بھارت نے پاکستانی سفارت کاروںپر الزامات عائد کرتے ہوئے پاکستانی ہائی کمیشن سے کہا ہے کہ وہ اپنے عملی کی تعداد کم کر کے نصف پر لے آئے. بھارت کا الزام ہے کہ پاکستانی سفارتکار دلی میںسفارتی امور پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے جاسوسی اور دہشت گرد تنظیموںسے روابط قائم کرنے میںمصروف ہیں.
دلی میں وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق انڈیا کی حکومت نے دلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن کے عملے کو گھٹا کر نصف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انڈیا بھی اسلام آباد میں اپنے عملے کی تعداد پچاس فی صد گھٹائے گا۔ اس فیصلے کا اطلاق ایک ہفتے کے اندر کیا جانا ہے۔
وزارت خارجہ کے ایک صفحے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عبوری ہائی کمشنر سید حیدر شاہ کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا اور انہیں حکومت سے فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے اہلکاروں نے انہیں بتایا کا کہ حکومت پاکستان ہائی کمیشن کے اہلکاروں کی سرگرمیوں کے بارے میں ہائی کمیشن کو کئی بار اگاہ کر چکی ہے کہ ان کی سرگرمیاں سفارتی ضابطوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ، ایک طرف پاکستانی سفارتکار ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہے جو ہائی کمیشن کی سفارتی مراعات کے مطابق نہیں تھیں دوسری جانب پاکستان نے اسلام آباد میں انڈیا کے سفارتکاروں کو ان کے جائز سفارتی کاموں میں رخنے ڈالے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع کیا ۔’
بیان کے مطابق سفارتکاروں اور قونصل اہلکاروں سے کے تئیں پاکستان اور اس کے اہلکاروں کا رویہ ویانہ کنونشن اور باہمی معاہدوں کے اصولوں کے منافی ہے۔ گذشتہ برس پلوامہ کے حملے کے بعد دونوں ملکوں نے اپنے اپنے ہائی کمشر واپس بلا لیے تھے۔
دلی میں پاکستان کے ایک سفارتکار نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دلی میں کام کرنا پاکستانی سفارتکاروں کے لیے انتہائی مشکل کام ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے ہر واقعہ کے بعد صورتحال مزید کشیدہ اور ماحول مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
انڈیا نے ہائی کمیشن کے عملے کو گھٹا کر پچاس فی صد کرنے کافیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب اسلام آباد ہائی کمیشن کے اس کے دو اہلکار پاکستان میں حال میں حراست میں لیے جانے کے بعد واپس لوٹے ہیں۔
بیان میں اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ‘اسلام آباد میں حال ہی میں دو انڈین اہکاروں کا بندوق کی نوک پر اغوا اور ان کے ساتھ زبردست بدسلوکی اس حقیقت کا عکاس ہے کہ پاکستان کس حد تک سفارتی راستے سے بھٹک چکا ہے ۔ان دونوں اہلکاروں نے انڈیا آکر پاکستانی ایجنسیوں کی بربریت کے سلوک کی تفصیل دی ہیں’۔
اس سے چند ہفتے پہلے انڈیا نے پاکستان کے دو اہلکاروں کو جاسوسی کے الزام میں ملک سے چلے جانے کا حکم دیا تھا۔
انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کافی عرصے سے کافی خراب ہیں۔ ہائی کمیشن میں سفارتی عملہ کم کرنے کا فیصلہ پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی پیدہ ہونے کا واضح اشارہ ہے۔
حکومت نے یہ سخت قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب انڈیا کو چین سے زبردست سرحدی ٹکراؤ کا سامنا ہے۔ گذشتہ ہفتے چین نے گلوان وادی میں انڈیا کے بیس فوجی ہلاک کردیے تھے۔ دونوں ملکوں میں تعطل برقرار ہے۔ اپوزیشن وزیر اعظم مودی کی حکومت پر چین کے آگے کمزور پڑنے کا الزام لگایا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مودی حکومت چین سے ٹکڑاؤ کے بعد زبردست دباؤ میں ہے۔ وہ پاکستان کے خلاف سخت فیصلہ لے کر انڈین فوجیوں کی ہلاکت سے صدمے میں آئے ہوئے عوام کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ یہ ایک حکومت ایک مضبوط حکومت ہے اور سخت قدم اٹھا سا سکتی ہے۔












Thank you for your sharing. I am worried that I lack creative ideas. It is your article that makes me full of hope. Thank you. But, I have a question, can you help me?
I don’t think the title of your article matches the content lol. Just kidding, mainly because I had some doubts after reading the article. https://accounts.binance.com/register/person?ref=IXBIAFVY