بھارتی کشمیر:‌سکیورٹی فورسز کو زمین فراہم کرنے کیلئے قوانین میں‌خاص نرمی کردی گئی

متنازعہ ریاست جموں‌کشمیر کے بھارتی زیر انتظام حصہ میں‌بی جے پی کی بھارتی حکومت نے سکیورٹی فورسز کو زمین فراہم کرنے کےلئے قوانین میں‌خصوصی نرمی کا فیصلہ کر لیا ہے. متنازعہ خطے میں‌اب فورسز کو زمین حاصل کرنے کےلئے خصوصی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں‌ہوگی.

بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی انتظامیہ نے بھارتی سکیورٹی فورسز کو زمین حاصل کرنے کےلئے درکار خصوصی سرٹیفکیٹ کی شرط کو ختم کر دیا ہے. یہ قانون1971 میں ایک سرکلر کے ذریعہ متنازعہ خطے میں‌بھارتی فورسز کے زمین حاصل کرنے کے قانون کے طور پر جاری کیا گیا تھا۔

انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ حکم نامہ کے مطابق بھارتی فوج، بارڈر سکیورٹی فورسز(بی ایس ایف)، نیم فوجی دستوں (سی آر پی ایف) اور اسی طرح‌کی تنظیموں‌کو محکمہ داخلہ کے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کئے بغیر زمین حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے.

مذکورہ حکم نامہ 2013ء کے اراضی کے حصول، بحالی اور آبادکاری میں‌منصفانہ اور شفافیت پر مبنی معاوضے کے حق کے بھارتی وفاقی قانون کی متازعہ ریاست جموں‌کشمیر میں‌توسیع سے مماثلت رکھتا ہے. گزشتہ برس اگست میں‌ہی بھارتی حکومت کے ایک متنازعہ اقدام اٹھاتے ہوئے اپنے زیر انتظام ‌جموں‌کشمیر کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دے دیا تھا.

یہ اقدام بھارتی مسلح افواج کے ذریعے خطہ کے اسٹریٹجک علاقوں‌میں تعمیرات کی غرض‌سے اٹھایا گیا ہے. جس کےلئے بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی انتظامیہ سے پیشگی رضامندی لی گئی ہے.

واضح رہے کہ گزشتہ سال پانچ اگست کو بھارتی حکومت نے آئین کے آرٹیکل
370اور اس سے متعلقہ آئینی شقوں‌کو کالعدم قرار دے کر مسلم اکثریتی ریاست جموں‌کشمیر کی جزوی خودمختاری کو موثر طریقے سے ختم کرتے ہوئے اسے وفاق کے زیر انتظام دو علاقوں‌جموں‌کشمیر اور لداخ‌میں‌تقسیم کر دیا تھا.

اسی کے ساتھ ہی نئی دہلی نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کےلئے خطہ میں لاک ڈاون کو نافذ کیا ، ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا ، نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی اور مواصلات کو روکنے کے عمل کو نافذ کیا۔

رواں سال مئی میں بھارتی حکومت نے ایک قانون منظور کیا جس سے کشمیر کے باہر سے آنے والے افراد کو علاقے کا مستقل رہائشی بننے کی اجازت دی گئی ہے. مذکورہ قانون سے خطہ میں‌ آبادیاتی تبدیلی کے خدشات پیدا ہوگئے اور غیر مقامی لوگوں کو رہائش ، ملازمت اور تعلیم میں ترجیح دی جائے گی۔

سرینگر میں مقیم انسانی حقوق کے ممتاز کارکن ، خرم پرویز کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو سستی رہائش کا حق مل جائے گا اور یہ کہ ڈومیسائل قانون دیگر بھارتی ریاستوں کے لاکھوں مزدوروں کو عوامی رہائش کا اہل بنا سکتا ہے۔

2011 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق ریاست جموں کشمیر کے 12.5 ملین افراد میں سے 68.31 فیصد مسلمان ہیں اور ہندوؤں کی تعداد 28.43 فیصد ہے۔

18 مئی سے اب تک 25000 سے زائد افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دیئے گئے ہیں، جن میں پاکستان سے آنے والے مہاجرین، نیپال کے گورکھہ سپاہی شامل ہیں، جنہوں نے ہندوستانی فوج میں خدمات سرانجام دی تھیں اور ریاست پنجاب کے صفائی ستھرائی کے کارکنوں جیسے پسماندہ گروپ بھی شامل ہیں.

سری نگر کے مرکزی شہر میں مقیم ایک آزاد صحافی ہارون ریشی نے خبر رساں ایجنسی کو بتایاکہ ہماری الگ الگ معاشرتی اور ثقافتی شناخت ، خواہ وہ ہماری زبانیں ہوں یا روایات سب کچھ خطرے میں ہے۔

ایک اور اقدام میں، جس کے بعد عہدیداروں نے کہا ہے کہ ملازمتیں پیدا ہوں گی اور ترقی کو فروغ ملے گا ، ہندوستانی انتظامیہ نے 24 جولائی کو خطے میں 35 کے قریب مقامات پر صنعتی اسٹیٹس کی تعمیر کے لئے 488 ہیکٹر (1،205 ایکڑ) ریاستی اراضی مختص کرنے کی منظوری دی۔

جے اینڈ کے آر ٹی آئی موومنٹ کے چیئرمین راجہ مظفر بھٹ نے پیر کو ایک بیان میں اس فیصلے کو ”تباہ کن“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو زیادہ زرعی اراضی کے قیام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔

ہمالیائی خطہ جموں‌کشمیر بھارت اور پاکستان کے مابین ایک ایک حصے میں تقسیم ہے، لیکن دونوں‌ریاستیں اس پر مکمل دعویٰ رکھتی ہیں. جبکہ اس خطہ کا ایک حصہ چین کے زیر قبضہ بھی ہے.

1947ء میں‌ برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں‌وجود پذیر ہونے والے بھارت اور پاکستان جوہری طاقت رکھتے ہیں. دونوں‌ہمسائے مجموعی طور پر چا بڑی جنگیں‌لڑ چکے ہیں. جن میں‌سے تین کشمیر پر لڑی گئی ہیں.

کچھ کشمیری گروہ مکمل آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے لئے بھارت کی حکمرانی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ جبکہ اسی طرح‌کچھ گروہ پاکستان اور بھارت سے آزادی کےلئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں‌بھی سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں.

حقوق انسانی کے متعدد گروپوں کے مطابق سن 1989 سے اب تک اس تنازعہ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