پاکستانی کشمیر: کیا واقعی خواتین کو دنیا میں‌سب سے زیادہ احترام حاصل ہے….؟

جواد احمد پارس

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں خواتین کو عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وزیر اعظم کا فرمان سو فیصد درست ہے جو احترام خواتین کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں حاصل ہے وہ دنیا میں کہیں بھی نہیں۔ یہاں تو کبھی خواتین کو حراساں کیے جانے کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہی نہیں۔

بس کبھی کبھار وزیر اعظم کی کابینہ کے سنیئر وزیر پر یہ الزام لگ جاتا ہے کہ ان کی ایماء پر سات لوگ ایک خاتون کا گینگ ریپ کر دیتے ہیں اور وزیر موصوف اس معاملے کی تحقیقات نہیں ہونے دیتے۔

کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ میرپور سے راشن کی تلاش میں نکلنے والی دو نوجوان عورتیں اور ایک ڈیڑھ سالہ بچی لا پتہ ہو جاتی ہیں، دو کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں اور ایک لاپتہ ہی رہتی ہے۔

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ وادی نیلم کے کسی دور دراز گاوں میں سسرالی بد چلنی کا الزام لگا کر کسی خاتون کو قتل کر دیتے ہیں اور اس کی لاش نالہ سرگن میں بہا کر اسے خود کشی کا رنگ دے دیتے ہیں۔

کبھی کبھار ایک اور نالے، نالہ جاگراں کے قریب بستی ایک خاتون افطاری کے وقت دریا میں چھلانگ لگا دیتی اور وجہ نامعلوم رہتی ہے۔

کبھی کبھی کوئی حافظ قران اور مدرسے کا طالب علم پنجگراں، مظفرآباد میں نو سال کی نا بالغ ذہنی مریضہ بچی کا ریپ کر دیتا ہے اور اس کے والدین انصاف کے لیے در بدر بھٹکتے ہیں۔

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ بنک کا کوئی اعلیٰ عہدیدار اپنی کئی ماتحت خواتین کو ترقی و تبادلے کے لالچ اور دھمکی کے ذریعے نہ صرف ریپ کرتا ہے بلکہ ان کی ویڈیوز بھی بناتا ہے اور پھر اس کے ذریعے دوسری ملازمین کو بھی قابو کرتا ہے۔ اور جب یہ ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو کوئی ایک ادھ متاثرہ عورت راولاکوٹ میں خود کشی کر لیتی ہے۔

کبھی کبھار محکمہ تعلیم میں ترقی و تبادلوں کے لالچ اور دھمکیوں کے ذریعے افسران خواتین اساتذہ کا جنسی استحصال کرتے ہیں اور پھر ان پر رپورٹ کرنے والی خاتون صحافی کو ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ گھر سے کالج جانے والی کسی خاتون کو راستے سے کوئی ڈرائیور اغواء کر لیتا ہے اور شاردہ، وادی نیلم کے کسی گیسٹ ہاوس میں لے جا کر اس کا ریپ کر دیتا ہے۔

بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ دورایاں، وادی نیلم کا کوئی شادی شدہ شخص اپنی حقیقی چچا زاد کو اپنی سگی بہن کی مدد سے کسی گیسٹ ہاوس میں لے جاتا ہے اور بے ہوش کر کے ریپ کرنے کے بعد سڑک میں چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔

کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ وزیر اعظم کے اپنے آبائی علاقے چکار میں کوئی شخص چار سالہ، اور پھر سات سالہ بچی کا ریپ کر دیتا ہے۔ کبھی کبھی کالج کا کوئی طالب علم بھی اس طرح کی جنسی زیادتی کا نشانہ بن جاتا ہے۔

کبھی کبھی کائی منجہ گڑھی دوپٹہ کے علاقے میں شوہر ناراض بیوی کو دھوکے سے بلا کر دوستوں سے اس کا ریپ کروا دیتا ہے۔

کبھی کبھی لنگرپورا کا کوئی پولیس کانسٹیبل جائیداد کے تنازعے پر تین افراد کے ذریعے مخالفین کی کم عمر بیٹی کا ریپ کروا دیتا ہے۔

کبھی کبھی میرپور کا کوئی شخص جنسی تسکین کی خاطر کم سن گھریلیو ملازمہ کا نہ صرف خود ریپ کرتا ہے بلکہ اپنے دوستوں کو بھی بلا کر ان کی دعوت کا اہتمام بھی کرتا ہے۔

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہجیرہ کے تھانے میں گرفتار بھائی سے ملاقات کے لیے آنے والی لڑکی کو کوئی پولیس والا اپنے کمرے میں لے جاتا ہے اور جنسی تعلقات کے بدلے بھائی کی رہائی کی پیش کش کرتا ہے اور پھر ریپ توکرتا ہے مگربھائی کو نہیں چھوڑتا۔

کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ راولاکوٹ کی کسی کم سن لڑکی کو سرائے عالمگیر کا کوئی شخص اغواء کر کے میرپور میں کئی روز تک زیادتی کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔

کبھی کبھی راولاکوٹ میں محکمہ برقیات کا کوئی ملازم گھر میں گھس کر آٹھویں جماعت کی بچی کا ریپ کر دیتا ہے۔

بہت کم ایسا ہوتا ہے داخلے کا لالچ دیکر میرپور کے کسی سرکاری کالج کا چپراسی طالبہ کو گھر لے جاتا ہے اور اس کا ریپ کر دیتا ہے۔

کبھی کبھار باغ کے علاقے جگلڑی مورنی میں کوئی شخص سات سالہ بچی کا ریپ کر دیتا ہے۔

کبھی کبھی وادی نیلم کے علاقے باڑیاں بروعہ میں سات سالہ بچی کا ریپ ہو جائے تو جرگہ دار پانچ لاکھ روپے کے عوض معاملہ رفع دفع کر دیتے ہیں۔

کبھی کبھار مظفرآباد کے تین دوست ملکر جنسی تسکین کی خاطر کم سن بچے کو اٹھا کر برف خانہ لے جاتے ہیں اور اس کا ریپ کر دیتے ہیں۔

کبھی کبھار ورکشاپ پر کام کرنے والا کوئی مزدور بچہ لاپتہ ہو جاتا ہے اور کچھ دن بعد اس کی ریپ زدہ لاش دریا کنارے زنجیر سے بندھی ملتی ہے۔

بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ دارالحکومت کے نواحی علاقے لنگرپورہ سے کسی لڑکی کی ریپ زدہ اور تشدد زدہ لاش ملے۔

باقی یونیورسٹی وغیرہ سے کوئی ویڈیو یا کوئی سکینڈل سر جس میں کوئی ٹیچر کسی طالبہ کو اچھے نمبروں کا پاس کرنے کا لالچ دیکر اس کو ہراس کرے تو اس معاملے کو ہم وقت سے پہلے ہی سنبھال لیتے ہیں۔

کبھی کبھار کوئی امام مسجد کوٹلی کی کسی کم سن بچی کا ریپ کر دیتا ہے۔

کبھی کبھی سہنسہ کے علاقے نرناہ میں کوئی شخص کسی راہ چلتی غریب خاتون کو پکڑ کر اس کا ریپ کر دیتا ہے۔

بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ 13 سالہ کے کسی بچے کو کوٹلی میں کوئی شخص زیادتی کا نشانہ بنا سکے۔

کوٹلی کے بکروالوں کی آٹھ سالہ بچی کے ریپ کا کوئی واقعہ بس اتفاقاً ہی ہو جاتا ہے۔

کوٹلی ہی کے ناڑ ڈگار نامی گاوں میں کسی اور معصوم بچی کا ریپ یقیناً والدین کی ہی غلطی سے ہوا ہو گا۔

تراڑ کھل کنجیری میں اگر کسی گیارہ سالہ لڑکی کا ریپ ہو جائے تو 29 ہزار کے عوض صلح کروانے والے جرگہ دار موجود رہتے ہیں۔

راولاکوٹ میں منگیتر کے سامنے گن پوائینٹ پر لڑکی سے زیادتی کا کوئی واقعہ سالوں بعد ہی رونما ہوتا ہے اور اگر ہو بھی جائے تو ملزم کو اس کی سزا مل جاتی ہے۔

باغ میں کوئی ضمیر بخاری نامی کوئی شخص بے ضمیری کا مرتک ہو کر اپنے ساتھ فلاحی تنظیم میں کام کرنے والی لڑکیوں کو ہراساں کرے اور ان کی ویڈیو بنائے تو اس میں ریاست یا معاشرے کا کیا قصور؟

یہ تو پچھلے ایک ڈیڑھ سال کے وہ واقعات ہیں جو مقامی جرگہ داروں کی نا اہلی اور غفلت کی وجہ سے پولیس یا میڈیا تک پہنچ گئے۔ ورنہ تو ہم گھر کی بات گھر میں ہی رکھنے والے لوگ ہیں اس طرح کے معاملات کو کورٹ کچہری یا میڈیا کی زینت نہیں بناتے۔

زلزلے کے دوران خیمہ بستیوں میں مقیم یا این جی اوز کے سات ملازمت کرنے والی عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے جو واقعات ہوئے اس وقت ہم بے بس تھے۔ راجہ فاروق حیدر صاحب اس وقت بہت روئے۔ شائد ان کے رونے کی ایک آدھ ویڈیو آج بھی یو ٹیوب پر موجود ہو۔

باقی ریپ کے کسی معاملے میں کوئی غیر ریاستی شخص، کسی تنظیم یا کسی ادارے سے وابستہ شخص ملوث ہو تو اس پر پردہ ڈالنا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ آخر وہ ہمارا مہمان ہوتا ہے اور ہماری مہمانداری تو ضرب المثل ہے۔

یہ جو کم سن بچیوں کے ریپ ہو جاتے ہیں یا بچوں کو کوئی جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالتا ہے یہ تو سرا سر والدین کی غفلت، لاپرواہی، بے توجہی کے باعث ہوتے ہیں۔ اب ریاست ہر بچے کے ساتھ ایک پولیس والا تو نہیں کھڑا کر سکتی۔ کل کو کیا پتا وہی پولیس والا اس پر دست درازی شروع کر دے۔ قصور والے مشہور زینب ریپ و قتل کیس کے بعد وزیر اعظم آزاد کشمیر یہ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ والدین کو زینب کی حفاظت کرنا چاہیے تھی نہ کہ اسے چھوڑ کر عمرے پر چلے جانا چاہیے تھا۔

باقی خواتین کے معاملے میں ہم انتہائی، مہذب، با کردار، باوقار اور با اخلاق معاشرہ ہیں اور ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتے ہیں نہ کسی کو دیکھنے دیتے ہیں۔ ہاں البتہ ہماری سبھی کوششوں کے باوجود ہمارے کچھ نا ہنجار وزیر کسی پی سی ہوٹل پر ہوئے طالبہ کے ریپ میں ملوث پائے جائیں تو ہم پوری ریاستی مشینری لگا کر اس کیس کو دبا دیتے ہیں۔ آخر کو یہ ہماری اجتماعی عزت کا معاملہ ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں جن خواتین نے اپنی کہانیاں بیان کی ہیں وہ لازماً کسی بیرونی طاقت کے اشارے پر ہمارے معاشرے کو بدنام کرنے کو کوشش کر رہی ہیں یا پھر ان کا مطمع نظر کسی دوسرے ملک کی شہریت ہو گا۔ وگرنہ کون گھر کی بات گھر سے باہر نکالتا ہے۔