تحریک آزادی:کیا کشمیریوں کے خون کی قیمت اسلام آباد میں وصول کی جارہی ہے۔۔۔۔؟

حریت کانفرنس میں شامل تنظیموں کے اسلام آباد (پاکستان) میں موجود نمائندوں پر مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کے الزامات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ تیس سال قبل خالی ہاتھ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر سے کنٹرول لائن عبور کر کے خالی ہاتھ پاکستان پہنچنے والے آج کروڑوں ،اربوں روپے کی جائیدادوں کے مالک ہیں۔ سید علی شاہ گیلانی کے الزامات کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بحث چھڑ چکی ہے کہ ان نمائندوں کے پاس اس قدر مال و دولت کہاں سے آئی۔

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں عسکری تحریک کے آغاز میں ہزاروں کی تعداد میں کنٹرول لائن عبور کر کے پاکستانی زیرانتظام آنے والے عسکریت پسند نوجوانوں میں سے ایک محدود اقلیت پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں علیحدگی پسند یا پاکستان نواز سمجھی جانے والی جماعتوں کے اتحاد (کل جماعتی حریت کانفرنس) میں شامل چالیس تنظیموں کے نمائندگان کے طورپر سیاسی و عسکری سرگرمیوں میں مصروف ہو گئی۔

یہ تنظیمیں مختلف اوقات میں کم یا زیادہ ہوتی رہی ہیں۔ موجودہ وقت مجموعی طور پر 36 تنظیموں کے نمائندگان حریت کانفرنس اسلام آباد چیپٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

اندرونی ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان کی طرف سے ان نمائندوں کو 30 سے 75 ہزار کے درمیان تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں۔ ہر تنظیم کو سرگرمیوں کی بنیاد پر یعنی کارکردگی پر معاوضہ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دفاتر چلانے کےلئے اخراجات بھی اسلام آباد میں موجود حریت نمائندوں کے ذریعے دیئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کشمیریوں کی مختلف مد میں معاونت کےلئے بھاری رقوم فراہم کی جاتی رہی ہیں۔ جن میں سے مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کے الزامات اکثر اوقات سامنے آتے رہے۔

رواں سال اٹھائیس جون کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے پاکستان نواز اور علیحدگی پسند سمجھے جانے والے مقبول ترین رہنما سید علی گیلانی نے حریت کانفرنس سے علیحدگی اختیارکرتے ہوئے ایک تفصیلی خط لکھا تھا۔ جس میں حریت کانفرنس میں مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کا ذکر بھی کیا۔ اس سے قبل 2016 ءمیں راولپنڈی میں ایک احتجاجی مظاہرے سے ٹیلی فونک خطاب کے دوران سید علی گیلانی نے حریت کانفرنس پاکستانی زیر انتظام کشمیر و پاکستان چیپٹر کو علی الاعلان کہا تھا کہ آزادی کی جدوجہد کیلئے لائن آف کنٹرول پار جانے والے شہدا کی نمائندگی کے بجائے کاروبار کرنے لگے۔

حریت کانفرنس پاکستانی زیر انتظام کشمیر چیپٹرپر اس وقت جو مجموعی الزام ہے، وہ تعلیمی سکالر شپس میں بدعنوانیوں کا ہے جس سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے چند ایک سیاست دانوں کے مستفید ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ مذکورہ سکالرشپس بھارتی زیر انتظام کشمیر کے شہدا اور آزادی پسندوں کے بچوں کے لئے مختص ہوتی ہیں لیکن گزشتہ لمبے عرصے سے ان سکالر شپس کا ایک بڑا حصہ شہداءکے لواحقین کو دیئے جانے کی بجائے فروخت کیا جاتا رہا ہے اور یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر کے کئی سرکاری ملازمین کے بچے بھی ان سکالر شپس پر پاکستان میں زیر تعلیم ہیں اور ان کو یہ سکالر شپس فروخت کی گئی ہیں۔

