پاکستان کے زیر انتظام جموںکشمیر کے ضلع میرپور کی پولیس نے ایک بچی اوردو خواتین کے تہرے قتل کے الزام میںتین ملزمان کو گرفتار کرتے ہوئے کیس کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے. پولیس کے مطابق گرفتار کئے گئے مبینہ ملزمان کی نشاندہی پر دونوںخواتین کی نعشیں بھی برآمد کر لی گئی ہیں.
میرپور پولیس کے مطابق ملزمان میںراولپنڈی کا رہائشی فیاضاحمد، کھوئی رٹہ کوٹلی کا رہائشی محمد جبار اور برنالہ بھمبر کا رہائشی محمد رضوان شامل ہیں. تینوںملزمان نے اعتراف جرم کر لیا ہے اورملزمان ہی کی نشاندہی پر دونوںخواتین کی نعشیںبرآمد کی گئی ہیں.
ملزم فیاض احمد نانگی اڈہ میرپورمیںگاڑیوںکی ڈینٹنگ کا کام کرتا ہے، ملزم محمد جبار مکینک کا کام کرتا ہے جبکہ تیسرا ملزم محمد رضوان رکشہ ڈرائیور ہے.
میرپور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی عتیق احمد سدوزئی کے مطابق تہرے قتل کا یہ واقعہ رواں ماہ کی گیارہ تاریخ کو رونما ہوا تھا جبکہ دو روز بعد ایک ننھی بچی کی نعش برآمد ہونے کے بعد یہ معلوم ہوا تھا کہ بچی کے ساتھ اس کی ماں اور پھوپھی بھی لاپتہ ہیں.
پولیس نے مقدمہ درج کر کے بچی کے قاتلوں اور گمشدہ والدہ اور پھوپھی کی شروع کر دی تھی. ڈی ایس پی سٹی چوہدری عنصر اور ایس ایچ او سٹی سردار سہیل یوسف پولیس ٹیم کے ہمراہ مقدمہ کی تحقیقات کر رہے تھے.
عتیق احمد سدوزئی کے مطابق پولیس نے وقوعہ کے چودہ روز کے اندر ہی ملزمان کو گرفتار کرتے ہوئے مقدمہ میںاہم پیش رفت کر لی ہے. پولیس تحقیقات کے مطابق دونوںخواتین خانہ بدوش قبیلہ سے تعلق رکھتی تھیں، یہ قبیلہ حلقہ کھڑی کے علاقے جبر میںرہائش پذیرہے. پولیس کے مطابق مبینہ طور پر مقتول خواتین نیلم پری اوراسکی نند کالو نے ملزمان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کےلئے قیمت طے کر رکھی تھی. مذکورہ عمل کے دوران ایک خاتون کو قتل کیا گیا، جبکہ بعد ازاںدوسری خاتون کو بھی قتل کر کے نعشیںالگ الگ جگہوںپر دفنائی گئیں، بعد ازاںبچی کو بھی قتل کر کے ایک ویرانے میںپھینک دیا گیا.
پولیس کے مطابق نیلم نامی خاتون کو ایک زیر تعمیر مدرسہ کے احاطہ میںقتل کر کے دفن کیا گیاتھا،جبکہ کالو نامی دوسری خاتون کو قتل کرنے کے بعد منگلا بائی پاس روڈ امبر کھاری کے مقام پرایک نالے میں پھینکا گیا، جبکہ بچی کو قتل کرنے کے بعد مہتہ جاگیر کے مقام پر اسکی نعش پھینک دی گئی تھی.












I don’t think the title of your article matches the content lol. Just kidding, mainly because I had some doubts after reading the article.
I don’t think the title of your article matches the content lol. Just kidding, mainly because I had some doubts after reading the article. https://accounts.binance.bh/register/person?ref=IHJUI7TF