پوسٹ بجٹ تفصیلات:‌ترقیاتی میزانیہ میں‌کوئی اضافہ نہیں، غیر ترقیاتی میزانیہ میں‌18 فیصد اضافہ

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی حکومت نے پوسٹ بجٹ تفصیلات جاری کر دی ہیں. سرکاری طورپر جاری کی گئی پریس ریلیز میں‌ بجٹ کے نمایاں‌خدو خال کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں.

پریس ریلیز کے مطابق بجٹ کا حجم1کھرب39ارب50کروڑ روپے ہے اور اس میں 115ارب غیر ترقیاتی اخراجات جبکہ24ارب50کروڑ ترقیاتی اخراجات کیلئے تجویز کیے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ رواں مالی سال سے14.8فیصد زیادہ ہے جس میں غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے رواں مالی سال کے مقابلے میں 18.6فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ جاریہ میزانیہ سے کرونا وبا سے نمٹنے کیلئے258ملین روپے کے اخراجات کیے جا چکے ہیں جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے70کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں۔

حکومت نے بیروزگارنوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے سکل ڈویلپمنٹ فنڈ قیام عمل میں لاتے ہوئے 1ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کرونا کی وباکے علاج معالجہ کیلئے رواں مالی سال میں 22کروڑ98لاکھ جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے 20کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔

آئندہ مالی سا ل کے دوران740کلو میٹر دیہی رابطہ سڑکات کی ری کنڈیشنگ و تعمیر کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کی بھی تجویز ہے۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام2020-21کا مجموعی حجم24ارب50کروڑ روپے ہے جس میں 2ارب50کروڑ روپے کی فارن ایڈ بھی شامل ہے۔

مالی سال2020-21کا ترقیاتی میزانیہ مالی سال2019-20کی سطح پر ہی برقرار رکھا گیا ہے۔ آئندہ سالانہ ترقیاتی میزانیہ میں 42فیصد رسل و رسائل،11فیصد لوکل گورنمنٹ،10فیصد تعلیم،10فیصد پن بجلی،9فیصد فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ،5فیصد فارن ایڈ منصوبہ جات،4فیصد صحت عامہ جبکہ بقیہ 9فیصد دیگر پیداواری شعبہ جات وغیرہ کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔

وزارت امور کشمیر کے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 2ارب92کروڑ40لاکھ روپے کی رقم مہیا کی گئی ہے جس میں قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، میڈکل کالج مظفرآبادو میرپور،لیسوا و کیرن بائی پاسز اور رٹھوعہ ہریام پل کے منصوبہ جات شامل ہیں۔

بھارتی فائرنگ سے متاثرہ عوام کی بحالی کیلئے ایک نیا منصوبہ لاگتی3.6ارب روپے شامل کیا گیا ہے جس کیلئے آئندہ مالی سال کیلئے56کروڑ40لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے اوردیگر وفاقی وزارتوں کے تحت تقریباً22ارب روپے کی رقم مہیا کی گئی ہے جس کے خلاف اہم منصوبہ جات پونچھ یونیورسٹی، وویمن یونیورسٹی باغ،نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ، اٹھمقام کیل تاؤ بٹ روڈ جیسے اہم منصوبہ جات پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کیلئے بھی جاری تعمیرنو و بحالی کے منصوبوں کیلئے3ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔ رواں مالی سال میں 199منصوبہ جات مکمل کیے گئے ہیں جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام2020-21کے تحت جاریہ منصوبہ جات کیلئے72فیصد فنڈز مختص کرتے ہوئے مزید199منصوبہ جات کی تکمیل کا ہدف مقرر ہے جبکہ نئے منصوبہ جات کیلئے28فیصد فنڈز تجویز شدہ ہیں۔

جمعرات کے روز قانون ساز اسمبلی میں مالی سال2020-21کے پیش کردہ بجٹ کے حوالہ سے محکمہ مالیات اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی جانب سے جاری کردہ اہم نکات کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 2020-21میں سماجی شعبہ جات کیلئے مجموعی طور پر9فیصد، پیدواری شعبہ کے لیے 19فیصد اور انفراسٹرکچر کے شعبہ جات کیلئے72فیصد مالی وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔

500بستروں پر مشتمل ڈویژنل ہسپتال،200بستر جنرل ہسپتال راولاکوٹ اور تحصیل ہستپال پٹہکہ کے مرحلہ اول کے منصوبہ جات کو مکمل کرتے ہوئے ان ہسپتالوں کی توسیع کیلئے مرحولہ دوئم منصوبہ جات کو آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے جبکہ ضلعی ہسپتال حویلی کے ہمراہ ڈاکٹرز/ نرسز ہاسٹل کی تعمیر اور لیپہ میں 30بستر تحصیل ہسپتال کے علاوہ عباس انسٹیٹیوٹ اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال باغ کے ہمراہ ادارہ برائے قلب امراض کے قیام کی تجویزہے تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر ہو سکیں۔

مزید براں ضلعی ہسپتال کوٹلی کے ہمراہ 200 بستر نئے وارڈ کی تعمیر کا منصوبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے۔

عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیئے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کو پاکستان کے ساتھ ملانے والی اہم شاہرات، جبکہ بین الاضلاعی اورضلع سے تحصیل صدر مقامات کی 640کلومیٹر شاہرات کی ری کنڈیشننگ کے منصوبہ جات پر تیزی سے کام جاری ہے جن کوآئندہ مالی سال کے دوران مکمل کیاجائے گا تاکہ عوام کو جلد از جلد بہتر سفری سہولیات دستیاب ہو سکیں نیز اٹھمقام تا دودھنیال اور کیل تا تاؤبٹ شاہراہ کی تعمیرکے کام کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ1450کلومیٹر رابطہ سڑکوں کی تعمیر و بہترگی کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔نیز آئندہ مالی سال کے دوران مزید 725کلومیٹر دیہی رابطہ سڑکات کی ری کنڈیشنگ و تعمیر کے منصوبہ جات پر بھی عملدرآمد کی تجویز ہے۔

میرپور میں زلزلہ سے متاثرہ اہم شاہراہ بانگ ہیڈ چیچیاں جاتلاں روڈ 14کلومیٹر کی بحالی و تعمیر نو کے علاوہ اپر جہلم نہر پرافضل پور کے مقام پر RCCپل کی تعمیر کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کاآغاز کیا جا چکا ہے۔

اضلاع کے مابیں باہمی رابطہ اور تجارتی /سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے کشمیر ہائی وے کی فزیبلٹی اور تعمیر کے منصوبہ جات لاگتی 5 ارب روپے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے جانے کی تجویز ہے۔

سلائیڈ ٹریٹمنٹ،روڈ سیفٹی اور انٹری پوائنٹس پر Weight Stationsکے قیام کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ سڑکوں کو شکست و ریخت سے محفوظ رکھنے کو یقینی بنایا جا سکے۔

دیہی علاقوں میں عوام کو بنیادی اور فوری ضروریات کی فراہمی کے لیئے کمیونٹی انفراسٹرکچر پروگرام پر کام جاری رہے گا۔موجودہ حکومت نے گزشتہ 4سالوں کے دوران پاکستانی زیر انتظام کشمیر بھر میں بجلی کی سہولیات کی فراہمی اور بہتری کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں جو آئندہ مالی سال بھی جاری رہیں گے۔آئندہ مالی سال کے دوران سماھنی، سہنسہ اور حویلی میں گرڈاسٹیشنزکی تعمیر کے منصوبہ جات ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے گئے ہیں جبکہ بجلی کے نظام کی مزید Augumentationکی جائے گی۔ علاوہ ازیں 4.1میگاواٹ کے تین منصوبہ جات رواں مالی سال میں مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 14.4میگا واٹ جھینک ہائیڈل پاور پراجیکٹ تکمیلی مراحل میں ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران 127میگا واٹ کے منصوبہ جات پرکام جاری رہے گا اور 5میگا واٹ کے 3نئے منصوبہ جات پر بھی کام شروع کئے جانے کی تجویز ہے۔

مالی سال 2016-17سے جملہ ضلعی ہسپتالوں میں ایمر جنسی طبی سروسز کا آغاز کیا گیا ہے اور عوام کو مفت ایمرجنسی ادویاتکی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ آئیندہ مالی سال کے دوران اس پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے ترقیاتی میزانیہ سے 20کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جس سے ایمر جنسی ادویات سمیت ڈائیلاسیز اور محفوظ انتقال خون کی سروسز کوبہتربنانے کیلئے اقدامات عمل میں لائے جائیں گئے۔ اسی طرح COVID-19وبائی مرض کے علاج و معالجہ کیلئے رواں مالی سال میں 22کروڑ 98لاکھ روپے جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے 20کروڑ روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔

پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیئے مالی سال 2020-21ء میں شعبہ پبلک ہیلتھ کے ذریعے کوٹلی، بھمبر، آٹھمقام، کہوٹہ، ہٹیاں بالا، پلندری، باغ، میرپور، مظفرآباد،راولاکوٹ اور چند سب ڈویژنل ہیڈکوارٹر چکار،بلوچ، چڑہوئی، سمائنی، کھوئی رٹہ اور سہنسہ کی سکیم ہاء پر عملدرآمد کئے جانے کی تجویز ہے۔ ضلعی ہیڈکوارٹر کہوٹہ، ہٹیاں بالا جبکہ سب ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بلوچ، تھوراڑ، کھوئی رٹہ، پٹہکہ میں دفتری مکانیت پریس کلب مظفرآباد، دفتر نظامت لوکل گورنمنٹ، احتساب بیورو کی عمارت کی تعمیر کے لیئے سکیم ہاء پر عملدرآمد جاری ہے تاکہ سرکاری امور کو بہترطریقہ سے انجام دیا جا سکے۔

قبل ازیں تحصیل ہٹیاں بالا، دھیرکوٹ اور ڈڈیال کی حد تک لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جا چکا ہے۔جبکہ آئیندہ مالی سال میں مزید آٹھ تحصیلوں کے لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کر نے کی نئی سکیم پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے۔

بھمبر میں ایک پولی ٹیکنیک کالج قائم کیا جا رہا ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران ایک ملٹری کالج قائم کئے جانے کی تجویز ہے جس سے جدید معیاری فنی تعلیم کی سہولیات دستیاب ہو سکیں گی جو موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے۔علاوہ ازیں 1374افرادکو فنی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران مزید 950افراد کو پیشہ وارانہ تربیت دی جائیگی۔ ایک ارب روپے کا Skill Development Fundقائم کیا گیا ہے۔ جس کے منافع سے پاکستان کے بہترین اداروں میں نوجوانوں کو فنی تربیت دلائی جائے گی تاکہ یہ تربیت یافتہ افراد اندرون اور بیرون ملک ملازمتوں کے مواقع حاصل کرنے کے اہل ہو سکیں۔

حکومت پنجاب کے مالی تعاون سے اخوت فاونڈیشن کے ذریعے پاکستانی زیر انتظام کشمیر بھر میں 39044مرد و خواتین کو بلاسودقرضے فراہم کئے گئے ہیں جسکی مجموعی مالیت ایک ارب 27کروڑ10لاکھ روپے ہے جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے مزید30,000افراد کو 90کروڑ روپے کی سہولت فراہم کی جائیگی۔ اس اقدام سے خود روزگاری کے مواقع میسرہونگے۔

زراعت /امور حیوانات کے ترقیاتی پروگرام کے تحت زرعی مشینری، بیج اور کھاد رعایتی نرخوں پر فراہم کیے جا ئیں گے۔علاوہ ازیں 270نئے ڈیری فارمز قائم کئے جائیں گے۔محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی جانب سے شعبہ جاتی اہداف کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکشن سیکٹر کے تحت مجموعی طور پر640کلو میٹر سڑکات مکمل کی گئی ہیں۔

جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران 725کلومیٹر رابطہ سڑکات کی تعمیر و ری کنڈیشننگ کے منصوبہ جات ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔ لوکل گورنمنٹ کے تحت 4500مختلف نوعیت کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کی تجویز زیر غور ہے۔ جبکہ رواں مالی سال میں 2لاکھ آبادی کو صاف پینے کے پانی کی سہولت مہیا کی گئی ہے نیز آئندہ مالی سال میں مزیدتین لاکھ آبادی کو سہولت کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔محکمہ تعلیم کے تحت سکولوں و کالجوں کی 55عمارات مکمل کی گئی ہیں۔ آئندہ مالی سال کے دوران مزید278عمارات پر آغاز کا ہدف مقرر کیا گیاہے۔

بجلی کی فراہمی کے لیے 368کلو میٹر ٹرانسمیشن لائنز اور 306ٹرانسفارمرز تنصیب کر کے 12000نئے کنکشن فراہم کیے جائیں گے۔ جاگراں (دوئم) 48 میگا واٹ کے منصوبہ جات پر عملدر آمدجاری رہے گا۔ جبکہ نگدر اور دواریاں 75میگاواٹ منصوبہ جات پر عملدرآمد کا آغاز کیا جائیگا اور 15 میگا واٹ کے دیگرمنصوبہ جات پر عملدرآمد جاری رکھا جائیگا۔

محکمہ جنگلات کے تحت رواں مالی سال میں 6000 ایکٹر رقبہ پر شجرکاری کی گی ہے جبکہ آئندہ مالی سال میں مزید10000ایکڑ رقبہ پر شجرکاری کا ہدف ہے۔ طلباء و طالبات کو کمپیوٹر کی تعلیم دینے کے لیے اب تک 320لیبارٹریاں قائم کی جا چکی ہیں۔ جبکہ ڈرائیونگ لائسنس اور لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے منصوبہ جات بھی شامل پروگرام ہیں۔

کھیلوں کی سہولیات کے لیے سکول و کالجزکے ہمراہ گراؤنڈ زکی تعمیر کی تجویز ہے۔ جبکہ ہر ڈویژن کی سطح پر دیہی علاقوں میں منی گراونڈز کی تعمیر کے منصوبہ جات قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں سپورٹس سٹیڈیم برنالہ اور سکندر حیات خان سپورٹس سٹیڈیم کوٹلی کے منصوبہ جات پر عملدرآمد جاری رہے گا۔

سیاحت کے فروغ کے لیے ٹوریسٹ ریزارٹس، ٹوریسٹ لاجز اور انفارمیشن سینٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ اس طرح ان سیاحتی مراکزپر رہائشی، تفریخی، سفری اور معلوماتی سہولیات یکجا طور پر سیاحوں کو فراہم ہوں گی۔میڈیکل کالجز کے ہمراہ ٹیچنگ ہسپتالوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے میر پور اور راولاکوٹ کے ہسپتالوں کے مرحلہ دوئم کے منصوبہ جات پر عمل در آمد کیا جائے گا۔ جبکہ چکا ر میں 50بستر کا ہسپتال، شاردہ میں 20بستر کا ہسپتال، لیپہ میں 30بستر کا ہسپتال، ضلع پونچھ میں تھوراڑ، ضلع سدھنوتی میں بیٹھک اعوان آباد میں رورل ہیلتھ سنٹر کے قیام کی تجویز ہے۔ نیز کوٹلی ہسپتال کے ہمراہ 200بستروارڈ اور COVID-19کے لیئے ضروری فنڈز فراہم کیئے گئے ہیں۔ نیلم، باغ اور حویلی میں ریسکیو1122کے مراکز کے قیام کے منصوبہ جات پر عملدرآمدجاری ہے جبکہ LOCپر چھ سب ڈویژن میں بم ڈسپوزل سکواڈ کے منصوبہ جات کے لیے 60–لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

صنعت، ابریشم، معدنیات اور AJK TEVTA کے لیے آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مجموعی طور پرتقریباً53کروڑ روپے کی رقم م مختص کی گئی ہے۔محکمہ زراعت کے تحت کسانوں میں ٹریکٹرز و دیگر زرعی مشینری، ادویات اور اعلی اقسام کے بیجوں کی فراہمی کے لیے بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ جس سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہو گا بلکہ مقامی طور پر روزگار کے مواقع بھی میسر ہوں گے۔

محکمہ امور حیوانات کے زیر انتظام دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جائیں گئے۔

شعبہ ٹرانسپورٹ کے ریکارڈ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بنانے کے لیے ایک نئی سکیم پر عمل در آمد کا آغاز کیا گیا ہے۔ جس سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر بھر میں روٹ پرمٹس، گاڑیوں کی فٹنس اور دیگر جملہ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا۔

وویمن یونیورسٹی باغ کے لیے خرید اراضی اور کیڈٹ کالج مظفرآباد کے منصوبہ جات بھی شامل پروگرام ہیں۔

محکمہ تعلقات عامہ کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے 3کروڑ 70لاکھ روپے کی رقم فراہم کی جارہی ہے۔