پاکستان کے وفاقی بجٹ 2020-21 کے بجٹ سیشن کے دوران وزیر اعظم پاکستان نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ مالی سال 2019-20 میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے طلبا کی اسکالرشپس کیلئے 63 کروڑ 59 لاکھ روپے خرچ کئے گئے اور اس سال 14 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ ساری سکالر اشپس حریت کانفرنس کی صوابدید پر جاری ہوتی ہیں۔حریت کانفرنس میں شامل تنظیموں کے نمائندگان کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ ان سکالرشپس پر اپنی مرضی کے امیدوار نامزد کر سکیں۔ یہی وہ راستہ ہے جہاں سے حریت نمائندوں کو یہ گنجائش ملتی ہے کہ وہ سکالر شپ کےلئے امیدوار نامزد کرنے کے عوض نقد رقم امیدوار سے حاصل کر لیں اور سرکاری طور پر فراہم کردہ سکالرشپ کا چیک متعلقہ یونیورسٹی میں امیدوار کے نام پر جمع کروا دیں۔ اس طرح حکومت کی طرف سے فراہم کردہ چیک تو براہ راست یونیورسٹی میں چلے جاتے ہیں ۔ لیکن اس سکالرشپ کے چیک کے عوض امیدوار پہلے ہی رقم ادا کر چکے ہوتے ہیں۔

اسی طرح مختلف طرح کی امدادی رقوم اور دفاتر کے اخراجات چلانے کے لئے رقوم وصول کی جاتی ہیں اور ان میں بھی مالی بے ضابطگیاں کی جاتی ہیں۔

نوے کی دہائی میں شروع ہونے والی عسکری تحریک کے بعد کنٹرول لائن عبور کر کے آنے والے مجموعی طور پر بیالیس ہزار سے زائد افراد کی ایک بڑی اکثریت کو ماہانہ پندرہ سو روپے مالی امداد حکومت کی طرف سے فراہم کی جا رہی ہے اور ایک ایک کمرے پر مشتمل رہائش فراہم کی گئی ہے۔ کچھ نوجوانوں نے تعلیمی سلسلہ مکمل کرنے کے بعد اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو دوبارہ معمول پر لایا ہے۔ لیکن ایک محدود اقلیت ، جو چند درجن پر مشتمل ہے، تحریک آزادی کشمیر کا بیڑا اٹھائے مال و دولت کے انبار جمع کر چکی ہے۔

حریت نمائندگان کی دولت کے اجماع سے متعلق تفصیلات کو قسط وار شائع کیا جائے گا۔ مذکورہ مضمون میں ہم ایک حریت نمائندے کے سیاسی اور کاروباری سفر پر ایک نظر ڈالیں گے۔

شیخ متین اس وقت حریت کانفرنس آزاد کشمیر چیپٹر کے سیکرٹری اطلاعات ہیں ، ان کا تعلق جموں کشمیر مسلم فریڈم لیگ سے ہے اور ان کی پارٹی کے چئیرمین کا نام حکیم عبدالرشید ہے ۔

جب عسکری تحریک شروع ہوئی تو شیخ متین عسکری تنظیم حزب اللہ میں شامل ہوئے اور عسکری تربیت کے لئے سرحد پار چلے آئے لیکن کچھ ہی عرصہ بعد مالی بدعنوانیوں کے سبب ان کو تنظیم سے نکال دیا گیا اور تنظیم کے طریقہ کار کے مطابق ان سے غبن شد ہ رقم وصول کی گئی۔ حزب اللہ میں بدعنوانی کے باعث ایک لمبے عرصے تک یہ تحریک سے باہر رہے اوربعد ازاں ان کو حریت کانفرنس کی ایک جماعت کی نمائندگی ملی۔ لیکن ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی روش کو برقرار رکھتے ہوئے مالی بدعنوانیوں، شہدا کے لواحقین کے مخصوص تعلیمی سکالرشپس میں بدعنوانیاں کیں اور کاروبار پھیلایا۔

ماضی قریب میں بھارتی زیر انتظام جموں کشمیرمیں لاک ڈاﺅن کے متاثرین کو ادویات بھیجنے کیلئے پانچ ملین روپے کی امداد وصول کرنے کا الزام بھی ان کے سر ہے۔اس سے قبل بھی فنڈز میں غبن کے الزامات پر چئیر مین سید علی گیلانی نے انکوائری کیلئے حریت کانفرنس کے کنوینئر کو خط لکھ رکھا ہے۔

اس وقت شیخ متین ایک آن لائن ٹیکسی سروس کے مالک ہیں ، اس کے علاوہ ان کی ایک تعمیراتی کمپنی ہے اور راولپنڈی کے ایک نجی ہسپتال میں چلنے والے شعبہ امراض قلب(Cardiac Centre) میں ان کی سرمایہ کاری ہے اور راولپنڈی اور اسلام آباد میں کئی کنال زمینوں پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس کے باعث مستقبل قریب میںاپنی ہاوسنگ سوسائٹی بنانے کی سوچ رہے ہیں۔

حزب اللہ میں بدعنوانی کے الزام،حریت کانفرنس فنڈز میں بدعنوانیوں،لاک ڈاﺅن میں پھنسے کشمیریوں کے نام پر امداد وصول کرنے اور کاروبارسے متعلق شیخ متین سے رابطہ کرنے پرپہلے تو انہوں نے موقف دینے سے گریز کیا۔ تاہم اسرار کرنے پر انہوں نے بتایا کہ حزب اللہ میں انہوں نے کوئی بدعنوانی نہیں کی، تاہم فنڈز کے غبن کا ایک معاملہ سامنے آیا تھا اور جب چھاپہ پڑا تومیں رقم کی حفاظت کیلئے رقم سمیت حزب اللہ کے دفتر میں موجود تھا، جس کی وجہ سے مجھ پر شک کیا گیا اور بغیر تحقیق کے تنظیم سے فارغ کردیا گیا۔انکا کہنا تھا کہ ان پر یہ الزام ثابت نہیں ہو سکا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں اور کرائے کے مکان میں رہتے ہیں ، اپناذاتی مکان تک نہیں ہے۔

کاروبار اور سرمایہ کاری سے متعلق سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ الطاف بٹ (جو اسلام آباد میں ایک بڑی کاروباری شخصیت ہیں اور سالویشن مومنٹ کے نمائندے ہیں۔ حزب المجاہدین کے سرنڈر کرنے والے گروپ کا ساتھ دینے پر ان کو حزب المجاہدین سے نکالا گیا تھا اور ان کی جماعت سالویشن مومنٹ کو حریت کانفرنس کی نمائندگی بھی نہیں دی گئی تھی۔ تاہم ان کے نام کے ساتھ حریت راہنما لکھا جاتا ہے)۔ نے ان کی مدد کی اور کچھ پلاٹ دیے جن سے انہوں نے کاروبار کی ابتدا کی ۔

تاہم کچھ ہی لمحوں بعد شیخ متین نے اپنا بیان تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سری نگر میں زمین تھی جسے فروخت کر کے ان کے بھائیوں نے 35 لاکھ روپے ان کو بھیجے جس سے انہوں نے پلاٹ خرید کر کاروبار شروع کیا اور ایک کنسٹرکشن کمپنی بنائی جو اس وقت سی بی آر ہاوسنگ سوسائٹی میں تعمیراتی کام کر رہی ہے۔

جب شیخ متین سے آن لائن ٹیکسی سروس کے کاروبار سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ”کسی دن دفتر آنا پھر بتاﺅں گا اس میں کتنی سرمایہ کاری ہوتی ہے“۔

اس کے علاوہ شیخ متین نے بتایا کہ ان پر لگنے والا ایک بڑا الزام (جس کی تفصیلات منظر عام پر نہیں ہیں) حریت کانفرنس کے کنوینیر اورمتعلقہ اداروں کی موجودگی میں میری وضاحت کے بعد ختم ہو گیا تھا تاہم اس پر جب اس وقت کے کنوینئر عبداللہ گیلانی سے استفسار کیا تو انہوں نے کہا انکوائری مکمل ہونے سے قبل ہی ان کی کنوئینئر شپ ختم ہو گئی تھی۔
واضح رہے کہ شیخ متین کے والد شیخ نور محمد مسلم ویلفئیر سوسائٹی سری نگر میں وعظ و نصیحت کرتے تھے اور اسی پر ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا تاہم تحریک آزادی نے شیخ متین کو بڑا سرمایہ دار بنا دیا۔

شیخ متین سمیت متعدد کردار اور خاندان اس طرح کے ہیں جن کے کاروبار اور اثاثے کئی نسلوں سے کاروبار سے منسلک افراد سے بھی کئی زیادہ ہیں۔ جب کہ یہ تمام لوگ تیس سال قبل عسکری تحریک چلانے کےلئے خالی ہاتھ کنٹرول لائن عبور کر کے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ان حریت نمائندوں کی ایک بڑی تعداد بھارتی زیر انتظام کشمیر چھوڑنے کے وقت مالی طور پر کسمپرسی کی حالت میں زندگیاں گزار رہی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ آج تیس سال بعد کاروبار اور اثاثوں کی معلومات سامنے آنے پر یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا کشمیریوںکے خون کی قیمت اسلام آباد میں وصول کی جا رہی ہے؟

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: