تحریک آزادی: بھائی کی موت پر پاکستان آمد سے برطانیہ میں جائیدادوں تک کا سفر

پاکستان میں قیام کرتے ہوئے متنازعہ ریاست جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک کو اجاگر کرنے والے کرداروں کی بے شمار کہانیاں ہیں، ایک ایسی ہی کہانی اس خاندان کی بھی ہے جوبھائی کی وفات کے موقع پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد آیا لیکن پھر یہیں کا ہوکر رہ گیا۔ پروفیسر نذیر شال اپنے بھائی بشیر وانی (جو اسلام آباد کے وفاقی سیکرٹریٹ میں ملازم تھے) کی وفات پر اپنے خاندان سمیت بھارتی پاسپورٹ پر سفر کر کے اسلام آباد آئے تاہم جب بشیر وانی کی اہلیہ کو علم ہوا کہ یہ انڈین پاسپورٹ پر آئے ہیں تو انہوں نے گھر میں رکنے نہیں دیا اس پر ایک دوسرے کشمیری خاندان نے ان کو رہائش فراہم کی اور پھر یہ خاندان اسلام آباد کا ہو کر رہ گیا۔

نذیر شال اور ان کی اہلیہ شمیم شال دونوں سری نگر میںدرس و تدریس کے شعبہ سے منسلک تھے۔ نذیر شال کا تعلق ایک کمیونسٹ آرگنائزیشن سے تھا جبکہ اہلیہ شمیم شال کے والد اور بھائیوں کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔ شاید یہی تعلق بنیاد بنا کہ جماعت اسلامی نے اس خاندان کی بھرپور معاونت کی۔پاکستان میں آنے کے بعد نذیر شال پہلے پہل میرج بیورو کا کام شروع کیا تاہم کچھ عرصہ بعد یہ کام چھوڑ کر تحریک حریت کے آفس میں کام کرنے لگے،کچھ عرصہ بعد جماعت اسلامی نے میڈیا کا ذمہ دار مقرر کیا اور پھر انہیں نیوز ایجنسی ”کے پی آئی“ کا سربراہ بنا دیا گیا۔ 2004 میںپروفیسر نذیر شال کو کشمیر سنٹر لندن کا انچارج بنایا گیا۔ جس سے متعلق الزام عائد کیا جاتا رہا کہ حریت کانفرنس اور جہاد کونسل کی دو اہم شخصیات نے ان پر خاص کرم نوازی کی۔

چند سال قبل جب نذیر شال اور شمیم شال کی اسلام آباد واپسی ہوئی تو شمیم شال کو حریت کانفرنس کی ممبر جماعت” کشمیر تحریک خواتین“ کی نمائندگی دی گئی جس کی سربراہ زمردہ حبیب ہیں۔

شمیم شال کو 1993 میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متاثر ہونے والی خاتون کے طور پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان کو کشمیر پر کام کرنے والی این جی او JKCHR کے سربراہ سید نذیر گیلانی نے 1993 میں انسانی حقوق کی پہلی خاتون وکٹم کے طور پر پیش کیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ دونوں میاں بیوی زندگی کے ہم سفر ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک میں بھی حقیقی ہم سفر ثابت ہوئے۔ ہیومن رائٹس کمیشن سے واپسی پر شمیم شال ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ کے طور پر کام کرنے لگیں ،تو ان کے شوہر نذیر شال جماعت اسلامی کے میڈیا کے ساتھ اپنی اہلیہ کی پریس ریلیز بنا کر جاری کر دیتے اور یوں ان کی اہلیہ حریت راہنما بنتی چلی گئیں۔

شمیم شال جماعت اسلامی کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے کشمیر کے نام پر فنڈز جمع کرنے شمیم شال پورے پاکستان میں جاتی رہی ہیں اور بطور مظلوم کشمیری خاتون مختلف شہروں کی پاکستانی خواتین سے مخاطب ہوتیں،ایسے میں درد مند خواتین نقدی کے ساتھ اپنے زیورات تک کشمیریوں کی آزادی کے نام پر وقف کرتی رہیں،اس دوران یہ الزامات بھی لگتے رہے کہ انہوں نے ان زیورات اور نقد رقوم میں بڑے پیمانے پر غبن کئے ہیںتاہم وہ اس کی تردید کرتی ہیں۔

شمیم شال کے ایک بھائی بھی سرینگر سے اسلام آباد منتقل ہوئے اور کشمیر میڈیا سروس میں ملازمت اختیار کی، اس متعلق بھی کہا جاتا رہا کہ شمیم شال نے بھائی کے روزگار کےلئے انکے یہاں پہنچنے کا راستہ ہموار کیا۔

2004 میں نذیر شال کو جب کشمیر سنٹر لندن کا انچارج بنایا گیا توان کے ساتھ ان کی فیملی بھی برطانیہ منتقل ہو گئی ۔ اس دوران شمیم شال کے بھائی رئیس احمد میر نے راولپنڈی کے علاقہ صادق آباد چونگی نمبر بارہ کے قریب ایک عمارت کرائے پر حاصل کی اور اس عمارت کو کشمیری بچوں کے سکول کے طو ر پر ڈیزائن کیا گیا۔ یہ سکول صرف بینرز اور عمارت کے ڈیزائن تک ہی محدود رہا، اور بعد ازاں فروخت کر دیا گیا۔ تاہم اس سکول کی تصاویر کی بنیاد پر برطانیہ میں ایک چندہ مہم چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ چندہ مہم محترمہ شمیم شال نے چلائی تھی اور ذرائع کے مطابق بھاری رقوم بھی اکٹھی ہوئی تھیں۔ لیکن سکول کی عمارت کو فروخت کئے جانے کے بعد یہ الزام بھی سامنے آیا کہ مذکورہ عمارت کو سکول کی طرز پر ڈیزائن ہی صرف تصاویر بنانے کےلئے کیا گیا تھا تاکہ مظلوم کشمیریوں کے نام پر چندہ اکٹھا کیا جا سکے۔ مطلوبہ مقاصد پورے ہونے کے بعد سکول کی عمارت کو فروخت کر دیا گیا۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ اس وقت شال فیملی کی برطانیہ میں تین بڑی جائیدادیں ہیں، اسلام آباد بنی گالہ میں عالی شان کوٹھی ہے ، اسلام آباد میں ہی پی ڈبلیو ڈی ہاوسنگ سوسائٹی میں ایک گھر ہے جو ان کے بھائیوں کے زیر استعمال ہے اور اڈیالہ روڈ راولپنڈی پر درجنوں کنال زمین ہے۔

اس وقت شال فیملی کے تینوں بچے لندن میں مقیم ہیں۔ ان کے دونوں بیٹے اسلام آباد کے بہترین سکولوں میں زیر تعلیم رہے ،ایک بیٹا حریت کانفرنس سکالر شپ پر ڈاکٹر بنا اور دوسرے نے مینجمنٹ میں ڈگری حاصل کی۔ جبکہ بیٹی نے لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور وہیں پریکٹس کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ 1992 سے اب تک شمیم شال نے دو سال تک ایک کالج میں تدریس کے فرائض سرانجام دیئے، اس کے علاوہ شال فیملی صرف ” تحریک آزادی کشمیر“ کے لئے کام کرتی رہی ہے۔

مذکورہ بالا تفصیل کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے شمیم شال کا کہنا تھا کہ ہم بھارتی پاسپورٹ پر ہی پاکستان آئے لیکن واپسی پر ہمیں جان کا خطرہ تھا اس لئے پاکستان میں ہی قیام کیا۔ ان کاکہنا تھا کہ پاکستان میں انہوں نے خواتین اور یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات سے فنڈز جمع کئے لیکن یہ فنڈز بھارتی مقبوضہ کشمیر کے بچوں کی تعلیم پر خرچ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سکول بھی بنانا چاہتی تھیں لیکن لندن منتقلی کے باعث سکول نہ بنا سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ لندن میں موجود جائیدادیں ان کی نہیں ہیں بلکہ ان کے بیٹوں کی ہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ آپ کے بچے اس قدر مہنگے سکولوںمیں زیر تعلیم تھے ،ان کے اخراجات کیسے پورے ہوئے، توان کا کہنا تھا کہ وہ دو سال تک ایک پرائیویٹ کالج میں پڑھاتی رہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ روڈ پر زمین اس لئے خریدی کیونکہ وہاں تمام کشمیریوں نے گھر بنائے تھے تاہم وہ یہ بتانے سے گریزاں رہیں کہ وہاں زمین خریدنے کیلئے رقم کہاں سے آئی۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: