کوہالہ ہائیڈوپراجیکٹ کا مبینہ سہ فریقی معاہدہ منظر عام پر آگیا، زائد المعیاد ماحولیاتی این او سی کی تجدید

رواں ماہ کی چھبیس تاریخ‌کو پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں‌بننے والے کوہالہ ہائیڈروپراجیکٹ کا سہ فریقی معاہدہ اسلام آباد کے مقام پر طے پایا جس کا مسودہ ظاہر نہیں‌کیا گیا تھا. تاہم منگل کے روز حکومتی ذرائع سے صحافیوں‌کو ایک مسودہ فراہم کیاگیا ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہی وہ مجوزہ مسودہ ہے جس پر دستخط کئے گئے ہیں.

مذکورہ مسودہ کو سہ فریقی معاہدہ 1124 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کوہالہ کانام دیا گیا ہے. مجوزہ ڈرافٹ گزشتہ سال 30 اکتوبر کو تیار کیا گیا تھا تاہم اس پر دستخط نہ ہو سکے تھے. اب یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ معاہدہ پر ہی دستخط کئے گئے ہیں.

مذکورہ معاہدہ میں‌حکومت پاکستان بذریعہ وزارت توانائی (پاور ڈویژن)، حکومت آزادریاست جموں‌و کشمیر (پاکسانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت) قانونی نمائندے و منتظم جبکہ کوہالہ ہائیڈرو کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ مجاز نمائندہ کی حیثیت سے  تین فریقین ظاہر کئےگئے ہیں.

معاہدہ کو تین حصوں‌میں تقیسم کیا گیا ہے. جن میں‌ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت سے متعلق معاملات، حکومت پاکستان کے ذمہ معاملات جبکہ تیسرا حصہ متفرق معاملات سے متعلق رکھا گیا ہے.

مذکورہ مبینہ معاہدہ پر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی طرف سے چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا نے دستخط کرنے تھے، پاکستانی حکومت کی طرف سے عرفان علی سیکرٹری پاور ڈویژن نے دستخط کرنے تے جبکہ کوہالہ ہائیڈرو پاور کمپنی کی جانب سے سی ای او ژانگ جن نے دستخط کرنے تھے. تاہم معاہدہ کے منظر عام پر آنے والے مسودہ پر کسی کے دستخط موجود نہیں‌ہیں.

مذکورہ مبینہ معاہدہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت بذریعہ عدلیہ پاکستان میں‌نافذ لندن کورٹ کے عالمی ثالی کے قوانین (ایل ایل سی آئی اے) کے تحت توثیق و نفاذ ایکٹ 2011ء پرعملدرآمد کی پابند ہوگی. پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں‌نافذ تمام طرح‌کے ٹیکسز کی فہرست حکومت تعمیراتی کمپنی کو مہیا کرنے کی پابندی ہوگی.

22 دسمبر 2016 کو جاری ہونے والے انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ای این او سی (انوائرنمنٹل عدم اعتراض سرٹیفکیٹ) میں‌کسی قسم کا کوئی ردو بدل نہیں‌کیاجائے گا اور مذکورہ ای این او سی کا معاہدہ کی تاریخ سے تین سال کےلئے اطلاق ہوگا.

واضح رہے کہ 22 دسمبر 2016ء کو جاری ہونیوالے ای این او سی تین سال کےلئے تھا، جو دسمبر 2019ء میں‌زائد المعیاد ہو چکا ہے. مذکورہ ای این او سی کے تحت کمپنی کو پابندی کیا گیا تھا کہ وہ آزاد جموں‌و کشمیر انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2000ء اور ریگولیشن 2009ء کے تحت اے جے کے انوائرنمنٹل اینڈ پروٹیکشن ایجنسی کو انوائرنمنٹل اینڈ سوشل ایمپیکٹ اسسمنٹ رپورٹ مہیا کریگی. انوائرنمنٹل اینڈ پروٹیکشن ایجنسی مذکورہ رپورٹ پر تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے ساتھ نظر ثانی کرے گی. نظر ثانی شدہ اسسمنٹ رپورٹ پر تعمیراتی کمپنی تمام شرائطپر عملدرآمد کرنے کی پابند ہو گی.

