پاکستانی کشمیرمیں‌داخلے اور باہر جانے پر ایک ماہ تک مکمل پابندی عائد، 65 مشتبہ اشخاص میں‌سے ایک مثبت

پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌مسافروں‌کے داخلے اور باہر نکلنے پر ایک ماہ تک مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے. مال بردار گاڑیوں‌کے علاوہ کوئی بھی شخص کشمیرمیں‌داخل نہیں‌ہو سکے گا.یہ فیصلہ جات کورونا وائرس کے وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنےکےلئے نافذ کی گئی ہیلتھ ایمرجنسی کے سلسلہ میں‌کئے گئے ہیں.

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں‌گزشتہ چوبیس گھنٹوں‌کے دوران کورونا وائرس کے شبہ میں 05 نئے کیس درج ہوئے جن کے ٹیسٹ لیکر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کو بھیج دیے ہیں۔محکمہ صحت عامہ کی جانب جاری رپورٹ کے مطابق آزادکشمیر میں اب تک کرونا وائرس کے شبہ میں کل 65 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے 42 کے نتائج آچکے ہیں اور 41 افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی جبکہ ایک شخص میں کرونا وائرس پایا گیا ہے اور وہ قرنطینہ سینٹر میرپور میں زیر علاج ہے۔23کے رزلٹ آنا باقی ہیں اور ان کی رپورٹ آئندہ ایک دو روز میں موصول ہو جائے گی۔

اس کے علاوہ محکمہ صحت کا عملہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے تمام انٹری پوائنٹس پر موجود ہے اور انتظامیہ کے تعاون سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ کررہا ہے اور کرونا کا شبہ ہونے کی صورت میں افراد کو قریبی قرنطینہ سینٹرز میں منتقل کیا جارہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایمزمظفرآباد، سی ایم ایچ مظفرآباد، راولاکوٹ، ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرپور، ڈی ایچ کیو ہسپتال ہٹیاں بالا، نیلم، باغ، حویلی، سدھنوتی، بھمبر، کوٹلی اور نیو سٹی میرپور میں آئسولیشن وارڈز قائم کر دیے گئے ہیں۔ آزاد کشمیر کے تمام انٹری پوائنٹس پر بیرون ملک اور پاکستان سے آنے والے افراد کی مکمل طور سکریننگ کی جارہی ہے۔

دریں اثنائ وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس۔اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا، سیکرٹری صحت عامہ میجر جنرل طاہر سردار،پرنسپل سیکرٹری راجہ امجد پرویز خان، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سمیت مختلف ذمہ داران نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بیرون کشمیر سے اب کسی فرد کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

وہ شہری جو باہر مقیم ہیں اپنا قیام وہیں رکھیں، پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے انٹری پوائنٹس کو مکمل بند کر دیا گیا ہے۔سوائے مال بردارگاڑیوں کے کسی کو بھی پیدل سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات آپ کے پیاروں کی حفاظت کے لیے ہیں براے مہربانی ایک ماہ تک پاکستانی زیر انتظآم کشمیر کا سفر نا کریں۔پاکستانی زیر انتظام کشمیر جو لوگ گئے ہیں ان کی واپسی پر بھی فوری پابندی لگا دی گئی ہے.

ادھروزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے سیاسی جماعتوں سے ٹیلفونک رابطے بھی کئے، سرکاری پریس ریلیز کے مطابق راجہ محمد فاروق حیدرخان نے اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین،سابق وزیراعظم سردار عتیق احمدخان، صدر پاکستان پیپلز پارٹی چوہدری لطیف اکبر، جماعت اسلامی کے عبدالرشید ترابی،جے یو آئی کے مولانا سعید یوسف سے ٹیلفونک رابطے کیے۔وزیراعظم نے پارلیمانی جماعتوں کو حکومت کی جانب سے اٹھاے جانے والے اقدامات پر اعتماد میں لیا۔

پریس ریلیز کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا۔اپوزیشن جماعتوں نے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں عوام حکومتی اقدامات پر عملدرآمد میں بھرپور تعاون کریں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عوام کے مفاد میں سخت فیصلے کیے، بھرپور تعاون پر اپوزیشن جماعتوں کا شکرگزار ہوں۔ہم سب ملکر اس مرحلے سے نکلیں گے اللہ رب العزت اپنے پیارے حبیب کے صدقے یہ مصیبت ختم کرے ہمیں اپنا بھرپور کرداراداکرنا ہے۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ابھی تک صرف ایک کنفرم کیس آیا ہے ہم سب ملکر ریاست کو کرونا سے پاک کرینگے۔