پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں شہداء زلزلہ کا قبرستان مسمار کئے جانے کا مبینہ اقدام سامنے آیا ہے۔ جس کے خلاف شہداء کے ورثاء سراپااحتجاج ہیں۔
ورثاء نے حکومت،انتظامیہ اور عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ سول عدالت کے حکم امتناعی اور انکوائری کمیٹی کے قیام کے باوجود قبرستان کو مسمار کر کے تعمیراتی کام جاری رکھا جانا نہ صرف شہداء کے ورثاء کے ساتھ نا انصافی ہے بلکہ حکومت، انتظامیہ اور عدلیہ کی رٹ کو چیلنج کرنے کے بھی مترادف ہے۔
اکتوبر 2005ء کے زلزلہ میں مظفرآباد شہر تقریباً پوری طرح تباہ ہو گیا تھا۔ عمارت کے ملبے تلے تب کر ہزاروں مردوزن موت کا شکار ہو گئے تھے۔ اور نعشیں ملبے سے نکالنے میں کئی ماہ تک کا وقت لگ گیا تھا۔
مظفرآباد میں زلزلہ سے ہونے والی ہلاکتوں میں صرف مقامی لوگ ہی شامل نہیں تھے، ان میں بڑی تعداد دیگر شہروں کے افراد کی بھی تھی۔ اس وقت پورے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ایک ہی یونیورسٹی تھی جو مظفرآباد میں تھے، جس کی وجہ سے طلباء و طالبات کی ایک بڑی تعدادنہ صرف اس یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھی، بلکہ بڑی تعداد میں طلبہ دیگر دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں بھی زیر تعلیم تھے۔ زلزلہ کی زد میں آکر ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد ان طلباء و طالبات کی بھی شامل تھی۔
پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے دیگر شہروں سے مظفرآباد میں زیر تعلیم ان طلبہ کے ورثاء کئی روز تک اپنے پیاروں کی نعشیں تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ کئی کئی ماہ بعد ملنے والی نعشوں کی شناخت بھی ایک بڑا مسئلہ تھا۔ جس کی وجہ سے مقامی انتظامیہ نے ورثاء کی مشاورت سے یہ نعشیں مظفرآباد کے علاقے پلیٹ میں قلعہ کے قریب واقع ایک قبرستان میں دفنانے کا فیصلہ کیا۔ اور بقول ورثاء اسسٹنٹ کمشنر وقت مسعود الرحمان نے ورثاء کو یقین دہانی کروائی تھی کہ یہ قبرستان زلزلہ کے شہداء کیلئے وقف کیا جا رہا ہے۔
زلزلہ کے بعد پندرہ سال تک یہ قبرستان اسی حالت میں موجودرہا، لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے مذکورہ قبرستان کو مسمار کر کے تعمیرات کئے جانے کی خبریں گردش میں ہیں۔ جس کی وجہ سے اس قبرستان میں مدفون اپنے پیاروں کے ورثاء شدید پریشانی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
ہفتہ کے روز راولاکوٹ کی نواحی یونین کونسل پاچھیوٹ سے تعلق رکھنے والے خلیل بابر، شاہد اقبال اور لالہ ظفر نے مظفرآباد کی سول سوسائٹی کے زعماء کے ہمراہ سنٹرل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم اور چیف سیکرٹری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خلیل بابر کا کہنا تھا کہ زلزلہ کی زد میں آکر موت کا شکار ہونے والے ہزاروں طلباء و طالبات میں میری بہن بھی شامل تھی۔ انتظامیہ کی موجودگی میں اسکی میت کو پلیٹ قلعہ کے قریب قبرستان میں سپرد خاک کیا گیاتھا۔ لیکن آج زلزلہ کے پندرہ سال گزرنے کے بعد ہمیں اطلاع ملی ہے کہ ناصر خان اور احمد مجتبیٰ نامی اشخاص مذکورہ قبرستان کو مسمار کر کے تعمیرات شروع کر رہے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ ہم نے سول عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا، جس کی تعمیل کرنے کے باوجود مسمارگی اور تعمیرات کا کام جاری رکھا گیا، چیف سیکرٹری اور ڈپٹی کمشنر مظفرآباد کو متعدد درخواستیں دے چکے ہیں۔ چیف سیکرٹری نے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ مسعود الرحمان(جو کہ اسسٹنٹ کمشنر وقت بھی ہیں) کی سربراہی میں انکوائری پینل بھی تشکیل دیا۔ لیکن مسعود الرحمان کی بیماری کی وجہ سے کمیشن اپنی رپورٹ مرتب نہیں کر سکا۔
انکا کہنا تھا کہ ہم راولاکوٹ سے یہاں حکام بالا، انتظامیہ اور عدلیہ کے سامنے صدائے احتجاج بلند کرنے آئے ہیں، ہم ذمہ داران سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ زلزلہ نے ہمارے پیاروں کو ہم سے چھین لیا۔ اب سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکی یادوں کو ہم سے نہ چھینا جائے۔ انکی قبروں کی بے حرمتی کرنے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے،ورثاء کیلئے ان کے نام و نشان تک مٹا دینے کی کوشش کرنے والے کاروباریوں کو اس سنگین عمل سے روکا جائے۔ انکا کہنا تھا کہ زلزلہ نے ہم سے بہت کچھ چھینا ہے، لیکن آج پندرہ سال بعد ہمارے ان زخموں پر نمک پاشی کی جا رہی ہے۔ جس میں مظفرآباد کی انتظامیہ اور ذمہ دار حکام بھی یا تو ملوث ہیں یا پھر آنکھیں بند کئے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔












17 تبصرے “زلزلے نے اپنوں کو چھینا، انکی یادیں مسمار نہ کی جائیں”