مذکورہ این او سی کے مطابق اسسمنٹ رپورٹ تو حاصل کی گئی لیکن عائد شرائط پر تاحال عملدرآمد کےلئے کوئی حکمت عملی مرتب نہیں‌ہو سکی تھی. اس لئے اب مذکورہ این این او سی اور اسسمنٹ رپورٹ کو ہی دوبارہ قابل عمل قرار دیئے جانے کی شرط معائدہ میں‌شامل کی گئی ہے. جبکہ 2016ء کے بعد مظفرآباد شہر میں‌ماحولیاتی آلودگی کے نئے چیلنجز سامنے آئے ہیں. جن میں‌کوہالہ ہائیڈروپراجیکٹ کی تعمیر کے بعد مزید شدت آنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے. جس کےلئے انوائرنمنٹل اسسمنٹ رپورٹ کو از سر نو مرتب کروایا جانا ضروری ہے. تاکہ نئے چیلنجز کو تشخیص ہو سکے. مذکورہ تردد سے بچنے کےلئے تین سال سے زائد عرصہ قبل جاری ہونے والے ای این او سی اور انوائرنمنٹل اسسمنٹ رپورٹ کو ہی تاریخ معاہدہ سے تین سال کےلئے قابل عمل قرار دیا گیا ہے.

مذکورہ مبینہ مجوزہ سہ فریقہ معاہدہ میں‌ کہا گیا ہے کہ دریائے جہلم میں‌پانی کا بہاؤ 42 کیومکس رکھا جائے گا. جس میں‌ایکولوجیکل فلو 30 کیومکس ہو گا. جبکہ 12 کیمکس بھارت کی جانب سے دریائے نیلم پر تعمیر کردہ کشن گنگا ڈیم کے بعد نیلم کا رخ موڑ کر پانی دریائے جہلم کی طرف موڑے جانے کی وجہ سے دستیاب ہوگا.

معاہدہ کے مطابق ضلع ہٹیاں‌کے علاقے سیراں اور مظفرآباد میں‌سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر کمپنی کی ذمہ داری ہو گی. حصول اراضی کی ذمہ داری حکومت کی ہو گی جبکہ ادائیگی کمپنی کری گی. سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی آپریشنل ذمہ داریاں مقامی حکومت کی ہونگی.

واٹر باڈیز کی تعمیر کا ذمہ بھی کمپنی کا ہوگا. جس کےلئے مقامی حکومت کی مشاورت سے انٹرنیشنل کنسلٹنٹ کمپنی کے ذریعے سے فزیبلٹی تیار کروائی جائے گی. واٹر باڈیز کےلئے زمین کا حصول حکومت کی ذمہ داری ہو گی. جبکہ اراضی کےلئے ادائیگی اور تعمیراتی اخراجات کمپنی کے ذمہ ہونگے.

واضح رہے کہ مذکورہ واٹر باڈیز اصل میں‌پینے کے پانی کی چھوٹی جھیلیں‌یا دیگر ذرائع ہیں جو ہائیڈروپراجیکٹ کی تعمیرات کے دوران قدرتی چشموں کے ممکنہ خاتمے اور دریا کے پانی میں‌کمی کے بعدشہر کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کےلئے تعمیر کئے جائیں‌گے.

معاہدہ کے مطابق حصول اراضی اور لیز ایگریمنٹ کا عمل معاہدہ سے چار ماہ کے اندر مکمل کرنا ہوگا. حصول اراضی، کاروباری اور درختوں‌کے نقصان کی ادائیگی کمپنی کے ذمہ ہوگی.

معاہدہ کے دوسرے حصہ کے مطابق حکومت پاکستان فارن کرنسی ایکسچینج ریٹس میں‌اتار چڑھاؤ کو متناسب رکھنے کی ذمہ دار ہوگی. معاہدہ پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی.

جبکہ تیسرے اور متفرق حصہ کے مطابق معاہدہ فوری طور پر قابل عمل ہو گا. اور بارہ ماہ کے اندر اندر کام کا آغاز کیا جائے گا. معاہدہ میں‌متعین حقوق و ذمہ داریوں پر پاکستان اور اے جے کے (پاکستانی زیر انتظام کشمیر) میں‌نافذ قوانین کے تحت عملدرآمد کیا جائیگا. تنازعات وغیرہ کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کیاجائے گا.

تاہم دستخط شدہ معاہدہ تاحال پبلک کرنے سے دونوں‌حکومتیں گریزاں‌ہیں. لیکن مذکورہ بالا معاہدہ کے منظرعام پر آنے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو بجلی کی فراہمی سمیت دیگر مفادات کے حصول کےلئے جو خبریں‌گردش کر رہی تھیں‌ان میں‌صداقت نہیں‌ہے.

نیلم جہلم کی طرح‌حکومت پاکستان کے ساتھ کوہالہ پراجیکٹ سے متعلق بھی کسی قسم کا کوئی معاہدہ طے نہیں‌پایا ہے. پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو 2.25 پیسے فی یونٹ کے حساب سے ہی نیشنل گرڈ سے بجلی فراہم کی جاتی رہے گی، جسے واپڈا کے ٹیرف کے مطابق اٹھارہ سے بیس روپے فی یونٹ صارفین کو مہیا کیا جائے گا.

یہاں‌یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ہی دریائے جہلم پر ضلع کوٹلی کی سرحد پر تعمیر ہونے والے کروٹ ہولاڑ ڈیم کا معاہدہ پنجاب حکومت سے کیا گیا ہے. جس کے تحت ایک روپیہ فی یونٹ بجلی پنجاب حکومت کو فراہم کی جائیگی. جبکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو کیا فراہم کیا جائیگا. اس کا ذکر اس معاہدہ میں‌بھی موجود نہیں‌ہے.

کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تفصیلات
کوہالہ ہائیڈرو پاور پلانٹ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ضلع مظفرآباد میں دریائے جہلم پر تعمیر ہونے والے 1124 میگاوٹ کا منصوبہ ہے. یہ دریائے جہلم پر تعمیر کئے جانے والے چھ ہائیڈروپراجیکٹس میں‌سے ایک ہے.

مذکورہ پن بجلی منصوبے پر عملدرآمد کےلئے ستمبر 2015 میں‌کوہالہ ہائیڈرو کمپنی کے نام سے خصوصی کمپنی تشکیل دی گئی تھی. یہ منصوبہ چین پاکستان اکنامک کوریڈر (سی پیک) کے تحت تیار کیا جارہا ہے. مذکورہ پراجیکٹ پر 2.36 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائیگی. جس کے بعد یہ پورے پاکستان میں‌نجی شعبے میں‌سب سے بڑی سرمایہ کاری ثابت ہوگی. مذکورہ پراجیکٹ سے ایک سال میں‌5149GWhبجلی پیدا ہونے کا امکان ہے.

انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (AJK EPA) نے دسمبر 2016 میں اس منصوبے کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات کی اسسمنٹ رپورٹ (ESIA) کو منظوری دی تھی۔ اس منصوبے سے 2026 میں تجارتی سرگرمیاں شروع ہونے کی امید ہے۔

مقام اور پس منظر
کوہالہ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پاکستانی زیر انتظام کشمیرکے دارالحکومت مظفرآباد کے نواحی دیہاتوں سیران اور برسالہ کے قریب واقع ہوگا۔ یہ 500 میگاواٹ چکوٹھی۔ہٹیاں پن بجلی پروجیکٹ کے بہاو اور 590 میگاواٹ ماہل پن بجلی منصوبے کے اپ اسٹریم میں واقع ہوگا۔

اس منصوبے کو بلڈ،آؤن، آپریٹ، ٹرانسفر (BOOT) کی بنیاد پر تیار کیا جارہا ہے۔ اس میں 36 سال کی مراعات کی مدت ہوگی ، جس میں چھ سال تعمیرات اور 30 ​​سال کام شامل ہیں۔

پاکستان کی وزارت پانی و بجلی نے اکتوبر 2008 میں اس منصوبے کو تیار کرنے کے لئے چین تھری گارجز کارپوریشن (سی ٹی جی سی) کے ذیلی ادارہ چائنا انٹرنیشنل واٹر اینڈ الیکٹرک کارپوریشن (سی ڈبلیو ای) کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔

پاکستان کی اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) نے جون 2011 میں اس منصوبے کی تعمیرات کےلئے اکتوبر 2008 کے ایم او یو کی شرائط کے مطابق منظوری دی تھی۔ سی ٹی جی سی نے مارچ 2019 میں پن بجلی منصوبے کی تعمیر کے منصوبے کو حتمی شکل دی۔

پاور پلانٹ
1122 میگاواٹ کوہالہ پن بجلی گھر چار عمودی فرانسس ٹربائن جنریٹر یونٹوں سے لیس ہوگا ، جس میں سے ہر ایک کی گنجائش 275 میگاواٹ ہے۔ اس کے علاوہ 12 میگاواٹ کے دو ٹربائن ڈیم سے دریا کی جانب ماحولیاتی بہاؤ کو استعمال کرکے بجلی پیدا کرنے کے لئے استعمال ہوں گی۔

اس منصوبے کا پاور ہاؤس اسلام آباد سے 85 کلومیٹر دور واقع ہوگا، جب کہ ڈیم سائٹ مظفرآباد سے 30 کلومیٹر بلندی کی طرف ہے۔ اس ڈیم کا ذخیررقبہ 14،060km² اور اوسطا سالانہ اخراج 302m³ / s ہوگا۔

اس منصوبے میں 69 میٹر اونچا اور 270 میٹر لمبا مڑا ہوا کانکریٹ گریویٹی ڈیم شامل ہو گا۔ اس کرسٹ ایلیویشن 910 میٹر ہوگی اور دو اسپل ویز اور چار نیچے والے آؤٹ لیٹس کے ساتھ منسلک ہوگی۔ دو 17.4 کلومیٹر طویل ہیڈریس سرنگیں ڈیم کو مرکزی بجلی گھر سے مربوط کریں گی۔

ڈیم کا ذخیرہ 8 کلومیٹر لمبا ہوگا اور اس کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 19.9 ملین کیوبک میٹر ہوگی۔

مرکزی پاور ہاؤس 144 میٹر لمبا ہے جبکہ معاون پاور ہاؤس ایک چار منزلہ فریم سٹرکچر ہوگا۔

سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی بجلی خریداری کے معاہدے کے تحت کوہالہ پروجیکٹ سے پیدا ہونے والی بجلی خریدے گی۔معاہدہ کے مطابقہ 7.2365 پیسے فی کے وی ایچ کے تحت نیپرا کوہالہ ہائیڈرو کمپنی سے بجلی خریدے گی.

بجلی کی ترسیل
مرکزی پاور اسٹیشن سے پیدا ہونے والی بجلی کو 500 کے وی نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ (ایچ پی پی) – گوجرانوالہ ٹرانسمیشن لائن اور 500 کے وی سوکی کناری ایچ پی پی – آزاد پتن ایچ پی پی ٹرانسمیشن لائن سے باہمی رابطوں کے ذریعے قومی گرڈ میں منتقل کیا جائے گا۔

ایکولوجیکل پاور اسٹیشن سے حاصل ہونے والی بجلی کو ہٹیاں اور مظفرآباد۔ II گرڈ اسٹیشن کے مابین 132 کلو واٹ سرکٹ میں منتقل کیا جائے گا۔

مالیاتی تناسب
2.36 بلین ڈالر کے منصوبے کی مالی اعانت 70:30 کے تناسب سے قرض اور ایکویٹی کے امتزاج کے ذریعہ کی جائے گی۔

چائنہ ڈویلپمنٹ بینک کے کنسورشیم کی سربراہی میں غیر ملکی بینکوں سے 85 فیصد قرض کی مالی معاونت کی توقع کی جا رہی ہے ، جبکہ حبیب بینک کے سنڈیکیٹ کی زیرقیادت مقامی بینک باقی 15فیصد قرض کی توقع کرتے ہیں۔

منصوبہ میں‌شامل ٹھیکیدار
لاہیمیر انٹرنیشنل اور ژانگجیانگ سروے، منصوبہ بندی، ڈیزائن، اور ریسرچ کا جائنٹ وینچر ستمبر 2016 میں اس منصوبے کے مالک انجینئر کی حیثیت سے مصروف تھا۔

چین تھری گارجیز پروجیکٹ ڈویلپمنٹ کے ساتھ مشترکہ منصوبے میں یانگسی تھری گورجیز ٹیکنالوجی اینڈ اکانومک ڈویلپمنٹ کو جنوری 2017 میں اس منصوبے کے لئے انجینئرنگ – خریداری ، اور تعمیراتی معاہدہ (ای پی سی) سے نوازا گیا تھا۔

نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈیسپچ کمپنی باہمی رابطے کے بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کے لئے ذمہ دار ہے۔

برج فیکٹر، ایلن اینڈ اووری ، لنکنز لاء چیمبر، جونھے ، ڈیلوائٹ ایڈوائزری (ہانگ کانگ) ، اور کے پی ایم جی نے اس پروجیکٹ کے لئے مشاورتی خدمات فراہم کیں۔

کوہالہ ہائیڈرو کمپنی نے ہجلر بیلی پاکستان (ایچ بی پی) ، مرزا ایسوسی ایٹ انجینئرنگ سروسز (ایم اے ای ایس) ، اور بیفینگ انویسٹی گیشن ڈیزائن اینڈ ریسرچ (بی آئی ڈی آر) کے تعاون سے پروجیکٹ ESIA تیار کیا۔

ایس ایم ای سی نے ای ایس آئی اے کا جائزہ لینے اور اسے اپ ڈیٹ کرنے کے علاوہ کوہالہ پن بجلی منصوبے کا فزیبلٹی اسٹڈی اور تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن شروع کیا۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے اعتراضات
30 جنوری 2012ء کو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے اس وقت کے وفاقی وزیر خزانہ ایک تفصیلی خط لکھتے ہوئے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا. مذکورہ خط کے مطابق PPRA آرڈیننس 2002ء اور Public Procurement Rules 2004 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چائینیز کمپنی CWE کو بغیر ٹینڈرنگ کے کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ایوارڈ کر دیا گیا ہے جس سے حکومت پاکستان کو 30 برس میں 577 ارب روپے کا نقصان ہو گا. مذکورہ خط میں‌پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں‌ماحولیاتی اثرات سمیت دیگر متعدد تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا تھا.

دریا بچاؤ کمیٹی اور سیاسی شخصیات کے تحفظات
پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے دارالحکومت میں‌نیلم جہلم منصوبہ اور کوہالہ پراجیکٹ کے قیام کے بعد ماحولیاتی تباہی اور مظفرآباد کو لاحق خطرات کے پیش نظر دریا بچاؤ کمیٹی قائم کی گئی ہے. کمیٹی کے پلیٹ فارم سے گزشتہ چن سال سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے. عدالت سے بھی رجوع کیا گیا لیکن عدالتی احکامات پر واپڈا کی جانب سے عملدرآمد نہیں‌کیا گیا.

مذکورہ بالا معاہدہ کے بعد بھی دریا بچاؤ کمیٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے معاہدہ پبلک کرنے کا مطالبہ بھی کیا، اور سرنگ کھودنے، دریا کا رخ موڑنے اور مظفرآباد پر پڑنے والے ماحولیاتی اثرات کے خلاف احتجاج کی کال بھی دے رکھی ہے. سیاسی و سماجی جماعتیں‌بھی کوہالہ پراجیکٹ کے خلاف بھرپور احتجاج کےلئے متحرک ہیں. قوم پرست اور ترقی پسند کہلائی جانیوالی جماعتیں نہ صرف بیرونی منصوبہ جات کے ذریعے وسائل کی لوٹ مار کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں بلکہ پانی و بجلی کی رائلٹی اور مالیاتی مفادات کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو فراہم کرنے کی مانگ بھی کی جا رہی ہے.