پاکستان کے زیر انتظام جموںکشمیر میںآٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا. محکمہ خوراک نے گزشتہ روز یہ دعویٰکیا تھا کہ آٹا، گندم اور چاول وافر مقدار میںموجود ہیںلیکن راولاکوٹ سمیت دیگر اضلاع میںسرکاری آٹے کی شدید قلت ہے. پرائیویٹ آٹے کی قیمت پچیس سو روپے فی من تک پہنچ چکی ہے.
راولاکوٹ میںگزشتہ دو روز سے سپلائی ڈپو میںسرکاری آٹافراہم نہیںکیا گیا. فلور ملز مالکان نے ارجہ اور گوراہ فلور ملز کو بدستور بند رکھا ہوا ہے. جبکہ سرکاری آٹا فلور ملز سے مہنگے داموںفروخت کئے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں.
محکمہ خوراک اور فلور ملز مالکان کی ملی بھگت کے باعث شہری مشکلات سے دوچار ہیں. پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میںمحکمہ خوراک صرف آٹے کی ترسیل کا کام کرتا ہے. اس مقصد کےلئے پاسکو سے گندم خریدی جاتی ہے اور فلور ملز کو کنٹریکٹ دیئے جاتے ہیں جو آٹا پسوائی کے بعد محکمہ خوراک کے ذمہ داران کے ذریعے شہریوںکو آٹا مہیا کرتے ہیں. قبل ازیںآٹے پر شہریوںکو سبسڈی فراہم کی جاتی تھی لیکن وہ بعد ازاںختم کر دی گئی تھی.
صرف آٹے کی ترسیل کےلئے کروڑوںروپے بجٹ پر قائم کردہ محکمہ کے افسران اوراہلکاران شہریوںکو آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کی بجائے پرائیویٹ فلور ملز سے کمیشن حاصل کرنے، سرکاری کنٹریکٹر فلور ملز سے کمیشن وصول کرنے اور گندم کو سرکاری گوداموںسے سستے داموں پرائیویٹ فلور ملز کو فروخت کرنے جیسے عمل میںشامل رہے ہیں.
آٹے کی قلت اور نجی فلور ملز کے آٹے کی قیمتوں میںبے تحاشہ اضافہ ایک مرتبہ پھر یہی ظاہر کر رہا ہے کہ سرکاری گوداموںسے گندم نجی فلور ملز کو فروخت کئے جانے جیسے اقدامات کئے جا رہے ہیں.
دوسری طرف سبزی فروٹ اور دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں میںبھی اضافے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے. سرکاری طور پر جاری کی گئی ریٹ لسٹ کے مغائر مارکیٹ میںاشیاء مہنگے داموںفروخت ہو رہی ہیں.
شہریوںنے اشیائے ضروریہ کی قلت اور مصنوعی مہنگائی اور لوٹ مار کے سلسلے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ آٹے کی قلت کی صورتحال کی بھی اعلیٰسطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے. بصورت دیگر سخت احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے.
شہریوںکا کہنا ہے کہ اگر صورتحال بدستور اسی طرح رہی تو شہری مجبورا احتجاج کرنے پرمجبور ہونگے اورامن عامہ میںکسی بھی طرحکے خلل کی ذمہ دار حکومت اور انتظامیہ ہوگی.












Thanks for sharing. I read many of your blog posts, cool, your blog is very good.