بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر اور لداخ اکتیس اکتوبر کو دو الگ الگ بھارتی زیر انتظام علاقہ جات(یونین ٹیریٹریز) میں تقسیم ہو جائیں گے۔
بھارتی صدررامناتھ کووندکی جانب سے نو اگست بروز جمعہ جموں کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019ء سے اتفاق کئے جانے کے بعد جموں کشمیر اور لداخ کو یونین ٹیریٹریز بنانے کے قانونی مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔
بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے سمجھوتہ ایکسپریس کو بند کرنے کے فیصلہ کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے یہ انڈیا سے مشاورت کئے بغیر کیاہے۔
اسی اثناء میں پانچ روز کے مکمل لاک ڈاؤن کے بعد ڈی جی پی ایس پی وید نے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعہ کی نماز کیلئے کرفیومیں نرمی کر دی گئی تھی۔
این آئی اے نے سابق ممبر اسمبلی جموں کشمیر انجینئررشید کو گرفتار کر لیا
سابق ممبر اسمبلی جموں کشمیر انجینئررشید کو نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی نے ٹیرر فنڈنگ کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔
دو ماہ کا راشن موجود ہے، گورنر ستیا پال ملک
بھارتی زیرانتظام جموں کشمیر کے گورنر ستیا پال ملک نے کہا ہے کہ انہوں نے ہسپتالوں اورریاست کے شہری علاقوں کا دورہ کیا ہے اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کا جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو ماہ تک کیلئے راشن کا ذخیرہ موجود ہے، پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کا بھی ضرورت سے زیادہ ذخیرہ موجود ہے، عید کی خوشیاں منانے کیلئے انتظامات کئے جا چکے ہیں۔
آرٹیکل 370کی تنسیخ سے متعلق صدارتی حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر
بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں آرٹیکل 370کی تنسیخ کے صدارتی حکم نامے کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی گئی ہے۔ پٹیشن میں صدارتی حکم کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیئے جانے کی مانگ کی گئی ہے۔
اے این آئی کے مطابق پٹیشن کشمیری وکیل شاکر شبیر کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ پٹیشن میں انہوں نے عدالت سے حکومت کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے جانے کی بھی اپیل کی ہے۔
جموں کی میونسپل حدود سے دفعہ144میں نرمی کر دی گئی ہے
ڈپٹی مجسٹریٹ ضلع جموں سشما چوہان نے کہا ہے کہ جموں میونسپل حدود سے دفعہ 144میں نرمی کر دی گئی ہے اور تمام سکول اور کالجز ہفتہ دس اگست سے کھل جائیں گے۔
مسئلہ کشمیر کو افغانستان سے لنک نہ کیا جائے، طالبان
طالبان نے کہا ہے کہ انڈیا پاکستان کی کشمیر میں جاری چپقلش کو افغانستان کی صورتحال سے لنک نہ کیا جائے۔ انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق طالبان ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ کچھ جماعتوں کی جانب سے مسئلہ کشمیرکو افغانستان کے ساتھ منسلک کرنے سے بحران کو بہتر بنانے میں مدد نہیں ملے گی کیونکہ افغانستان کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی افغانستان کو دوسرے ممالک کے مابین مسابقت کے تھیٹر میں تبدیل کرنا چاہیے۔












11 تبصرے “جموںکشمیر اور لداخ 31اکتوبر کو باضابطہ تقسیم ہوجائینگے، طالبان کے بیان سمیت چند اہم اپ ڈیٹس”