فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز، طویل ترین لوڈشیڈنگ کے خلاف حکومت کو ایک ہفتہ کی ڈیڈ لائن

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر بھر میں بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ ختم کرنے اور فیول ایڈجسٹمنٹ قیمتوں سمیت دیگر ٹیکس فوری واپس لینے کےلئے انجمن تاجران نے حکومت کو ایک ہفتہ کی ڈیڈ لائن دیدی ہے۔ جس کے بعد احتجاج کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیرکی مرکزی انجمن تاجران کے صدر سردار افتخار فیروز نے کہا ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور تاجروں کا امتحان میں نہ ڈالا جائے۔ دیہی علاقوں میں بیس بیس گھنٹے جبکہ شہری علاقوں میں بارہ سے چودہ گھنٹے کی طویل ترین لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے جو سراسر ظلم ہے۔ اس صورتحال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، دوسری طرف بلات میں فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس کے نام پر ایک نیا غنڈہ ٹیکس لگا کر بلات بھیج دیئے گئے ہیں۔ پہلے سے ہی نیلم جہلم سرچارج سمیت دیگر کئی قسم کے سرچارج ، پی ٹی وی سے لیکر ایجوکیشن تک کے نام پر ٹیکسز اور سرچارج بجلی کے بلات میں شامل کر کے غریب عوام کو مشکلات میں ڈالا جا رہا ہے۔ پانچ ہزار کی بجلی استعمال کرنے پر تین ہزار سے زائد روپے ٹیکسز لگائے گئے ہیں۔ اوپر سے جو بجلی دی ہی نہیں جا رہی ، اس کے ہزاروں روپے کے بلات کسی صورت ادا نہیں کئے جا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے بائیس سے پچیس سو میگاواٹ کی بجلی پیدا ہو رہی ہے، آج اگست کے مہینے میں ڈیم پانی سے بھرے ہوئے ہیں اور اپنی پوری صلاحیت کے مطابق پیداوار کر رہے ہیں، اس سب کے باوجود اس خطے کی مجموعی ضرورت صرف چار سو میگاواٹ ہے اور وہ بھی اس خطے کے عوام کو نہیں دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس خطے سے پیدا ہونیوالی بجلی کی رائلٹی اور واٹر یوز چارجز دیگر صوبوں سے کئی گناہ کم ہیں۔ ڈیموں کے پاور سٹیشن دیگر صوبوں کی حدود میں لگا کر بجلی کی رائلٹی صوبوں کو دی جا رہی ہے۔ اس خطے کے لوگوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں سے بھی برا سلوک کیا جا رہا ہے، جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ پاور پلانٹس(آئی پی پیز) کے مالک سرمایہ داروں کو بجلی پیدا کئے بغیر اربوں روپے ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ انہیں حکومتی گارنٹیاں اورقرضے دیکر یہاں پاورپلانٹس لگانے کی سہولت دی گئی اور انکے ساتھ ایسے معاہدے کئے گئے کہ وہ بجلی پیداکریں یا نہ کریں حکومت انہیں 80فیصد پیداواری صلاحیت کے مطابق ادائیگیوں کی پابند ہوگی۔ یہی وہ گردشی قرضے ہیں جو ہر سال غریب عوام کا خون نچوڑ کر ان سرمایہ داروں کی جیبوں میں ڈالے جاتے ہیں۔ آج وہ بجلی کی پیداوار روکے بیٹھے ہیں اورشارٹ فال کا سارا بوجھ کشمیر ی عوام اور تاجروں پر ڈال کر حکمران اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں۔ یہ نا انصافی اور دہرا معیار کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر اگربجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ کیا گیا اور فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس سمیت تمام طرح کے غنڈہ ٹیکسوں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا تو ہم بھرپور احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہونگے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت اور واپڈا حکام پر عائد ہو گی۔ ہمیں ماضی کی تاریخ دہرانے پر مجبور نہ کیاجائے، اس بار اگر ہم نے کوئی سخت فیصلہ لیا تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہونگے، ہم نے بہت صبر کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے بعد تاجر برادری سے مشاورت کے بعدآئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