پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دس کھلاڑی کورونا کا شکار، دو انگلینڈ متاثر نہیں‌ہوا

پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے دس کھلاڑیوں‌کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے پر دورہ انگلینڈ میں‌انکی شرکت مشکوک ہو گئی ہے.

پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ روز دورہ انگلینڈ کے لیے منتخب 3 کھلاڑیوں شاداب خان، حیدر علی اور حارث رؤف کے ٹیسٹ مثبت آنے کا اعلان کیا تھا جبکہ عماد وسیم اور عثمان شنواری کے ٹیسٹ منفی آئے تھے۔

آج پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے مزید ٹیسٹ کیے گئے جس کے بعد مزید 7 کھلاڑیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

جن کھلاڑیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ان میں فخر زمان، عمران خان، کاشف بھٹی، محمد حفیظ، محمد حسنین، محمد رضوان اور وہاب ریاض شامل ہیں۔

تاہم بقیہ کھلاڑیوں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں جن میں عابد علی، فواد عالم، سرفراز احمد، اظہر علی، بابر اعظم، اسد شفیق، فہیم اشرف، افتخار احمد، امام الحق، خوشدل شاہ، محمد عباس، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی، شان مسعود، سہیل خان اور یاسر شاہ شامل ہیں۔

قومی ٹیم کے سپورٹ اسٹاف کے بھی ٹیسٹ کیے گئے جس میں قومی ٹیم کے مساجر ملنگ علی کے سوا تمام اسٹاف کے ٹیسٹ منفی آئے۔

ابھی تک شعیب ملک، کلیف ڈیکن اور باؤلنگ کوچ وقار یونس کے ٹیسٹ نہیں کیے۔

حیدر علی، حارث اور شاداب کی طرح بقیہ 7 کھلاڑیوں میں بھی وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں تاہم قومی ٹیم کی مانچسٹر روانگی سے قبل ٹیسٹ کیے گئے تو ان کے کورونا کے ٹیسٹ مثبت آئے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا میڈیکل پینل ان کھلاڑیوں اور مساجر سے مستقل رابطے میں ہے اور انہیں سختی کے ساتھ قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسکواڈ میں جن کھلاڑیوں کے ٹیسٹ ،منفی آئے ہیں ان کے دوبارہ 25جون کو ٹیسٹ کیے جائیں گے اور نتائج منفی آنے کی صورت میں ہی ان کو دورہ انگلینڈ پر جانے کی اجازت دی جائے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا کہ علامات ظاہر ہوئے بغیر کچھ کھلاڑیوں کے ٹیسٹ مثبت آنا اس خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ وائرس کتنا خطرناک ہے لہٰذا کھلاڑی اور عوام حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل کرئیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ دورہ انگلیند پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے اور محمد رضوان کے سوا دورہ انگلینڈ کے لیے اولین ترجیح تصور کیے جانے والے تمام کھلاڑیوں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں اور وہ انگلینڈ میں ٹیسٹنگ کے فوری بعد ٹریننگ اور پریکٹس کا آغاز کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: