پاکستانی کشمیر میں‌انٹرنیٹ کی محدود رسائی پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی سربراہ مشعل بچلٹ (Michele Bachelet ) نے جنیوا میں کونسل کے 45 ویں سالانہ اجلاس سے 14 ستمبر 2020 کو خطاب کرتے ہوئے جموں وکشمیر سمیت دنیا بھر کے 23 ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال پر روشنی ڈالی۔

بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان کے زیر انتظام جموں وکشمیر کی صورت حال کو بھی زیر بحث لایا گیا۔

مشعل بچلٹ نے پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر میں انٹرنٹ سروسز اور آزادی اظہار رائے کا معاملہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ “پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں لوگوں کو اِنٹرنیٹ تک محدود رسائی حاصل ہے۔ انٹرنیٹ تک محدود رسائی سے تعلیم اور معلومات تک رسائی میں مشکلات ہیں. مشعل بچلٹ نے کہا میں آزادی اظہار رائے پر پابندیوں بارے بھی فکر مند ہوں.

مشعل بچلٹ کے الفاظ تھے.
On the Pakistan side, people also have limited Internet access, creating difficulties in accessing education and other vital services. I remain concerned about ongoing restrictions to the rights to freedom of expression and association. My Office is committed to continuing its engagement with both India and Pakistan, to uphold the rights of the Kashmiri people which is the best way to prevent further tensions and conflict.

مشعل بچلٹ نے بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر کی آئینی حیثیت اور ڈومیسائل قواعد میں تبدیلیوں، ماورائے عدالت قتل ، گرفتاریوں، آزادی اظہار رائے اور میڈیا پر پابندیوں، پیلٹ گن کے استعمال کو موضوع بنایا۔

پاکستان کا قومی میڈیا اور ریاستی اخبارات مشعل بچلٹ کی تقریر کے صرف اس حصے کو سامنے لائے جو بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر سے متعلق تھا. اسی لئے پاکستان کے زیر انتظام جموں وکشمیر کے شہریوں بالخصوص طلبا و طالبات کو معلوم ہی نہیں ہو سکا کہ اقوام متحدہ نے ان کے حق میں آواز بلند کی ہے.

خیال رہے کہ کورونا وبا کے دوران انٹرنیٹ کی محدود رسائی سے آن لائن کلاسز کے لیے طلبا و طالبات کو سخت مشکلات کا سامنا رہا ہے.

اخبارات اور میڈیا کے اس رویے کو دیکھتے ہوئے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا پاکستان کے زیر انتظام جموں وکشمیر کے شہریوں کے حقوق کی بات کرنا کوئی جرم ہے؟

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: