پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ہندوستان آزادکشمیر کے اندر خوف وہراس پھیلانے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی پیشکش سے توجہ ہٹانے کے لیے لائن آف کنٹرول کے اوپر نہتے شہریوں پر بلااشتعال و بغیر کسی وجہ کے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کررہا ہے،آزادکشمیر کی حکومت اور عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہیں ہمیں مسلح افواج پاکستان کی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہے جنہوں نے ہر قدرتی آفت میں حکومت اور عوام کی بھرپور مدد کی اور آزادکشمیر کے شہریوں کی جانب سے مسلح افواج پاکستان کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم بھی ان کے شانہ بشانہ دفاع وطن کے لیے پر عزم ہیں ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے اور آزادکشمیر کے شہریوں میں خوف وہراس پھیلانے کیلئے اچانک فائرنگ شروع کی.
تیس جولائی کو شروع ہونے والی ہندوستانی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے ابھی تک چار افراد شہید اور چالیس افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 57مکانات تباہ ہوئے ہیں اورجزوی طور پر بھی بہت گھروں کو نقصان پہنچا ہے15گاؤں متاثر ہوئے ہیں۔لائن آف کنٹرول پر ہندوستان کی نہتے شہریوں پر فائرنگ سے جنوری 2019سے لے کر اب تک 27افراد شہید،153زخمی ہوئے 236مکان جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں جبکہ 4دکانیں مکمل طور پر تبا ہ ہوئی ہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹھمقام کو جزوی طور پر نقصان ہوا اورایک گاڑی تباہ ہوئی ایک مسجد اور بوائز پرائمری سکول کو نقصان پہنچا۔
وزیراعظم سیکرٹریٹ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ معاوضہ جات کی فوری ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔ معاوضہ جات کی ادائیگی کیلئے 03کروڑ روپے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے اکاؤنٹ میں بھیج دئیے گئے ہیں معاوضہ جات میں موجودہ حکومت نے اضافہ کیا ہے۔سابقہ کوئی کیس (Pending)نہیں ہے موجودہ حکومت نے شہید کیلئے معاوضہ03لاکھ روپے سے بڑھا کر 10لاکھ روپے کر دیا گیاہے. معذور کیلئے معاوضہ اڑھائی لاکھ سے 8لاکھ کر دیا گیا ہے. شدید زخمی کیلئے ایک لاکھ سے بڑھا کر 3لاکھ کردیا گیا ہے۔معمولی زخمی کیلئے 40ہزار روپے کر دیئے گئے ہیں۔
لائن آف کنٹرول پر حکومت آزادکشمیر کے اپنے بجٹ سے 130ملین روپے سے کمیونٹی بنکرز، فرسٹ ایڈ پوسٹیں، ایمبولنسز خریدیگئیں ہیں، رابطہ سڑکیں بہتر کی گئی ہیں۔جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے LoCمتاثرین کیلئے 3ارب روپے کے فنڈز رکھے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی اور سانحہ لیسوا کے دوران ہماری انتظامیہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا وزیر اسٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی احمد رضا قادری اور ان کی ٹیم نے گزشتہ کچھ عرصہ سے جب بھی لائن آف کنٹرول پر کوئی اس طرح کا واقعہ ہوتا ہے شاندار کام کیا ہے انہیں ان کے سیکرٹری اور پورے محکمہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں سانحہ لیسوا میں سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر،وزیرایس ڈی ایم اے،چیف سیکرٹری انتظامیہ نے جس طرح کام کیا اس پر انہیں شاباش اور مبارکباد دیتا ہوں،پاک فوج نے ہر قدر تی آفت میں آزادکشمیر کے لوگوں کی مدد کی ہمیشہ ہمارے لوگوں کا درد محسوس کیا جس پر ان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں لیسوا ہویا لائن آف کنٹرول انہوں نے ہمیشہ ہمارے ساتھ بے مثال تعاون کیا راجہ فاروق حیدر نے بتایا کہ حکومت کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پر الرٹ ہے۔LoCپر اشیاء خردو نوش و دیگر بنیادی ضروریات کی اشیاء ذخیرہ کی جارہی ہیں متبادل راستوں کو بہتر بنایا جارہا ہے۔صحت کی سہولیات اور کسی بھی ایمرجنسی صورت میں ایمبولینسز کی فر اہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔کھلونا بم سمیت دیگر معاملات میں شعور اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سول سوسائٹی اپنا کردار ادا کرے۔پاک فوج کے ساتھ بہترین لیزان ہے۔ پاک فوج کی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہے۔کشمیری پاک فوج کو اپنی فوج سمجھتے ہیں۔ہندوستان کی خواہش ہے کے مقامی آبادی اپنے جگہ سے پیچھے ہٹے۔
ہیومن رائیٹس کمیشن کے دورہ آزادکشمیر سے بھارت پر بین الاقوامی دباؤ بڑھے گا۔امریکی صدر کی طرف سے ثالثی کی پیشکش سے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہوا۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ امریکی ثالثی سے ہمیں کتنا فائدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری ہیں۔ اور کشمیریوں کو باہر رکھ کر ثالثی کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ہمیں بہر صورت اپنے موقف پر قائم رہنا ہے۔ مسئلہ کشمیر کی بنیاد اقوام متحدہ کی منظورشدہ قراردادیں ہیں۔وزیراعظم آزدکشمیر نے کہا کہ بھارت اس وقت دباؤ کا شکار ہے کیوں کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں بے پناہ مظالم کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو سرد کرنے میں ناکام رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان دشمن کی جارحیت کا مؤثر جواب دے رہی ہے۔افواج پاکستان کو سیز فائر لائن کی دونوں اطراف کے کشمیریوں کی حمایت حاصل ہے۔بھارت سیز فائر لائن کی عوام کو پیچھے دھکیلنے کیلئے آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔لیکن بہادر عوام بھارت کا یہ ہتھکنڈہ کبھی کامیاب نہیں دیں گے۔سیز فائر لائن کے عوام مسلح افواج پاکستان کے شانہ بشانہ دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ کشمیریوں کے نزدیک پاک فوج کی حیثیت محافظ کی ہے اور بھارتی فوج قابض و جارح ہے۔
سیز فائر لائن کے متاثرین کیلئے مرکزی حکومت نے 3ارب روپے کا پیکج منظور کیا ہے۔جبکہ ریاستی حکومتی نے اپنے وسائل سے 13کروڑ روپے سیزفائر لائن کے عوام کیلئے مختص کیئے ہیں سیزفائر لائن کے شہدا اورزخمیوں کے معاوضہ جات میں اضافہ کیلئے قانون سازی کی گئی ہے۔ شہدا کا معاوضہ 10لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ جس کا انتظامی حکم جلد جاری کر دیا جائے گا۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ سانحہ لیسوا کے دوران 21افراد شہید ہوئے، 6شہدا کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔ بقیہ کی تلاش جاری ہے۔
لیسوا متاثرین کی بحالی کیلئے تمام تروسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، لیسوا میں مجموعی طور پر 68مکان تباہ ہوئے، سانحہ کے بعد ریاستی اداروں نے مل کر بہت بھرپور کام کیا۔۔ متاثرہ علاقے میں بنیادی سہولیات و ضروریات مہیا کر دی گئی ہیں۔ لیسوا کی 10کلومیٹر روڈ مرکزی حکومت تعمیر نو کرے گی۔سانحہ لیسوا کے متاثرین کی بحالی کیلئے پاک آرمی نے بھرپور کردار ادا کیا، ریسکیو سرگرمیوں کے دوران آرمی ھیلی کاپٹر استعمال کیئے گئے. سانحہ لیسوا کے بعد پاک فوج کے کردار و خدمات کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہیں۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ ان کے دورہ سپین کے دوران 13جولائی کو سپین میں کشمیر ریلی کا انعقاد کیاگیا۔جس میں تارکین وطن نے سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر شرکت کی، اور ریلی کے دوران تارکین وطن نے تاریخی اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ جرمنی میں اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹس کے بعد بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے متعلق تفصیلات یورپی یونین کے نمائندگان کو پیش کیں۔
اکتوبر کے آخر میں کشمیر ویک ہوگا اس ہفتے کے دوران مقبوضہ کشمیر کے اندر بھاتی مظالم کی تمام تر تفصیلات یورپی یونین میں پیش کی جائیں گی۔ جبکہ دورے کے دوران یورپی یونین کے ہیومین رائٹس دفتر میں ڈیٹا شیئر کیاگیا۔وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فارو ق حیدر خان نے کہا کہ یورپی یونین کے وفودسے ملاقاتوں کے دوران ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ جنوبی ایشیاء کے خطے میں ڈیڑ ھ ارب انسان بستے ہیں، خطہ میں اگر غیر روائتی جنگ چھڑ گئی تو یہ لوگ کدھر جائیں گے۔ یہ ڈیڑھ ارب انسان یورپ کا رخ کریں گے۔ اس وقت یورپ 6لاکھ مہاجرین کا بوجھ اٹھانے سے کترارہا ہے۔ تو ڈیڑھ ارب انسانوں کا بوجھ کیسے اٹھائے گا۔انہوں نے تارکین وطن سے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور آزادکشمیر کے عوام تحریک آزادی کیلئے خون کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں تارکین وطن وقت کی قربانی دیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ متاثرین لیسوا کی بحالی کیلے سعودی عرب حکومت اوراین جی اوزسے تعاون کی اپیل کی ہے۔متاثرین کو فوری طور پر چھت تعمیر کر کے دینا چاہتے ہیں۔ اور دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا سیز فائر لائن کے متاثرین کوذرائع رسل و رسائل سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کیلئے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔












10 تبصرے “بھارتی فائرنگ کے متاثرین کوفوری معاوضہ جات کی ادائیگی کےلئے تین کروڑ روپے ارسال، وزیراعظم نے فوری ادائیگی کا حکم دیدیا”