کنٹرول لائن پر فائرنگ: نیلم سیکٹر میں ایک نوجوان ہلاک، دونوں اطراف گیارہ سے زائد شہری زخمی، راجوری میں بھارتی فوجی ہلاک

لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹرز پرپاک بھارت افواج کے مابین شدید فائرنگ کا تبادلہ، بھارتی فوجی اہلکار سمیت پاکستانی کشمیر کا ایک نوجوان ہلاک، دونوں اطراف خاتون اور بچوں سمیت گیارہ سے زائد شہری زخمی، ایک گھر مکمل تباہ ہوگیاہے۔
بھارتی و پاکستانی فوج کی جانب سے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے، بھارتی فوج کے مطابق پاکستانی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ پاکستانی فوجی ترجمان کے مطابق بھارت کے تین فوجی ہلاک کر دیئے گئے ہیں۔
کنٹرول لائن کے علاقوں نیلم اور لیپا سمیت مختلف سیکٹرز پرپاک بھارت افواج کے مابین اشتعال انگیز فائرنگ کے تبادلہ سے ایک نوجوان ہلاک جبکہ خاتون، بچوں سمیت کم از کم آٹھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، زخمیوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے، جبکہ بھارتی فوج کا گولہ لگنے سے شاردہ میں ایک مکان بھی جل کر خاکستر ہو گیا ہے۔ منگل کے روز پاک بھارت افواج کے درمیان شمالی کشمیر کے علاقوں نیلم اور لیپا ویلی کے تمام سیکٹرز میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے شدید گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔

زخمی پولیس اہلکار کو طبی امداد دی جا رہی ہے

مقامی صحافیوں کی جانب سے فراہم کی گئی اطلاعات کے مطابق وادی نیلم کے علاقہ شاردہ میں ایک مکان پر گولہ گرنے سے اٹھارہ سالہ نوجوان محمد نعمان ولد مطیع اللہ جاں بحق ہو گیا جبکہ دو افراد زخمی ہوئے، وادی نیلم کے ہی گاؤں دودھنیال میں ایک خاتون سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمی افراد میں فرید ملک اور حمید ملک شامل ہیں۔
نیلم کے ہی گاؤں نوسیری میں فائرنگ کی زد میں آکرعمران نامی ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔ وادی لیپا کے گاؤں انٹلیاں میں بھارتی فائرنگ کی زد میں آکر ایک شہری کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
صحافیوں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق زخمی پولیس اہلکارکو مظفرآباد منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر زخمی نیلم اور لیپا کے مقامی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق نیلم میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے چین کے مزدوروں اور انجینئرز کو پولیس نے فائرنگ کے بعد بحفاظت متاثرہ علاقہ سے باہر نکال لیا ہے۔ جبکہ سیاحوں کو بھی اس علاقے میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔
ایک لمبے عرصے کے وقفے کے بعد وادی نیلم اور لیپا کے سیکٹرزپر پاک بھارت افواج کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے، فائرنگ کا سلسلہ بند ہونے کے بعد کچھ سال سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اہم ترین سیاحتی مقام وادی نیلم میں سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے رخ کیا تھا جس کے بعد مقامی لوگوں کا معیار زندگی بھی کسی حد تک بحال ہو پایا تھا۔ لیکن ایک مرتبہ پھر سے کنٹرول لائن پر فائرنگ کے باعث لوگوں میں خوف کا ماحول بن چکا ہے۔ انہیں اپنی زندگیوں، گھر بار کے ساتھ ساتھ سیاحت کی صنعت سے جڑے اپنے مستقبل کے بارے میں بھی خدشات لاحق ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی زیر انتظام کشمیر سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار رائزنگ کشمیر کی رپورٹ کے مطابق ضلع راجوری میں کنٹرول لائن پر پاک بھارت افواج کے مابین فائرنگ کے تبادلے کی زد میں آکر ایک بھارتی فوجی ہلاک ہو گیا ہے، اخبار نے ایک سینئر پولیس افسر کے حوالے سے رپورٹ کی ہے جس میں پولیس افسر نے تصدیق کی ہے کہ ایک فوجی اہلکار چونتیس سالہ نائیک کرشن لال پاک بھارت فورسز کے درمیان فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہو گیا ہے۔
بھارتی زیر انتظام کشمیر کے ہی ایک مقبول روزنامے گریٹر کشمیر کے مطابق بھارتی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ پونچھ سیکٹر میں فائرنگ کے تبادلہ کے دوران پاکستانی فوج کو بھی بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تاہم پاکستانی میڈیا کے مطابق پاکستانی فوج کے ترجمان نے بھی تین بھارتی فوجیوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔


گریٹر کشمیر کی ہی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے کرناہ سیکٹر میں پاکستانی فوج کے فائرنگ کے باعث بھارتی زیر انتظام کشمیر کے دو شہری بھی معمولی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ بھاری شیلنگ کے باعث مقامی آبادیوں کو حفاظتی بنکروں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم مالی نقصان کے حوالے سے معلومات میسر نہیں آسکی ہیں۔