متنازعہ ریاست جموںکشمیر کے پاکستان کے زیر انتظام علاقے گلگت بلتستان میںانتخابات کے انعقاد اور نگراں حکومت کے انتخاب کےلئے ایک نیا صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا ہے. اب گلگت بلتستان میںانتخابات کا انعقاد اور نگراںحکومت کا انتخاب پاکستان کی طرز پر ہی ہوگا. مذکورہ صدارتی آرڈیننس(حکم نامہ) کو گلگت بلتستان(انتخابات اور نگراں حکومت) ترمیمی آرڈر 2020 کا نام دیا گیا ہے.
وزیراعظم پاکستان کی تجویر پر صدر پاکستان ڈاکٹرعارف علوی نے یہ صدارتی حکم نامہ جاری کیا ہے.
صدارتی آرڈیننس میںکہاگیا ہے کہ گلگت بلتستان میںمنصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد اور ان سے متعلق معاملات کو انجام دینے کےلئے ضروری ہے کہ نگراںحکومت کے انتخاب کےلئے قوانین میںموافقت کا بندوبست کیا جائے.جس کےلئے گلگت بلتستان آرڈر 2018 میںترمیم کرنا بہتر ہے.
صدارتی آرڈیننس کو گلگت بلتستان (انتخابات اور نگراںحکومت) ترمیمی آرڈر، 2020 کہا جائے گا.
اس آرڈیننس کا دائرہ کار پورے گلگت بلتستان تک ہو گا.
آرڈیننس ایک بار میںنافذ ہو جائے گا.
گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے آرٹیکل 48 کے بعد مندرجہ ذیل مضمون شامل کیاجائے گا:
”48 -A. انتخابی قوانین اور نگراں حکومت اپنانا۔
(1) الیکشن ایکٹ ، 2017 ، اس کے تحت تیار کردہ تمام قواعد ، ضوابط اور بائی لاز (جیسے پاکستان میں نافذ ہیں) کو گلگت بلتستان کے علاقے میںاپنایا جائے گا۔
(2) مجوزہ گلگت بلتستان گورننس ریفارمز ، 2019 کا آرٹیکل 56 (5) تمام شقوں کے ساتھ گلگت بلتستان کے علاقے میںنافذ العمل ہوگا۔
1.مشکلات کا خاتمہ۔
اگر اس حکم کی کسی شق کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی مشکل پیش آتی ہے تو صدر پاکستان اس مشکل کو دور کرنے کےلئے جو دفعات موزوں سمجھیں وہ نوٹیفکیشن کے ذیرعے سرکاری گزٹ کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموںکشمیر کا حصہ ہے، پاکستان اور بھارت کی دونوںریاستیں گلگت بلتستان پر اپنا دعویٰرکھتی ہیں.جموںکشمیر کی قوم پرست جماعتیں اسے ایک آزاد و خودمختار ریاست جموںکشمیر کا حصہ بنانے کی خواہش مند ہیں، جموںکشمیر کی بھارت و پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش رکھنے والی جماعتیںبھی گلگت بلتستان کو ریاست جموںکشمیر کا حصہ سمجھتی ہیں اور گلگت بلتستان کے عوام کی رائے پاکستان میںشامل ہونے اور ایک آزاد خودمختار بالاورستان (گلگت بلتستان کے علاقے پر خودمختار حکومت) کے قیام سمیت دیگر مطالبات میںمنقسم ہے.
گلگت بلتستان کو مہاراجہ ہری سنگھ کے شخصی راج سے یکم نومبر 1947 کو آزاد کروایا گیا تھا، جس کے بعد یہ علاقہ پاکستان کی عملدراری میںآگیا گیا. مہاراجہ ہری سنگھ کی شخصی ریاست کی حدود پر بھارت و پاکستان کے منقسم قبضے کے بعد اس علاقے کا مقدمہ اقوام متحدہ میںبھارت نے پیش کیا. اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈیا و پاکستان نے متنازعہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ رائے شماری کے ذریعے کروانے کا فیصلہ کیا اورمتنازعہ ریاست کی سرحدی حدود کا تعین کیا جس میں گلگت بلتستان کا علاقہ بھی شامل قرار دیا گیا.
پاکستانی حکومت نے معاہدہ کراچی کے ذریعے گلگت بلتستان کے براہ راست کنٹرول کو قانونی تحفظ فراہم کر لیا تھا، اس علاقے کو پاکستان کے شمالی علاقہ کے نام سے منسوب کرتے ہوئے فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن(ایف سی آر) کا قانون یہاں بھی نافذ کر دیا گیا تھا.
بعد ازاںمرحلہ وار ایف سی آر کا خاتمہ کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے شہریوںکو ووٹ کے حق سمیت دیگر شخصی اور جمہوری حقوق دینے کے نام پر مختلف حکم نامے پاکستانی حکومت کی طف سے جاری کئے جاتے رہے ہیں. پاکستان کی گزشتہ حکومت کے آخری ایام میںگلگت بلتستان آرڈیننس 2018ءکے نام سے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا. جو بدستور نافذ العمل ہے.
گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے زیر انتظام جموںکشمیر میںانتخابات کے انعقاد کےلئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری وزیراعظم پاکستان(بحیثیت چیئرمین کشمیر اورگلگت بلتستان کونسل) کرتے ہیں. ہمیشہ ہی جس پارٹی کی حکومت پاکستان میںرہی اسی کی حمایت یافتہ جماعت نے ان علاقوںمیںالیکشن جیتے اور حکومت بنائی. اس لئے اکثر اوقات پاکستان اور اسکے زیر انتظام علاقوں میںایک ہی وقت میںالیکشن کروائے جانے کا مطالبہ سامنے آتا رہتا ہے.
پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر میںنگراںحکومت قائم نہیںہوتی، جبکہ گلگت بلتستان میںاس سے قبل بھی ایک مرتبہ نگراںحکومت قائم رہ چکی ہے جس کا تجربہ وہاں انتقال اقتدار کےلئے کوئی اچھا ثابت نہیںہوا تھا. اس لئے گلگت بلتستان میںنگراںحکومت کے قانون کو پسندیدگی کی نظر سے نہیںدیکھا جاتا.
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام ان علاقوں میں جب الیکشن ہوتے ہیںتو پاکستان میںدوسری جماعت اقتدار میںہوتی ہے جو اپنی مرضی کا چیف الیکشن کمشنر تعینات کرتی ہے، ان علاقوںکی حکومتیں الیکشن میں تو بے اختیار ہو جاتی ہیں اور تمام تر اختیارات الیکشن کمیشن کے پاس چلے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود مخالف جماعت کی حکومت کی موجودگی میںطاقت کا توازن قائم رہتا ہے جس کی وجہ سے ایک تاثر ضرور قائم ہوتا ہے کہ شفاف الیکشن ہورہے ہیں. گو کہ نتائج دیکھ کر کبھی بھی اس تاثر کو تقویت نہیںمل پاتی.
لیکن نگراںحکومت کے ماضی کے تجربہ کو اگر دیکھا جائے تو ستمبر میں نگراںحکومت کے انتخاب کے بعد تین ماہ کے اندر الیکشن کروانا گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقے میںموسمی سختیوںکی وجہ سے ممکن نہیںرہتا اور یہ الیکشن چھ سے سات ماہ تاخیر سے کروانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے نگراںحکومت کو الیکشن میںدھاندلی کی راہ ہموار کرنے کے خاصے مواقع مل جاتے ہیں. اس کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر بھی وفاق کی مرضی و منشاء سے تعینات ہوتا ہے اور نگراںحکومت بھی وفاق ہی کی مرضی و منشاء سے منتخب ہوگی، جس کی وجہ سے طاقت کا توازن مکمل طور پر وفاق میں برسراقتدار جماعت کی جانب ہوجائے گا.
آئینی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام ان علاقوںمیںحکومتوںکے اختیارات لوکل گورنمنٹ سے زیادہ نہیں ہیں، نہ ہی وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے برخلاف کوئی الیکشن جیت سکتا ہے. بلکہ علیحدگی پسندوں اور الحاق پاکستان کی شق پردستخط نہ کرنے والے امیدواران کو تو الیکشن میںحصہ لینے کی اجازت ہی نہیںہے.لیکن اس کے باوجود اگر ایک شفاف انتخابات کا تاثر قائم کرنا ہے تو وہ صرف ایک ہی صورت میںہو سکتا ہے کہ دونوںزیر انتظام علاقوںمیںپاکستان کے عام انتخابات کے ساتھ ہی انتخابات کروائے جائیںتاکہ وفاق میںبرسراقتدار جماعت کی بذریعہ کشمیر و جی بی کونسل مداخلت اور دھاندلی کے تاثر کو ختم کیا جا سکے.














18 تبصرے “گلگت بلتستان کیلئے صدارتی حکم نامہ: انتخابات اور نگراں حکومت اب پاکستان کی طرز پر ہونگے”