ویب ڈیسک:عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت کی سب سے بڑی ایئر لائن انڈیگو نے پائلٹوں کی کمی کے باعث 200 سے زیادہ پروازیں منسوخ کر دیں، جس کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ممبئی، نئی دہلی، بنگلور اور حیدر آباد ایئر پورٹس پر قطاریں لگی ہیں۔ سب سے زیادہ دہلی اور چنئی کے ایئرپورٹس متاثر ہوئے ۔ایئرلائن کمپنی انڈیگو نے مسافروں سے درخواست کی ہے جب تک ایئرپورٹ آنے کے لیے تصدیقی کال نہ کی جائے، ایئرپورٹ مت آئیں۔کمپنی ترجمان نے بتایا کہا کہ یہ بحران بنیادی طور پر پروازوں کی فلائٹ ڈیوٹی ٹائم کی حدود کے فیز 2 کے نفاذ کے دوران غلط منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ فیڈریشن آف انڈین پائلٹس نے کہا کہ انڈیگو نئے ضوابط کی وجہ سے اپنے روسٹر میں بر وقت تبدیلیاں نہیں کر سکی اور نہ ہی شیڈول کی مناسب منصوبہ بندی کر پائی۔ ان ضوابط کے تحت پائلٹس کے آرام کے اوقات میں اضافہ کیا گیا ہے اور رات کی پروازوں پر کچھ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ یہ قواعد پچھلے سال اعلان کیے گئے تھے اور یکم نومبر سے نافذ ہوئے ہیں۔انڈیگو نے تسلیم کیا ہے کہ سخت تر فلائٹ ڈیوٹی ٹائم کی پابندیاں پروازوں کی منسوخی میں ایک اہم وجہ بنی ہیں۔ادارے میں پائلٹس کمی، عملے کی عدم دستیابی، شیڈولنگ کا بکھراؤ اور بدانتطامی کے باعث بھی پورا آپریشنل ڈھانچہ متاثر ہوا۔جس پر انڈیگو نے حکومت سے فلائٹ ڈیوٹی ٹائم کی حدود کے قانون سے چھوٹ دینی کی درخواست دی ہے۔ ایئرلائن نے اس افراتفری پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ٹکٹ کی خودکار واپسی 5 تا 15 دسمبر کی بکنگ کے لیے منسوخی/ ری شیڈولنگ پر مکمل فیس معافی کا اعلان کیا ہے۔ایئرلائن کمپنی نے ایئرپورٹ پر موجود متاثرہ مسافروں کو ہوٹل، ٹرانسپورٹ، کھانا جب کہ خصوصی افراد اور بزرگ شہریوں کے لیے لاؤنج سہولت بھی فراہم کر رہی ہے۔انٹرنیشنل پروازوں بالخصوص متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک کے لیے پروازوں میں بھی رکاوٹیں سامنے آئیں، تاہم مکمل منسوخی نہیں کی گئی۔اسی طرح دبئی، ابوظبی، دوحہ اور شارجہ جانے والے مسافروں کو طویل تاخیر کا سامنا رہا۔
ایشیائی ممالک میں قدرتی آفات سے تباہ کاریاں، 1300 سے زائد افراد ہلاک
کانگریس پارٹی کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نجی ایئرلائن کا بحران حکومت کے اجارہ داری ماڈل کا نتیجہ ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کی قیمت عام بھارتی عوام تاخیر، پروازوں کی منسوخی اور بے بسی کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ بھارتی ایئرلائن نے اعتراف کیا کہ پروازوں کی معمول کی بحالی 10 فروری 2026 سے پہلے ممکن نہیں ہے۔











