ترقیاتی بجٹ کو تصرف میں‌لانے کیلئے تعمیراتی شعبے سے پابندیاں ہٹا دی گئیں

ترقیاتی بجٹ کو لیپس ہونے سے بچانے کےلئے پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی حکومت نے تعمیراتی شعبے پر سے پابندیاں‌ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے. کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے پورے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں‌لاک ڈاؤن کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے آخری سہ ماہی میں متعین کردہ چھ ارب سے زائد کا ترقیاتی بجٹ لیپس ہونے کا خدشہ تھا. جبکہ انجمن تاجران کے علاوہ سیاسی و سماجی جماعتوں نے ترقیاتی بجٹ کو روک کر لاک ڈاؤن متاثرین کو سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کر رکھا تھا.

محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق محکمہ مواصلات و تعمیرات عامہ کو کرونا وائر س کے پھیلاﺅ سے پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں حالیہ لاک ڈاﺅن میں پابندیوں سے شرائط کے ساتھ استثنیٰ کی منظور ی دیتے ہوئے SOPجاری کر دیا ہے ۔

اس سلسلہ میں محکمہ داخلہ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کےلئے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حفاظتی احتیاط کے علاوہ ہر فرد کو چہرہ ڈھانپنے کےلئے ماسک دیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گاکہ سائٹ پر موجودگی کے دوران تمام افراد چہرے پر ماسک پہنیں ۔ماسک گندہ ہونے کی صورت میں ہٹا دیاجائے اور اس کی بیرونی سطح کو ہاتھ نہیں لگایا جائے گا۔ کام کرنے کی جگہ پر اندر اور باہر جانے کےلئے ایک سے زیادہ راستے بنا کر 6فٹ کے جسمانی فاصلے کو یقینی بنایا جائے گا۔

حفظان صحت کے اصولوں کے تحت ٹھیکیداران اپنے جملہ ورکرز کارکنان کی صحت و صفائی کے علاوہ وقتاً فوقتاً Random Testکروانے کے بھی ذمہ دارہونگے جبکہ کام کرنے والے فراد نزلہ ، زکام یا بخار کی علامات ظاہر کی صورت میں متعلقہ ٹھیکیدار یا حکام کو مطلع کرینگے ۔ کسی بھی فرد میں وائرس کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر ایک دستاویز کی صورت میں بذریعہ ٹیلی فوج یا کسی اور ذریعہ سے محکمہ صحت کے متعلقہ عملے کو آگاہ کیا جائے گا اور متاثرہ شخص کو اس مقصد کےلئے مختص جگہ پر پہنچانے کے لئے سہولت میسر کی جائے گی ۔

کارکنوں کو اس بات پر آمادہ کیا جئے گاکہ اگر وہ دیگر کسی کارکن میں وائرس کی علامات کا مشاہدہ کریں تو فوری طور پر اپنی حفاظت اور دیگر کارکنان کی حفاظت کےلئے حکام کو آگاہ کریں ۔ جس کارکن میں وائرس کی علامات ظاہر ہو جائیں تو اس کو تعمیراتی مقام پر کام کی اجازت نہ دی جائے گی ۔ کام کی جگہ کے آس پاس حفظان صحت اور جسمانی دوری سے متعلق آگاہی بینرز آویزاں کیے جائیں گے ۔ ایس او پی کے مطابق کارکنان باقاعدہ سے ہاتھ اور چہرے دھوئیں گے ۔ کارکنان کو کام کی جگہ پر جانے سے پہلے کام کے دوران اور کام کے بعد آپس میں بازو کی لمبائی کے برابر فاصلہ رکھنا ہوگا ۔

لاک ڈاﺅن کے باعث مزدوروں کےلئے ٹرانسپورٹ کا بندوبست ٹھیکیدار کرے گااور دوران سفر 6فٹ کے سماجی فاصلے کو برقرار رکھا جائے گا۔ تعمیراتی کام کی جگہ ایک رجسٹر مرتب کیا جائے گا جس میں کارکنان سے ملنے والے افراد کے کوائف کا اندراج کیا جائے گا ۔ واش رومز وغیرہ میں سپرے کروائے جائیں اور کام مکمل ہونے کے بعد مزدور نہا کر لباس تبدیل کرینگے ۔ بیمار کارکنوں کے حوالہ سے ٹھیکیدار یا سائٹ منیجر فوری طور پر صحت کے عملے کو آگاہ کرے گا۔ کھانے پینے کی جگہ کو صاف ستھرا رکھا جائے گا اور ڈسپوزایبل برتنوں کو ترجیح دی جائے گی ۔ کھانے کھانے کے دوران کم ازکم 2میٹر کا فاصلہ رکھا جائے گا حاضری کےلئے بائیو میٹرک سسٹم کا استعمال نہ کیا جائے گا۔

سوتے وقت بھی دو میٹر کا فاصلہ رکھا جائے گا۔ تعمیراتی مقامات پر غیر ضروری دورہ جات کو منسوخ یا ملتوی کا جائے گا۔ ٹھیکیداران اور ڈیلیوری ورکز سائٹ پر جانے سے قبل اپنا درجہ حرارت چیک کروائیں گے ۔سائٹ پر مقامی مزدور کام کرینگے اور کیمپنگ سائٹس کو بند رکھا جائے گا۔ تعمیراتی کام پر آنے والے ڈرائیورز موبائل فون کے ذریعے کارکنان سے رابطہ کرینگے ۔ پولیس اور انتظامیہ کا عملہ کسی بھی وقت سائٹس کا معائنہ کرے گا اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لے گااور جرمانہ کرنے کا بھی اختیار حاصل ہوگا۔

تعمیراتی سائٹس پر ایک دوسرے کا فون استعمال نہیں کیا جائے گا۔تعمیراتی سائٹس پر ہیوی مشینری ، کرین بلڈوزر وغیرہ کو استعمال کرتے وقت دستانوں کا استعمال لازمی ہوگا اور ہر دو سے تین گھنٹے میں تمام مشینری کے ہینڈل پر جراثیم کش سپرے کروایا جائےگا۔ تعمیراتی سائٹس پر وقتی طورپر لگائے گئے رہائشی کنٹینرز میں ایک وقت میں صرف ایک فرد کے رہنے کا انتظام کیا جائے گا نیز رہائشی کوارٹرز یں روزانہ جراثیم کش سپرے کروایا جائے گا۔

ایس او پی کے مطابق محکمہ صحت عامہ کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات پر بھی سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا