2 منٹ کی فون کال کیلئے مقبوضہ کشمیر میں طویل قطاریں لگ گئیں

مقبوضہ کشمیر کے مرکزی شہر سری نگر میں سرکاری دفتر کے باہر بیرونی دنیا سے رابطہ قائم کرنے کے لیے 2 منٹ کی فون کال کرنے کے لیے طویل قطاریں لگائی جارہی ہیں۔

مقبوضہ وادی کے مقامی افراد بھارتی حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی کے باعث ایک ہفتے سے موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس سے محروم ہیں۔

سری نگر میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر کشمیری طویل قطاروں میں موجود بھارت کے دیگر علاقوں میں مقیم اپنے عزیزو اقارب سے بات کرنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔

میلوں سفر اور متعدد چیک پوائنٹس پر تلاشی دینے کے بعد بیرون ملک مقیم اپنے بچوں سے فون پر بات کرنے کے لیے آئیں 56 سالہ خاتون کو دفتر کے باہر سیکیورٹی افسران نے واپس بھیج دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘انہوں نے مجھے اندر جانے سے اس لیے روکا کیونکہ ان کے پاس میری تلاشی لینے کے لیے خاتون پولیس افسر نہیں تھیں’۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ ‘مجھے اپنی بیٹیوں کی فکر ہے اور انہیں بھی ہمارے بارے میں فکر ہوگی’۔

مایوسی کے بعد انہوں نے قطار میں کھڑے ایک شخص کو نمبر دیا اور اس سے کہا کہ ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کریں۔

خاموشی کی سزا
بھارت نے گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر سے اس کی خصوصی حیثیت واپس لینے کے پیش نظر ہزاروں اضافی فوج مقبوضہ وادی میں تعینات کی تھیں تاہم وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ نہیں بتایا کہ مواصلاتی بلیک آؤٹ اور فوجی لاک ڈاؤن کا اختتام کب ہوگا۔

عید الاضحیٰ کی وجہ سے کرفیو میں نرمی کی گئی ہے تاہم سڑکوں پر اب بھی بڑی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار موجود ہیں۔

حکومت کی جانب سے پولیس اور اعلیٰ بیورو کریٹس کو چند سیٹلائٹ فون دیے گئے ہیں جبکہ دیگر حکام کے موبائل اور لینڈلائن نمبر کو نجی نیٹ ورک سے منسلک کردیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی جانب سے ان کو ملنے والی موبائل سروس عوام کے لیے کھولی گئی ہے۔

ہر روز وہاں صبح سویرے سے ہی عوام اپنے پیاروں سے رابطہ قائم کرنے کے لیے لمبی قطار بنائے کھڑے ہوجاتے ہیں جہاں ایک عہدیدار ان سے نام اور نمبر لیتا ہے اور پھر ان خوش نصیب کا اعلان کیا جاتا ہے اور بعد ازاں ان کے ہاتھ میں موبائل فون تھمائے جاتے ہیں اور کال کا وقت نوٹ کیا جاتا ہے۔

افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘ہم عوام کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں’۔

پتھر کے زمانے کی جانب دھکیلا جارہا ہے، کشمیری نوجوان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکمرانی کے خلاف دہائیوں سے جاری بغاوت میں لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ مواصلاتی نظام کی بندش بھی کوئی نئی بات نہیں۔

نئی دہلی میں مقیم مبصرین کا کہنا تھا کہ رواں سال ہی مقبوضہ وادی میں درجنوں مرتبہ انٹرنیٹ سروس کی بندش کی جاچکی ہے۔

تاہم موبائل نیٹ ورک، لینڈ لائن اور کیبل ٹی وی پر لگی حالیہ پابندی الگ ہے۔

اپنے بھائی سے امریکا میں بات کرنے کے منتظر مبشر حسین کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں پتھر کے زمانے کی جانب دھکیل دیا گیا ہے، مواصلاتی نظام کی بندش بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے’۔

شکیل احمد خان کا کہنا تھا کہ انہیں متعدد چیک پوائنٹس پر فوجیوں سے گزارش کرنی پڑی کہ وہ حج پر گئے اپنے والدین سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: