پاکستان نےون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں‌سری لنکا کی ٹیم کو 67 رنز سے شکست دے دی

پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین ایک روزہ میچوں پر مشتمل سیریز کا دوسرا میچ پیر کو نیشنل کرکٹ سٹیڈیم کراچی میں کھیلا گیا۔

پاکستان کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا اور پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اووروں میں پاکستان نے سات وکٹ کے نقصان پر 305 رنز بنائے تھے۔ اس کے جواب میں سری لنکا کی ٹیم 47ویں اوور میں 238 رن پر آؤٹ ہو گئی۔

پاکستان کی طرف سے بابر اعظم نے سب سے زیادہ انفرادی سکور 115 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں آٹھ چوکے اور چار چھکے شامل ہیں۔ یہ ان کی 11 وین سنچری تھی۔ بابر اعظم کلینڈر سال میں پاکستان کے بیٹسمینوں میں تیز ترین ہزار رنز مکمل کرنے والے بیٹسمین بن گئے۔

بالنگ میں عثمان شنواری نے 10 اووروں میں 51 دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ سری لنکا کی طرف سے سب سے زیادہ سکور گوناورنا جے سوریا کا تھا جنھوں نے 96 رن بنائے۔

گذشتہ دس سال میں یہ پہلا موقع ہے جب کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کوئی انٹرنیشنل میچ کھیلا گیا۔ تین میچوں کی سیریز کا پہلا میچ بارش کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا اور نیشنل سٹیڈیم کراچی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی میچ بارش کی نذر ہوا ہو۔

اس میچ کی منسوخی کے بعد موسم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے دوسرا ون ڈے بھی 29 کی بجائے 30 ستمبر کو منعقد کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔

سری لنکا کے خلاف اس میچ کے لیے پاکستان کی جو ٹیم میدان میں اتری اس میں صرف سرفراز احمد، حارث سہیل، بابر اعظم اور وہاب ریاض ایسے کھلاڑی تھے جنھوں نے اس سے قبل پاکستانی سرزمین پر ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیل رکھا ہے۔

ان چاروں نے سنہ 2015 میں زمبابوے کے خلاف لاہور میں کھیلی گئی ون ڈے سیریز میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔

ون ڈے سیریز کے تینوں میچ کراچی میں کھیلے جائیں گے اور یہ تینوں ڈے اینڈ نائٹ ہوں گے۔ اس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کا آغاز پانچ اکتوبر سے لاہور میں ہوگا۔ دوسرا ٹی ٹونٹی میچ سات اکتوبر کو کھیلا جائے گا جبکہ تیسرا اور آخری ٹی ٹونٹی کرکٹ میچ نو اکتوبر کو ہو گا۔

میچ سے قبل دونوں ٹیموں نے جمعرات کو کراچی میں پریکٹس سیشن بھی کیے۔ پریکٹس سیشن کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ یہ کرکٹ سیریز پاکستان کے لیے یادگار موقع ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ٹیموں کے درمیان اچھا مقابلہ ہوگا اور پاکستان ٹیم بھرپور قوت کے ساتھ کرکٹ کھیلے گی۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اب تک 153 ایک روزہ میچ کھیلے جا چکے ہیں جس میں سے 90 میں پاکستان جبکہ 58 میں سری لنکا نے کامیابی حاصل کی۔

سیریز کا پسِ منظر
سری لنکن ٹیم 10 سال کے بعد کراچی آئی ہے۔ مہمان ٹیم کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گیے ہیں۔

مارچ سنہ 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر لاہور میں شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔ اس واقعے میں چھ پولیس والے اور دو شہری ہلاک ہوگئے تھے اور سری لنکن کرکٹر تھلان سماراویرا بھی زخمی ہوئے تھے جس کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا سلسلہ منقطع ہو گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد 2015 میں زمبابوے کی ٹیم نے لاہور میں ون ڈے سیریز کھیلی تو پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوئی۔

اس کے بعد ورلڈ الیون، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کی ٹیمیں پچھلے دو برسوں کے دوران پاکستان آ چکی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان سپر لیگ کے بھی متعدد میچ پاکستان میں منعقد ہوئے ہیں۔

سری لنکن ٹیم کے حالیہ دورے پر بھی اس وقت خطرے کے بادل منڈلانے لگے تھے جب سری لنکن وزیراعظم آفس سے سری لنکن کرکٹ بورڈ کو ایک وارننگ موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کو اس دورے میں ممکنہ دہشت گردی کا سامنا ہے۔

یہ وارننگ سری لنکن وزارت دفاع کو ملنے والی اطلاع کی بنیاد پر جاری کی گئی تھی جس کے بعد سری لنکن کرکٹ بورڈ اپنی حکومت کی جانب سے اس دورے کی باقاعدہ اجازت کا منتظر تھا۔

سری لنکا کے دس کھلاڑیوں نے پہلے ہی پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد سری لنکن کرکٹ بورڈ نے لاہیرو تھری مانے کو ون ڈے اور داسن شناکا کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا تھا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: