ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ: دو سال، 71 ٹیسٹ میچوں پر محیط ٹورنامنٹ کا آغاز

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یا آئی سی سی نے اعلان کیا ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا باقاعدہ آغاز یکم اگست 2019 سے ہوگا جس میں نو ٹیمیں مدِ مقابل ہوں گی۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں آسٹریلیا، بنگلا دیش، انگلینڈ، انڈیا، نیوزی لینڈ، پاکستان، جنوبی افریقہ، سری لنکا، اور ویسٹ انڈیز حصہ لے رہے ہیں۔

ٹورنامنٹ کا پہلا میچ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان یکم اگست 2019 کو کھیلا جائے گا۔ جبکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا فائنل جون 2021 کو برطانیہ میں منعقد ہو گا۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کی نمایاں خصوصیات:
آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ کی پہلی نو ٹیمیں
27 ٹیسٹ سیریز
71 ٹیسٹ میچ جن میں تمام میچ پانچ روزہ ہوں گے
ہر ٹیم تین ٹیسٹ سیریز اپنے ملک میں کھیلیں گی اور بیرونِ ملک
ٹورنامنٹ کا ہر میچ دو طرفہ مقابلوں کی طرح منعقد ہو گا۔ لیکن اس میں بنیادی فرق یہ ہوگا کہ ٹیمیں دو طرفہ مقابلے کھیلتے ہوئے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ ہوں گی اور انھیں فائنل تک رسائی چاہیے ہو گی۔

آئی سی سی نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا شیڈول تشکیل دے دیا ہے جو رکن ممالک کے باہمی معاہدوں پر منحصر ہو گا۔

افغانستان، زمبابوے اور آئر لینڈ کے تمام ٹیسٹ میچ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ نہیں ہوں گے۔

پوائنٹ کیسے ملیں گے؟
آئی سی سی نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے لیگ فارمیٹ میں 27 ٹیسٹ سیریز میں ہر ٹیسٹ سیریز کے 120 پوائنٹس مختص کیے ہیں۔ ان پوائنٹس کی مزید تقسیم کچھ یوں ہو گی:

دو ٹیسٹ میچ کی سیریز میں ہر میچ کے 60 پوائنٹ
تین ٹیسٹ میچ کی سیریز میں ہر میچ کے 40 پوائنٹ
چار ٹیسٹ میچ کی سیریز میں ہر میچ کے 30 پوائنٹ
پانچ ٹیسٹ میچ کی سیریز میں ہر میچ کے 24 پوائنٹ
کسی ٹیم کو ہارنے پر کوئی پوائنٹ نہیں ملے گا جبکہ ٹائی ہونے کی صورت میں پوائنٹس برابر تقسیم ہوں گے اور ڈرا کی صورت میں مجموعی پوائنٹس کا ایک تہائی حصہ دونوں ٹیموں کو دیا جائے گا۔

پاکستان اور انڈیا آمنے سامنے نہیں آئیں گے
سب ٹیموں کی طرح پاکستان کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں کل چھ ٹیسٹ سیریز ملی ہیں۔ البتہ انڈیا کے ساتھ اس کی کوئی سیریز شیڈول کا حصہ نہیں ہے۔

ان میں مندرجہ ذیل ٹیسٹ سیریز شامل ہیں:

رواں سال سری لنکا سے دو میچ کی سیریز

رواں سال آسٹریلیا سے دو میچ کی سیریز

سنہ 2020 میں بنگلادیش سے دو میچ کی سیریز

سنہ 2020 میں انگلینڈ سے تین میچ کی سیریز

سنہ 2020 میں نیوزی لینڈ سے دو میچ کی سیریز

سنہ 2021 میں جنوبی افریقہ سے دو میچ کی سیریز

ممکن ہے کہ پاکستان اپنے تمام ہوم ٹیسٹ سیریز متحدہ عرب امارات میں کھیلے گا۔

آئی سی سی کے نئے منصوبے
دو سال قبل آئی سی سی نے ٹیسٹ چیمپیئن شپ اور بین الاقوامی ون ڈے لیگ کی منظوری دی تھی۔

آئی سی سی کے مطابق 13 ٹیموں پر مشتمل ون ڈے لیگ کی ابتدا سنہ 2021 سے ہو گی اور اسی بنیاد پر ٹیمیں ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کريں گی۔

اس کے ساتھ آئی سی سی نے چار روزہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کا منصوبہ بھی منظور کیا تھا۔

آئی سی سی کے سابق چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا تھا کہ: ‘ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں ہونے والی تمام بات چیت سے یہ واضح ہے کہ ہمیں اس کے متعلق متبادل اور ٹرائل کی ابتدا کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ٹیسٹوں کا رواج قائم رہے۔’

زمبابوے، افغانستان اور آئرلینڈ ابتدا میں ٹیسٹ چیمپیئن شپ سے باہر رہیں گے لیکن چار روزہ ٹیسٹ سیریز میں شرکت کرنے سے ان کا ٹیسٹ میچوں کا تجربہ بہتر ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ ایک عرصے سے اس قسم کی ٹیسٹ لیگ پر غور کیا جا رہا تھا۔ سنہ 2016 میں رچرڈسن نے کہا تھا کہ یہ لیگ اصل ٹیسٹ کرکٹ میں لوگوں کی دلچسپی بڑھانے میں مدد کرے گی۔ اس سے قبل ٹیسٹ میچوں کے ناظرین کی تعداد بڑھانے کے لیے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔

ورلڈ کپ تک چار روزہ ٹیسٹ میچ تجرباتی بنیاد پر کھیلے جائیں گے اور انگلینڈ اس کی میزبانی کرے گا۔ جنوبی افریقہ نے کچھ عرصہ پہلے زمبابوے کے خلاف چار روزہ ٹیسٹ سیریز کھیلنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

ڈیو رچرڈسن نے کہا تھا: ’چار دنوں پر مشتمل ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے ٹیسٹ کھیلنے والے نئے ممالک کو بھی بہتر مواقع ملیں گے۔ اس سے نہ صرف کھیل کا معیار بہتر ہو گا بلکہ بڑی نو ٹیموں کے درمیان فرق بھی کم ہو گا۔‘

عموماً ورلڈ کپ کے لیے رینکنگ میں شروع کی بہترین ٹیمیں براہِ راست کوالیفائی کرتی ہیں جبکہ باقی ٹیموں کے لیے کوالیفائنگ میچ ہوتے ہیں۔ نئی چار روزہ لیگ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ بہترین 13 ٹیمیں تین سال کے دوران آٹھ میچوں کی سیریز کھیلیں گی۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: