پاکستانی کشمیر:غیر ریاستی خاتون درجہ اول کی شہری بن سکتی ہے لیکن مردکبھی نہیں بن سکتا

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ(سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ) یا دوسرے لفظوں میں شہریت حاصل کرنے کےلئے مہاراجہ کی شخصی ریاست کے قوانین رائج ہیں۔ مذکورہ قوانین کے تحت ایک غیر ریاستی خاتون ریاستی شہری سے شادی کرنے کی صورت میں درجہ اول کی شہری بن سکتی ہے لیکن کوئی بھی غیر ریاستی مرد کسی بھی صورت درجہ اول کا شہری نہیں بن سکتا۔

البتہ ریاستی خاتون اگر کسی غیر ریاستی شخص سے شادی کرتی ہے تو اسے اس ریاست کی شہریت بچانے کےلئے اسی ریاست میں رہنا پڑے گا۔ اگر وہ بیرون ریاست منتقل ہوتی ہے تو پھر وہ شہریت کا حق کھو دے گی۔ اور محض وراثتی جائیداد کی حقدار ٹھہرے گی۔ تاہم وراثتی جائیداد کو اپنی اولاد کو منتقل نہیں کر سکے گی بلکہ اسے فروخت کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

اسی طرح اگرریاستی خاتون کسی غیر ریاستی شخص کے ساتھ شادی کرنے کے بعد ریاست ہی میں رہائش اختیار کرتی ہے تو اس کے خاوند کو تیسرے درجے کا شہری بننے کےلئے ایک طویل راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ جو قانون کی موجودگی کے باوجود تقریباً ناممکن ہے۔ ایسی صورت میں اس خاتون کی اولاد بھی اس کے خاوند کی طرح تیسرے درجے کی شہریت کی ہی حامل ہو سکتی ہے۔

غیر ریاستی خاتون بھی شوہر کے انتقال کے بعد اگر ریاست سے مستقل سکونت ترک کرتی ہے تو اسکی شہریت ختم ہو جائیگی۔ البتہ اگر وہ مستقل سکونت ترک نہیں کرتی تو وہ باشندہ ریاست اسی درجہ پر رہے گی جس درجہ پر اسکا خاوند باشندہ ریاست تھا۔

اسٹیٹ سبجیکٹ کی تعریف
سابق ریاست جموں کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے بیس اپریل 1927ءکو ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے باشندہ ریاست کی درجہ بدرجہ وضاحت کی تھی۔ یہی نوٹیفکیشن باشندہ ریاست قانون(سٹیٹ سبدجیکٹ رول) بھی کہلایا۔ اس قانون کا اطلاق 1947ءمیں ریاست جموں کشمیر کے تین حصوں میں تقسیم ہونے کے بعد تینوں حصوں میں رائج رہا۔ تاہم پاکستان کے زیر انتظام سابق ریاست جموں کشمیر کے علاقے گلگت بلتستان سے پچاس سال قبل اس قانون کا بتدریج خاتمہ کیا گیا۔ جبکہ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ سال اگست میں اس قانون کا باضابطہ خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر (آزادجموں کشمیر) میں یہ قانون ابھی تک فعال ہے۔ تاہم افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے بھی اس قانون کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں مذکورہ قوانین کے تحت باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کےلئے ”آزاد جموں و کشمیر سٹیٹ سبجیکٹ ایکٹ1980ء“جاری کیا گیا، بعد ازاں اسی ایکٹ کے تحت رولز بنائے گئے۔ قبل ازیں جعلی باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ جاری ہونے کی تحقیقات اور تنسیخ کےلئے ”آزاد جموں و کشمیر جعلی باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ تنسیخ ایکٹ1971ءجاری کیا گیا تھا۔ تاہم 1980ءکا ایکٹ جاری ہونے کے بعد یہ ایکٹ منسوخ کر دیا گیا تھا۔

20اپریل 1927ءمیں جاری ہونیوالے نوٹیفکیشن کا اطلاق پونچھ ریاست پر نہیں ہوتا تھا۔ لہٰذا 1935ءمیں”سٹیٹ سبجیکٹ کی تعریف، ریاست پونچھ کےلئے نوٹیفکیشن“ کے عنوان سے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے مذکورہ قوانین شہریت کو پونچھ ریاست میں بھی کیا گیا۔

باشندہ ریاست قانون میں شہریوں کی درجہ بندیاں
بیس اپریل 1927ءکو جموں کشمیر اور بعد ازاں 1935ءمیں پونچھ ریاست کےلئے جاری کئے جانے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ایسے تمام افراد جو مہاراجہ گلاب سنگھ کے دور حکومت کے آغاز سے قبل جموں کشمیر میں پیدا ہوئے یا رہائش پذیر تھے اور ایسے تمام افراد جو ”بکرمی “یا” سموت“ کلینڈر کے مطابق1942 سے قبل جموں کشمیر میں آباد ہوئے اور مستقل سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں، درجہ اول کے شہری کہلائیں گے۔

واضح رہے کہ ”بکرمی“ یا ”سموت“ کیلنڈر قدیمی ہندی کلینڈر ہے، جو عالمی طور پر رائج گریگوریائی یا عیسوی کلینڈر سے 57سال پرانا ہے۔ اس طرح بکرمی یا سموت کلینڈر کے مطابق 1942کا مطلب موجودہ کلینڈر کے مطابق 1885ءبنتا تھا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایسے افراد جو سموت سال 1942 سے 1968(1885ءسے 1911ئ) کے درمیان ریاست جموں کشمیر میں آباد ہوئے اور غیر منقولہ جائیداد خرید کر مستقل رہائش اختیار کی وہ باشندہ ریاست درجہ دوم کہلائیں گے۔

درجہ اول اور دوم کے علاوہ مستقل رہائش پذیر تمام افراد جنہوں نے رعیت نامہ کے ذریعے غیر منقولہ جائیداد خریدی یا اجازت نامہ کے ذریعے غیر منقولہ جائیداد خریدی ، وہ دس سال کی مستقل رہائش کے بعد رعیت نامہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اور باشندہ ریاست درجہ سوم کہلائیں گے۔

ریاست میں رجسٹر ہونے والی ایسی کمپنیاں جن سے ریاستی حکومت کے مالیاتی مفادات وابستہ ہوں یا حکومت کے مالی فائدے کا باعث بن سکیں یا جن کمپنیوں کے مالیاتی استحکام سے حکومت مطمئن ہو، ایسی کمپنیوںکو مہاراجہ ریاست خصوصی حکم کے تحت باشندہ ریاست درجہ چہارم قرار دے سکیں گے۔

باشندگان ریاست کی درجات میں تقسیم کے فائدے و نقصانات
نوٹیفکیشن کے اختتامی حصہ میں چار خصوصی نوٹ لکھے گئے ہیں۔ جن کے مطابق حکومتی وظیفوں کی اجرائیگی، ریاست کی زرعی و تعمیراتی اراضی کی الاٹمنٹ اور ریاستی سرکاری ملازمتوں میں باشندگان ریاست درجہ اول کو ترجیح حاصل ہوگی۔

باشندگان ریاست کی اولادوں کا درجہ باشندگی بھی وہی ہوگا جس پر انکے والدین ہونگے، درجہ باشندگی تبدیل نہیں ہو سکے گا۔ باشندہ ریاست کی بیوی اور بیوہ بھی اسی درجہ کی شہری ہو گی جس درجہ پر اسکا خاوند ہو گا۔ لیکن وہ تب تک باشندہ ریاست رہے گی جب تک وہ ریاست سے مستقل سکونت ترک نہ کرے۔ مستقل سکونت ترک کرتے ہی وہ باشندہ ریاست نہیں رہے گی۔

غیر ریاستی شہری کےلئے باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کا حصول
رہائشی جائیداد خریدنے کےلئے اجازت نامہ لینے والا غیر ریاستی شخص دس سال تک مستقل رہائش اختیار کرنے کے بعد باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ درجہ سوم حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم اسے دس سال کے دوران تمام ریاستی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی۔ اجازت نامہ حاصل کرنے کے چھ ماہ کے اندر اندر اسے رہائشی جائیداد خریدنا ہوگا۔ اگر وہ چھ ماہ کے اندر ایسا نہ کر سکا تو اسکا اجازت نامہ زائد المعیاد ہو جائے گا، جس کی تجدید کروانی پڑے گی۔

اجازت نامہ کے حصول اور رہائشی جائیداد خریدنے کے دس سال بعد اسے ہر صورت میں باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر اسکی رہائشی جائیداد ریاست کی ملکیت میں چلی جائیگی۔ تاہم اگر دس سال کے دوران وہ باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ حاصل نہ کر سکے تو جائیداد کی فروخت کےلئے اسے چھ ماہ کی مہلت مل سکتی ہے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں نافذ باشندہ ریاست ایکٹ
پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کے حصول کےلئے 1980ءکا ایکٹ رائج ہے۔ یہ ایکٹ25جون 1980ءکو منظور کیا گیا اور 1980ءمیں ہی اس ایکٹ کے تحت رولز بنائے گئے۔

اس ایکٹ میں سابق مہاراجہ حکومت کے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے ہی تمام قوانین اور احکامات کوہی حصہ بنایا گیا۔اور کشمیرکونسل کو اختیار دیا گیا کہ وہ اس ایکٹ کی روشنی میں قانون سازی کر سکتی ہے۔ غیر قانونی طریقے سے یا جعل سازی کر کے حاصل کئے جانے والے باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ یا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی تحقیقات اور انکوائری کا طریقہ کار وضع کیا گیا اور غیر قانونی طور پر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے افراد کےلئے سزائیں تجویز کی گئیں۔

رولز کے مطابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔ درخواست گزار کو برتھ سرٹیفکیٹ، درخواست سے متعلق دستاویزات ایک مجسٹریٹ کے پاس پیش کرنا ہونگی۔ وہ مجسٹریٹ تمام دستاویزات کی تصدیق کے بعد درخواست ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ارسال کرے گا۔ اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ جاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گا۔ درخواست مسترد ہونے کی صورت میں تیس ایام کے اندر حکومت کو اپیل کی جاسکتی ہے۔

ڈومیسائل کا حصول
ڈومیسائل کے حصول کےلئے قانون کے مطابق باشندہ ریاست ہونا ضروری قرار نہیں دیا گیا ہے۔ ضلعی مجسٹریٹ کو ڈومیسائل کے حصول کےلئے دی جانیوالی درخواست میں دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ کم از کم پانچ سال تک ریاست کے کسی بھی ضلع میں رہائش پذیر ہونا ثابت کرنا ضروری ہے۔ ضلعی مجسٹریٹ پانچ سالہ رہائش اور مستقبل میں مستقل سکونت کی نیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ڈومیسائل جاری کر سکتا ہے۔ تاہم غیر ریاستی شہری کو ڈومیسائل جاری کئے جانے کی کوئی مثال ریکارڈ پر موجود نہیں ہے۔

پردہ نشین خاتون کو تصویر سے حاصل استثنا
باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کے حصول کےلئے چار تصاویر جمع کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے، تاہم پردہ نشین خاتون پر تصاویر جمع کروانے کی کوئی قید نہیں ہے۔ وہ چاہے تو اپنی تصاویر جمع کروائے بغیر باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: