پاکستانی کشمیر: ججز تقرری نظر ثانی اپیل پر 19اگست کو ابتدائی سماعت ہوگی، بار و بنچ مشکلات سے دوچار

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی عدالت العالیہ میں پانچ ججز کی تقرری سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل پر ابتدائی سماعت کل 19اگست 2020ءکو ہوگی۔ جس کے بعد اپیل کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ نظر ثانی کی اپیل کو مبینہ طور پر روکنے کےلئے وائس چیئرمین بار کونسل نے حکومتی وکیل راجہ محمد حنیف خان ایڈووکیٹ کا لائسنس معطل کر دیا گیا۔ جبکہ سترہ اگست کو نظر ثانی اپیل کی معیاد ختم ہونے کی آخری تاریخ تھی۔ اپیل دائر ہونے سے روکنے کےلئے مبینہ طور پر رجسٹرار اور ڈپٹی رجسٹرار عدالت عظمیٰ نے بھی رکاوٹ بننے کی کوشش کی اور وائس چیئرمین بار کونسل کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بھی پیش کر دی گئی ہے۔قائمقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تقرری کو چیلنج کرنے کی تیاریاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں۔ جس کے بعد پورے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے بارو بنچ کو تقسیم اور مشکلات کا سامنا ہے۔ اور سنگین عدالتی بحران پیدا ہونے کے خدشات جنم لے چکے ہیں۔

پیر سترہ اگست کو حکومتی وکیل راجہ محمد حنیف ایڈووکیٹ نے گزشتہ ماہ جولائی کی سترہ تاریخ کو عدالت عظمیٰ کی طرف سے کئے جانے والے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کی۔ اس فیصلہ میں عدالت العالیہ میں پانچ ججز کی تقرری کےلئے قانونی اور آئینی عمل مکمل نہ کئے جانے کو بنیاد بنا کر تقرریوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ تاہم پیر کو جب راجہ محمد حنیف ایڈووکیٹ نے نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کےلئے سپریم کورٹ میں حاضری دی تو انہیں یہ بتایا گیا کہ ان کا وکالت کا لائسنس وائس چیئرمین بار کونسل نے معطل کر دیا ہے۔لہٰذا وہ نظر ثانی کی اپیل دائر نہیں کر سکتے۔تاہم موقع پر ہی انہوں نے راجہ ابرار حسین ایڈووکیٹ اور چوہدری شوکت عزیز ایڈووکیٹ کو سپریم کورٹ میں بلانے کے بعد ڈپٹی رجسٹرارسپریم کورٹ کو بتایا کہ اپیل میں دیگر تین وکلاءکے دستخط بھی موجود ہیں۔ جن میں سابق وزیر حکومت سردار طاہر انور ایڈووکیٹ بھی شامل ہیں۔ اس لئے اس اپیل کو دائر کیا جائے۔ جس کے بعد اپیل دائر کرتے ہوئے انیس اگست کو ابتدائی سماعت کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

تاہم راجہ محمد حنیف ایڈووکیٹ کی جانب سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیاگیا کہ وائس چیئرمین بار کونسل نے انہیں نظر ثانی کی اپیل تیار کرنے سے روکنے کےلئے لائسنس معطل کرنے کی دھمکی دی۔ اس دھمکی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی نثر ثانی کی اپیل میں دیگر وکلائکو بھی شامل کیا گیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ جب نظر ثانی کی اپیل لےکر سپریم کورٹ پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کے رجسٹرار سپریم کورٹ چھٹی پر ہیں۔ جبکہ ڈپٹی رجسٹرار بھی نشست پر موجود نہ تھے۔ جس کے بعدانہوںنے جج سپریم کورٹ جسٹس مصطفی مغل کے چیمبر میں حاضری دیتے ہوئے انہیں آگاہ کیا کہ صدر ریاست اور ججز کی طرف سے نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کی آج آخری تاریخ ہے جبکہ سپریم کورٹ رجسٹری میں کوئی بھی موجود نہیں ہے۔ جس پر جسٹس مصطفی مغل نے کہاکہ کسی کلرک کے پاس چھوڑ جاﺅ۔ انکا کہنا تھا کہ وہ ڈپٹی رجسٹرار کے دفتر میں بیٹھ گئے، تھوڑے انتظار کے بعدجب ڈپٹی رجسٹرار محمد احتشام دفتر آئے تو انہوں نے ایک لفافہ کھول کر مجھے مطلع کیا کہ بار کونسل نے آپ کا لائسنس معطل کر دیا ہے۔ اس لئے یہ نظر ثانی اپیل دائر نہیں ہو سکتی۔ جس کے بعد میں نے دیگر وکلاءکو بھی بلایا اور انہیں بتایا کہ اس اپیل میں میرے علاوہ راجہ ابرار ، سردار طاہر انور اور چوہدری شوکت عزیز بھی وکیل مقرر ہیں۔ ان کے دستخط بھی تمام دستاویزات پر موجود ہیں۔ جس کے بعد محمد احتشام نے کسی کو فون کر کے ہدایات حاصل کیں اور پھر بتایا کہ جملہ کاغذات ضبط تحریر لا کر وہ انیس اگست کو نظر ثانی اپیل عدالت کے روبرو ابتدائی سماعت کےلئے پیش کر دیں گے۔

اپنے بیان میں راجہ محمد حنیف ایڈووکیٹ نے بتایا کہ بار کونسل ایکٹ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے تحت وائس چیئرمین کو وکلاءکے لائسنس کے اجراءاور ان کی معطلی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یہ اختیار سپریم کورٹ کی ڈسپلنری کمیٹی اور بار کونسل ٹربیونل کو حاصل ہے۔ جو جج سپریم کورٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔ تاہم اس مقصد کےلئے اس اعلیٰ ترین فورم کو اظہار وجوہ کا نوٹس دینا لازمی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وائس چیئرمین بار کونسل نے جان بوجھ کر بدنیتی سے نہ جانے کس کی ہدایت پر نظر ثانی کی اپیل کی دائری کے روز میرا لائسنس معطل کیا۔ لائسنس معطلی کے حکم سے پہلے نہ کوئی نوٹس دیا گیااور نہ ہی لائسنس معطلی سے متعلق اطلاع دی گئی۔ جبکہ ڈپٹی رجسٹرار سپریم کورٹ کے دفتر سے نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کے وقت یہ اطلاع ملی کہ انکا لائسنس معطل ہو چکا ہے۔

دوسری طرف سترہ اگست کو ہی پاکستانی زیر انتظا م جموں کشمیر کے بار کونسل سیکرٹریٹ سے سیکرٹری بار کونسل کے دستخط سے ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ جسے تیزی کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق راجہ محمد حنیف خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ مظفرآباد کے خلاف سردار محمد لطیف خان ایڈووکیٹ وغیرہ نے ان کی ایل ایل بی کی ڈگری جعلی ہونے کی بناءپر بار کونسل کے روبرو16جون 2020ءسے درخواست دائر کر رکھی ہے۔ جس پر راجہ محمد حنیف خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ مظفرآباد کو متعدد بار نوٹس جاری کئے گئے مگر وہ تردید میں کوئی ثبوت پیش کر سکے اور نہ ہی بار کونسل کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ اس طرح حسب ہدایت وائس چیئرمین بار کونسل چوہدری محمد الیاس ایڈووکیٹ راجہ محمد حنیف خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ مظفرآباد کا لائسنس برائے وکالت معطل کیا جاتا ہے۔وہ بحیثیت وکیل کسی بھی عدالت یا ٹربیونل میں پیش نہٰں ہو سکتے۔ اگر وہ اندر ایک ہفتہ ایل ایل بی کی اصل سند مہیا نہیں کرتے تو ان کے خلاف ایل ایل بی کی جعلی ڈگری رکھنے اور خود کو وکیل ظاہر کرنے کی بناءپر مزید کارروائی کی جائے گی۔

ایک اور خط گزشتہ روز سوشل میڈیا پروائرل کیاگیا ، جو ستائیس جولائی کے ڈی لاءایسوسی ایٹس کے سربراہ سردار کرم داد خان ایڈووکیٹ نے وائس چیئرمین بار کونسل کو تحریر کیا ہے۔ مذکورہ ختم میں بھی سردار کرم داد ایڈووکیٹ نے راجہ محمد حنیف خان ایڈووکیٹ کی ایل ایل بی کی ڈگری پر اعتراض کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ متعدد بار اس متعلق بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی سے رجوع کر چکے ہیں۔ لیکن راجہ محمد حنیف خان ایڈووکیٹ بااثر ہیں۔ وزیراعظم اور صدر کے قانونی مشیر ہیں۔ اعلیٰ حکام کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے آئینی اداروں کو اپنے رعب تلے رکھتے ہیں۔ ریکارڈ چیف جسٹس عدالت العالیہ نے محفوظ کر رکھا ہے، ان کی تعلیمی اسناد سے متعلق ریکارڈ نہ دیکر چیف جسٹس عدالت العالیہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ خط میں یہ بھی الزام عائد کیاگیا کہ عدلیہ، بار کونسل اور آئینی اور قانونی ادارے راجہ حنیف ایڈووکیٹ کے سامنے بے بس ہیں۔ انہوں نے خط میں یہ بھی تحریر کیا کہ انکی درخواست مسترد نہیں ہوئی جبکہ بار کونسل کے پاس بدستور زیر کار ہے، خط میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ یہ بار کونسل بھی مدت پوری کر لے گا ، سردار لطیف ایڈووکیٹ بھی انصاف حاصل نہیں کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ عدالت العالیہ میں پانچ ججز کی تقرری کا کیس پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے عدالتی نظام کےلئے ایک ایسی گلے کی ہڈی بن چکا ہے کہ جو گزشتہ دو سال سے اس خطے کی روایتی سیاست اور عدالتی سیاست کا محور و مرکز بنا ہوا ہے۔ مذکورہ تقرریوں کے باعث وکلاءدو گروپوں میں تقسیم ہیں۔ ججز کے مابین تقسیم کی کیفیت موجود ہے۔ایک ممبر اسمبلی کو توہین عدالت کے نوٹس جاری ہوئے۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ کی تقرری کالعدم قرار دے دی گئی۔ جبکہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ پر ڈگری جعلی ہونے سمیت دیگر الزامات عائد کئے جاتے رہے۔ عدالت العالیہ کی جانب سے چار ججز کی تقرری کو درست جبکہ ایک جج کی تقرری کو کالعدم قرار دیا گیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے پانچوں ججوں کی تقرری کو کالعدم قرار دے دیا۔ جس کے بعد حکومتی حلقوں کی جانب سے طاقتور حلقوں پر مداخلت کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے لیکن کسی نے کھل کر میڈیا پر اس سے متعلق بات نہیں کی۔ تاہم حکومتی حلقوں، وکلاءاور صحافتی حلقوں میں یہ بات زبان زد عام رہی کہ طاقتور حلقوں کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججز کو دباﺅ میں لا کر نہ صرف یہ فیصلہ تحریر کروایا بلکہ فیصلے سے قبل ہی دستخط شدہ نقل بھی وہ لیکر گئے۔ قائمقام چیف جسٹس کو مستقل چیف جسٹس سپریم کورٹ بنائے جانے کی یقین دہانی کو بھی فیصلہ کے پیچھے اہم محرک قرار دیا جاتا رہا۔ جبکہ دوسری جانب وکلاءکے ایک گروپ اوراپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ججوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

پیر کے روز سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف راجہ محمد حنیف ایڈووکیٹ نے دیگر وکلاءکے ہمراہ صدر ریاست اور برطرف کئے گئے ججوں کی جانب سے نظر ثانی کی اپیل دائر کرتے ہوئے موقع اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے صدر ریاست کی طرف سے پیش کردہ ریکارڈ کو یا تو درست طریقے سے پڑھانہیں یا پھر اس ریکارڈ کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ سنایا گیا ہے۔ 39صفحات پر مشتمل نظر ثانی کی اپیل میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ دوران بحث حکومتی وکلاءنے جو قانونی اورآئینی معروضات پیش کئے ان کو بھی فیصلہ میں نظر انداز کیا گیا۔ اپیل میں قانونی اور آئینی حوالوں کی ایک طویل فہرست بھی شامل کی گئی ہے۔

حکومتی وکیل اور قانون کے ماہر سمجھے جانے والے راجہ محمد حنیف ایڈووکیٹ کا لائسنس معطل کئے جانے کے عمل نے ججوں کے کیس کو مزید متنازعہ بنا دیا ہے۔ بار کونسل ذرائع کے مطابق کونسل کے ستائیس میں سے پندرہ سے زائد ممبران نے وائس چیئرمین بار کونسل کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کر دیئے ہیں۔ وکلاءکا الزام ہے کہ وائس چیئرمین بار کونسل چوہدری محمد الیاس ایڈووکیٹ سپریم کورٹ میں جج بننے کی کوشش میں ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مغائر ججز کیس میں پیش ہونے والے اہم ترین وکیل کا لائسنس معطل کر کے نظر ثانی کی اپیل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب قائمقام چیف جسٹس سپریم کورٹ راجہ سعید اکرم خان کی تقرری کو چیلنج کرنے کےلئے بھی رٹ پٹیشن کی تیاری بھی آخری مراحل میں ہے۔ جو کسی بھی وقت عدالت العالیہ میں دائر کر دی جائے گی۔ قائمقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کو نہ تو کسی چیف جسٹس کی طرف سے تجویز کیا گیا تھا اور نہ ہی وہ پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر کی کسی بھی عدالت میںبطور جج لگنے کی اہلیت اور قابلیت پر پورا اترتے تھے۔ ان سے متعلق ججز کیس کے فیصلہ میں بنچ میں ان کے ہمراہ شامل جج سپریم کورٹ نے ماضی میں بطور چیف جسٹس عدالت العالیہ یہ میڈیا کو بتا رکھا ہے کہ انہوں نے ایک روز بھی پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں بطور وکیل پریکٹس نہیں کی، اس لئے وہ اس خطے میں کسی بھی جج کے عہدہ کے اہل نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ گزشتہ تقریباً نو سال سے اس خطے کی سب سے بڑی عدالت میں بطور جج اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ جبکہ ایک ایسے کیس میں انہوں نے ججوں کی تقرری کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ سنایا ہے ۔ جس میں ججوں کی اہلیت اور قابلیت پر وہ کوئی اعتراض نہیں لگا سکے۔بلکہ انکی تقرری کےلئے مطلوبہ آئینی اور قانونی لوازمات کو پورا نہ کیا جانا انکی تقرری کالعدم قرار دیئے جانے کی وجہ قرار دیا گیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ججوں کی تقرری کے کیس نے پورے عدالتی نظام کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے ۔ انصاف اور آئین و قانون کی حکمرانی کےلئے قائم یہ اعلیٰ ترین ادارے آپس میں جس طرح دست و گریباں ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عدالتی نظام عام انسانوں کو انصاف فراہم کرنے کی اہلیت و صلاحیت سے عاری ہے۔ جہاں ججوں کی تقرری کو ایک سیاسی جنگ بناتے ہوئے جج، وکلائ،بار کونسل سمیت دیگر حکومتی ادارے اور بالادست طاقتیں آپس میں دست و گریباں ہوں ۔ وہاں عام آدمی کو انصاف فراہم کیا جانا کسی طور ممکن نہ ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ججوں کے اس کیس نے نہ صرف اس خطے کی سیاست کو مشکلات سے دو چار کر دیا ہے بلکہ بار و بنچ کو بھی شدید مشکلات سے دو چار کر دیا ہے۔ صورتحال اسی طور چلتی رہی تو شدید عدالتی اور آئینی بحران اس خطے کو مقدر بن جائے گا۔