مارے جانے کا مقدمہ بھی ہمارے خلاف درج کیا گیا ہے حالانکہ اس دن ہم ہری پور جیل میںقید تھے. دھماکہ کرنے والے وہی لوگ تھے جو ماضی میں مذاکرات کےلئے وزیراعظم عمران خان کو اپنا نمائندہ مقرر کر چکے ہیں. ان لوگوںکو اسی ریاست نے بنایا ہے.
امریکی مفادات کی جنگ میںجس دہشت گردی کی فصل بوئی گئی، جو نصاب امریکہ سے یہاں لایا گیا، اس کے ذریعے جو کچھ تیار کیا گیا اس کا شکار ہونے والے معصوم انسانوں کو انصاف کون دے گا. جس دہشت اور وحشت کو اس خطے پر مسلط کیا گیا اسکا آج عمران خان نے خود امریکہ میںاعتراف کیا ہے. ہم بھی یہی کہتے آئے ہیںکہ جس وحشت کو فاٹا کے لوگوںپر مسلط کیا گیا، جس کے ذریعے پاکستان کے ہزاروںلوگوںکا خون بہایا گیا، جس کے نتیجے میںہزاروں فوجی اہلکاران کی جانیں گئیں اس کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور سزائیں دی جائیں.
انہوںنے کہا کہ فاٹا میںکئے جانے والے فوجی آپریشن میںمعصوم لوگوںکو مارا گیا ہے، دہشت گردوںکو محفوظ پناہ گاہیں دی گئی ہیں. ہم نے جب وزارت داخلہ میںدرخواست دی کہ ہمیںان دہشت گردوںکی فہرستیںمہیا کی جائیںجنہیںآپریشن میںمارا گیا تو وہ درخواست وزات داخلہ اور دفاع کے درمیان گھوم رہی ہے، ایک سال گزر گیا فہرست مہیا نہیںہو سکی، جس سے ہمارے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں.
محسن داوڑ کی تقریر کو انیس منٹ ہی گزرے تھے کہ قومی اسمبلی کی کارروائی کی لائیو کوریج کرنے والے پاکستان کے قومی ٹی وی چینل پی ٹی وی نے تقریر کی نشریات کو روک کر اپنا لوگو سکرین پر لگا لیا اور جلد بازی میںلاہور کے تاریخی مقامات پر ماضی میں ریکارڈ کی گئی پنجابی زبان کی ڈاکومنٹری کو نشریات پر لگا لیا گیا. پی ٹی وی سے نشریات مستعار لینے والے نجی ٹی وی چینلز پر بھی پی ٹی وی کی جانب سے پنجابی میںچلائی جانے والے نشریات کچھ سیکنڈ تک چلی پھر کمرشل بریک کے ذریعے نشریات کا رخدوسری جانب موڑا گیا.۔
بعد ازاں جب رکن قومی اسمبلی نے اپنی تقریر شروع کی تو انہوں نے بھی فاٹا میں ہونے والے مظالم اور ریاست کی پالیسیوں پر بات کرنا جونہی شروع کی تو دو منٹ کے بعد ہی انکی تقریر کو بھی سنسر کر دیا گیا اور ٹی وی چینلز پر پی ٹی وی کا لوگو ہی نظر آتا رہا۔












12 تبصرے “ممبران قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ کی تقاریر پاکستانی قومی ٹی وی سے سنسر کردی گئی”